بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پانامہ کیس ، ڈکلیئریشن اور نااہلی ایک ساتھ نہیں ہو سکتے،وکیل وزیراعظم

پانامہ کیس ، ڈکلیئریشن اور نااہلی ایک ساتھ نہیں ہو سکتے،وکیل وزیراعظم


اسلام آباد۔ سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی ، اگلی سماعت پر بھی وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔جمعہ کوسپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل پانچ رکنی بینچ نے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید احمد اور طارق اسد ایڈووکیٹ کی جانب سے وزیراعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کے افراد کی آف شور کمپنیوں کی تحقیقات کے لئے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔سماعت شروع ہوئی تو وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ وزیر اعظم کے خلاف آرٹیکل 62کے تحت نااہلی کیلئے عدالتی ڈکلیئریشن ضروری ہے۔

الیکشن کے بعد نااہلی کا معیار کم نہیں ہو سکتا۔ نااہلی کا معاملہ کاغذات نامزدگی کے وقت اٹھایا جا سکتا ہے۔انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے بعد کووارنٹو کی درخواست دائر ہو سکتی ہے اور جعلی ڈگری کے معاملات بھی ٹربیونل کی سطح پر طے ہوتے ہیں۔ڈگری جعلی اور اثاثے چھپانے پر نااہلی آرٹیکل 62کے تحت ہو سکتی ہے جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ آپ جن مقدمات کا حوالہ دے رہے ہیں وہ الیکشن کمیشن کیخلاف تھے۔انہوں نے وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جن مقدمات کا حوالہ دے رہے ہیں وہ ٹربیونل کیخلاف نہیں تھے۔مخدوم علی خان نے کہا کہ صدیق بلوچ کی نااہلی کا فیصلہ ٹربیونل سطح پر ہوا ، سپریم کورٹ نے ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا۔ اراکین اسمبلی کی نااہلی کیلئے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہوتی ہے۔

ٹربیونل نے صدیق بلوچ سے انگریزی کے مضمون کے بنیادی سوال پوچھے تھے۔وزیر اعظم کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ نے سوالات کی بنیاد پر نااہلی کو ختم کیا تھا اور دوبارہ الیکشن کا حکم دیا ۔ٹھوس شواہد کے بغیر نااہلی نہیں ہو سکتی ۔ وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ کیا مشرف کی نااہلی کا فیصلہ عدالتی فیصلوں کی روشنی میں ہوا تھا ؟ آرٹیکل 62ون ایف کے اطلاق کے بھی ضابطے موجود ہیں جس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ پرویز مشرف کیس میں ڈکلیئریشن سپریم کورٹ نے دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے وہ فیصلہ سندھ ہائیکورٹ بار کیس میں دیا تھا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عدالت نے اس فیصلے میں قرار دیا تھا کہ مشرف نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔ مخدوم علی خان نے دلائل دیے کہ نااہلی کیلئے پہلے ڈکلیئریشن ہونا ضروری ہے ، ڈکلیئریشن اور نااہلی ایک ساتھ نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے دوران سماعت جہانگیر ترین کے کیس کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ غلط بیانی اور جھوٹ کے تعین کیلئے بھی ضابطہ موجود ہے۔ وزیرا عظم کے قومی اسمبلی سے خطاب کو ماضی میں بھی چیلنج کیا گیا جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ یہ شاید وہی خطاب تھا جو وزیر اعظم نے دھرنے کے دوران کیا تھا۔مخدوم علی خان نے کہا کہ اس وقت بھی وزیر اعظم پر سچ نہ بولنے کا الزام عائد کیا گیا تھا ، سپیکر نے ڈکلیئریشن کے بغیر ریفرنس مسترد کر دیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ نے سپیکر کے فیصلے کو قانون کے مطابق قراردیا تھا۔ سپریم کورٹ نے بھی لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل کے بعد سپریم کورٹ نے مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔