بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / امید ہے کہ پانامہ لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ جلد آئے گا،سراج الحق

امید ہے کہ پانامہ لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ جلد آئے گا،سراج الحق

اسلام آباد۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ امید ہے کہ پانامہ لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ جلد آئے گا،اگر ملک میں آرٹیکل 62,63 پر عمل نہیں ہو گا تو پاکستان سے کرپشن کبھی ختم نہیں ہو گی، پانامہ لیکس کیس پاکستان کے 20 کروڑ عوام کو کرپشن سے نجات دلانے کا ایک موقع ہے، طلباء یونین پر پابندی سے ریٹائرڈ جرنیل اور جاگیردار سیاست میں آ رہے ہیں،پابندی کو ختم ہونا چاہیئے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ پانامہ لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ جلد آئے گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پانامہ لیکس کا فیصلہ نہ ہو بلکہ ملک میں کرپشن ختم کرنے کے لئے ایک روڈ میپ ہو، آج عدالت میں ساری کارروائی آرٹیکل 62 اور 63 کے حوالے سے ہوئی۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں اگر ملک میں آرٹیکل 62,63 پر عمل نہیں ہو گا تو پاکستان سے کرپشن کبھی ختم نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا کہ اگر پانامہ لیکس کی مزید تحقیقات کرنی ہوں تو کی جائیں۔ 20 کروڑ عوام سیاستدانوں اور اداروں کی کرپشن سے بے بس ہو گئے ہیں۔ ہر دن حکومت مزید دلدل میں پھنس رہی ہے یہ کیس عدالت کے لئے بھی امتحان اور اس کے ساتھ مدعا اور مدعا علیہ کا بھی امتحان ہے۔ پانامہ لیکس کا فیصلہ میرٹ پر آنا چاہئے۔ سپریم کورٹ کو اختیار ہے کہ وہ پانامہ لیکس میں پیش کئے گئے دستاویزات کی چھان بین کے لئے تمام اداروں سے مدد لیں اور سچ تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ پانامہ لیکس کیس میں سرکار کے بڑی تعداد میں وکلاء سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت کے لئے اس میں کافی پریشانی موجود ہے۔

ہمارا موقف ہے کہ پانامہ لیکس میں جتنے لوگوں کے بھی نام آئے ہیں ان سب کا احتساب ہونا چاہئے مگر سب سے پہلے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور ان کے خاندان کا احتساب ہو اس کے لئے اگر الٹرا ساؤنڈ، سٹی سکین کرانا پڑے تو کیا جائے اگر اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا تو دیگر لیبارٹریوں سے مدد لی جائے۔ پانامہ لیکس کیس پاکستان کے 20 کروڑ عوام کو کرپشن سے نجات دلانے کا ایک موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی کے سٹوڈنٹ یونین کی بحالی کے حوالے سے بیان کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔ طلباء یونین پر پابندی سے ریٹائرڈ جرنیل اور جاگیردار سیاست میں آ رہے ہیں جبکہ مڈل کلاس اور اصل نمائندے ایوان میں نہیں آ رہے۔ یوسف رضا گیلانی نے سٹوڈنٹ یونین کی بحالی کے حوالے سے وعدہ کیا تھا مگر وہ وفا نہ کر سکے۔ نوازشریف حکومت کو چاہئے کہ سٹوڈنٹ یونینز پر پابندی ہٹائیں۔ ایک سوال کہ سٹوڈنٹ یونین کی بحالی سے تعلیمی اداروں میں قتل عام اور لڑائی جھگڑے بڑھ جائیں گے پر سراج الحق نے کہا کہ سڑکوں پر ٹریفک حادثات ہوتے ہیں تو کیا ہم سڑکوں پر گاڑیاں چلانا بند کر دیں۔ اس لئے سٹوڈنٹ یونینز کو بحال ہونا چاہئے اور قانون پر مکمل عملدرآمد کر کے تعلیمی اداروں میں لڑائی جھگڑے ختم کئے جا سکتے ہیں۔