بریکنگ نیوز
Home / کالم / بیویوں سے ڈرنے والے اے آسماں نہیں ہم

بیویوں سے ڈرنے والے اے آسماں نہیں ہم

میں جب کبھی مردوں اور خصوصی طور پر خاوندوں کے حقوق کی بات کرتا ہوں‘ مردوں کا تذکرہ خصوصی طورپر اسلئے کر رہا ہوں کہ ان دنوں ممالک غیر میں ایک عجیب سلسلہ چل نکلا ہے کہ خاوند عورتیں بھی ہوتی ہیں یقین نہ آئے تو’’ نیو یارک ٹائمز‘‘ کے شادیوں کے صفحے پر حال ہی میں شادی شدہ ہونے والے ’ جوڑوں‘ کی تصویریں ملاحظہ کرلیجئے… جوڑے مردوں کے اور جوڑے عورتوں کے… البتہ ان تصویروں کے نیچے لکھے گئے ناموں کیساتھ یہ درج نہیں ہوتا کہ ان میں خاوند کون صاحبہ ہیں اور بیوی کون صاحب ہیں‘ قربت قیامت کی واضح نشانیاں ہیں صاحب… چنانچہ میں یہاں پرانے طرز کی ان شادیوں کی بات کررہا ہوں جن میں واضح طورپر مرد خاوند ہوتا ہے اور بیوی‘عورت ہی ہوتی ہے تو میں ایسے بظاہر مرد خاوندوں کے حقوق کی جب کبھی بات کرتا ہوں تو خواتین اپنے پالش شدہ لمبے ناخن جھاڑ کر میرے پیچھے پڑ جاتی ہیں کہ میں عورتوں پر ایک مردانہ برتری کا نقیب ہوں‘ حقوق نسواں کا مخالف ہوں لیکن میں چپ نہیں رہ سکتا کہ جمہوریت کی خوبصورتی ہی یہی ہے کہ عابد شیر علی‘ شیخ رشید کو کتورا کہیں اور عمران خان کے بیٹوں کے بارے میں شکوک کا اظہار کریں اور عمران خان‘ نہ صرف نواز شریف کو ایک جرائم پیشہ وزیر اعظم قراردیں اور خورشید شاہ کو ڈبل شاہ کے نام سے پکاریں… چنانچہ اسی جمہوریت کی آڑ میں‘ میں قطعی طورپر مزاح تخلیق کرنے کی کوشش نہیں کر رہا‘ حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ یہ قصہ سوفیصد سچ ہے اور اس کا کم از کم ایک گواہ موجود ہے‘ چوٹی زیریں میں جوکہ سابق صدر لغاری کا آبائی گاؤں ہے‘ جبکہ میں اب تو گمشدہ ڈاکٹر برمانی کا مہمان تھا‘ مجھ سے ملاقات کی خاطر ایک میاں بیوی چلے آئے اور ان میں سے کوئی ایک ڈاکٹر بھی تھا… وہ جو خاوند تھے انکے بازو پر پٹی بندھی ہوئی تھی…

وہ میری تحریروں کے بارے میں گفتگو کررہے تھے اور میری توجہ خاوند کے بازو پر بندھی پٹی پر بھٹکتی تھی‘ بالآخر میں نے پوچھا کہ حضور کوئی حادثہ ہوگیا تھا‘ نہایت لاپروائی سے کہنے لگے‘ جی ہاں ایک گھریلو حادثہ ہوگیا تھا بعدازاں مجھے بتایا گیا کہ خاوند شاید سرائکی ہیں اورانکی بیگم پنجاب کی ہیں اور شدید طورپر ایک دوسرے کے عشق میں مبتلا ہیں البتہ کبھی کبھار یونہی سرراہے بیگم جو ہیں انہیں زدوکوب کردیتی ہیں تو پچھلے دنوں ذرا زیادہ ہی زدوکوب ہوگیا جسکے نتیجے میں بازو کی ہڈی میں کوئی دراڑ آگئی اور پٹی باندھنے کی نوبت آگئی اور اسکے باوجود وہ دونوں ایک خوش وخرم جوڑا تھے… اس قصے میں غوروفکر کرنے والوں کیلئے خوشگوار عائلی زندگی کی بہت سی نشانیاں ہیں‘رہنما زدوکوب اصول ہیں .. . خاوندوں کے غصب شدہ حقوق کی بات کرتا ہوں… دوتین برس پیشتر میں نے نہایت سنجیدگی سے ’’ انجمن مظلوم خاونداں‘‘ بنانے کا اعلان کیا تھا اور ہر جانب ہاہاکار مچ گئی‘ کسی نے جمہوریت کے اس حسن کا پاس نہ کیا کہ آخر خاوند بھی تو تقریباً انسان ہوتے ہیں اور اگر جانوروں کے حقوق کیلئے باقاعدہ سرکاری طورپر ایک ’ بے رحمی‘ کا محکمہ ہو سکتا ہے جسکے تحت گھوڑوں اور گدھوں پر تشدد کرنے والوں کا چالان ہو سکتا ہے انہیں جرنامہ ہوسکتا ہے تو آخر خاوندوں پر جو ظلم وستم ڈھائے جاتے ہیں انکی پچھ پڑتیت کیوں نہیں کی جا سکتی اور ہاں یہ جو ہاہا کار مچ گئی تھی تو خواتین نے باقاعدہ گریہ کرتے ہوئے ہائے ہائے یہ نگوڑا کہاں سے آگیا کہ رونے روئے تھے… میری ٹریجڈی یہ ہے کہ میں اپنے تئیں ایک سنجیدہ کالم لکھتا ہوں کہ قارئین ہنس ہنس کر دوہرے ہو جاتے ہیں اور ان میں کچھ قارئین اتنے فربہ ہوتے ہیں کہ وہ دوہرے نہیں ہو سکتے اور دوہرے ہونے کی کوشش میں ریڑھ کی ہڈی کے موہرے کھسکا بیٹھتے ہیں۔

اور جب ایک سنجیدہ اور فکر انگیز کالم ضبط تحریر میں لانے کی بجائے ایک شگفتہ اور مزاحیہ کالم لکھتا ہوں تو لوگ اسے پڑھ کر دھاڑیں مارمار کر رونے لگتے ہیں‘ زبان پہ قدرت نہ ہو تو ہم ایسوں کی ایسی ہی درگت بنتی ہے… بہرطور میں ا ور ہاں وہ میں نے ’’ انجمن مظلوم خاونداں‘‘ کا جو ڈول ڈالا تھا اسکی تو لٹیا ہی ڈوب گئی‘ میں نے جب ان دوستوں کو اس انجمن کی ممبر شپ کی پیشکش کی جو دن رات اپنی بیویوں کی بدسلوکی اور ظلم کی داستانوں کا رونا روتے رہتے تھے تو وہ سب کے سب مکرگئے کہ نہیں نہیں وہ تو ہم یونہی مذاق کرتے تھے ورنہ میری بیوی تو میرے پاؤں دھودھوکر پیتی ہے… بلکہ میری بدبو دار جرابوں کو بھی دھودھوکر پیتی ہے… اتنی وفاشعار ہے کہ نہ مجھے گھر میں جھاڑو دینے پر مجبور کرتی ہے اور نہ ہی برتن دھلواتی ہے…کپڑے بھی استری نہیں کرواتی… البتہ بچوں کے پوتڑے میں ہی بدلتا اور دھوتا ہوں تو اس میں کیا قباحت ہے وہ میرے بھی تو بچے ہیں…ہم ابھی تک پوتڑوں سے ہی کام چلاتے ہیں کہ یہ جو جدید پوتڑے اہل مغرب نے’’ پیمپرز‘‘کی صورت میں ایجاد کئے ہیں یہ بھی پولیو کے قطروں کی مانند ہنودویہود کی ایک سازش ہیں اور پھر مہنگے بھی بہت ہیں‘ ہم لوگ اپنی پرانی اقدار کی نگہبانی کرتے ہوئے اب بھی پوتڑوں کا استعمال کرتے ہیں… پوتے دراصل پوتڑوں سے پیدا ہوتے ہیں…

’’ انجمن مظلوم خاوندان‘‘ کے تابوت میں آخری میخ میری اپنی ذاتی بیوی نے ٹھونک دی…کہنے لگی ’’مجھے اڑتی اڑتی سی ایک خبر ملی ہے زبانی طور کی کہ… تم کوئی ایسوسی ایشن بنا رہے ہو مظلوم خاوندوں کی …‘‘ اس نے صرف کہا نہیں گرج کر کہا…’’ نہیں تو… نہیں تو‘‘ میری تو گھگھی بندھ گئی‘ ایک بار بندھ گئی تو کھلنے کا نام نہ لیا’’ وہ تو پارک میں کچھ ناہنجار سے لوگ ہیں‘ بے راہرو اور بھٹکے ہوئے… بھلا میں ایسی جسارت کرسکتا ہوں… آج صفائی کرنے والی نہیں آئی تو گھر میں جھاڑو لگادوں؟‘‘
ویسے اگر اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ میں اپنی بیوی سے ڈرتا ہوں تو کیسی بدگمانی کا شکار ہیں… میں اکثر اندھیرا ہونے پر اسے بری طرح گھورتا رہتا ہوں… وہ اور لوگ ہوتے ہیں جو اپنی جورو کے غلام ہو جاتے ہیں…گھورتا ہوں اور بری طرح گھورتا ہوں صرف اندھیرے کا انتظارکرتا ہوں…’’بیویوں سے ڈرنے والے اے آسماں نہیں ہم…‘‘