بریکنگ نیوز
Home / کالم / پرائیوٹ میڈیکل کالجوں کے فلاحی بیڈز

پرائیوٹ میڈیکل کالجوں کے فلاحی بیڈز

سلمیٰ پینتیس سال کی خاتون ہے اسکے پانچ بچے ہیں سلمیٰ کا پیٹ پانچ زچگیوں کے بعد اپنی جگہ واپس نہ آسکا حمل اور زچگی کے دوران خواتین کی خوراک بہتر کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی اور یوں رفتہ رفتہ انکے اعضاء وقت سے پہلے بوڑھے ہونے لگتے ہیں ایک نئی جان کو تخلیق کیلئے زیادہ پروٹین کی ضرورت پڑتی ہے جو کہ زیادہ تر گوشت انڈے اور دودھ کی مصنوعات میں پائی جاتی ہے۔ غذا کی یہ اشیاء مہنگی بھی ہوتی ہیں اور لذیذ بھی ہمارے معاشرے میں مرد کو اہمیت دی جاتی ہے اور خواتین اور لڑکیاں غیر اہم افراد میں شمار ہوتی ہیں یوں کھانے پینے کے معاملے میں گھر کے مرد اور لڑکوں کو تقدم دیا جاتا ہے اور خواتین اور لڑکیوں کیلئے محض شوربا اور روٹی ہی رہ جاتی ہے اس طرح سے خواتین کی صحت گر جاتی ہے رہی سہی کسر حمل اور زچگی پورا کر دیتی ہے جب پیٹ کے عضلات کمزور پڑ جاتے ہیں توپیٹ لٹکنے لگتا ہے بعض اوقات پیٹ کے عضلات ایک دوسرے سے دور ہٹ جاتے ہیں اور درمیان میں ہرنیا کی طرح ساری آنتیں جلد کے نیچے لٹک جاتی ہیں اگر اس پر وزن کا اضافہ بھی ہوجائے جو کہ گندم، جوار اور چاول ہی سے زیادہ بڑھتا ہے، تو خاتون بے ڈول ہوجاتی ہے اگر یہ خواتین اپنے خوراک میں پروٹین زیادہ لیں اور زچگی کے دوران بالعموم اور زچگی کے بعد بالخصوص ورزش کرنا شروع کردیں تو پیٹ سڈول کا سڈول رہ جاتا ہے۔

یوں سلمیٰ میرے کلینک میں داخل ہوئی تو شرماتے ہوئے اپنے پیٹ کے لٹکنے کی شکایت کی۔ پلاسٹک سرجری میں اسکا بہت اچھا طریقہ موجود ہے جسے ایبڈامینو پلاسٹی (Abdominoplasty) یا ٹمی ٹک(Tummy Tuck) کہا جاتا ہے۔یہ بڑا آپریشن ہے لیکن اس سے پیٹ واپس اپنے سڈول شکل میں آجاتا ہے اگر باقی وزن زیادہ بھی ہو تو اس آپریشن کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ خواتین کو چلنا پھرنا اور ورزش کرنا آسان ہوجاتا ہے اس آپریشن پر دو سے تین گھنٹے لگتے ہیں سلمیٰ کو میں نے اِس آپریشن کے بارے میں بتایا لیکن اس مہنگے ہسپتال میں اس پر ڈیڑھ سے ڈھائی لاکھ روپے تک کا خرچ آتا ہے جو کہ سلمیٰ کی برداشت سے باہر تھا اس پر میں نے ان کو اپنے ہسپتال کے فلاحی بیڈز کے بارے میں بتایا در اصل ہمارے ہسپتال کیساتھ ایک نیا میڈیکل کالج بھی بن رہا ہے اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے تمام پرائیویٹ میڈیکل کالجوں پر پابندی عائد کی ہے کہ کم از کم پچاس فیصد بیڈز بلامنافع رکھیں گے ان مریضوں کو میڈیکل سٹوڈنٹس کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور یہی میڈیکل سٹوڈنٹس فارغ ہوکر تربیت یافتہ ڈاکٹر بنتے ہیں اس سے یہ مراد نہ لی جائے کہ ان مریضوں کا علاج بھی میڈیکل سٹوڈنٹس کرتے ہیں علاج وہی ہوتا ہے جو مستند کنسلٹنٹ کرتے ہیں، محض طلبہ کو ساتھ ساتھ اس علاج کے بارے میں پڑھایاجاتا ہے سلمیٰ ہنسی خوشی اس علاج اور ہسپتال کے ان فلاحی بیڈز پر لیٹنے کیلئے تیار ہوگئی دو دن بعد جب سلمیٰ ہسپتال سے ڈسچارج ہوئی تو اسکا پورا بل محض بارہ ہزار روپے آیا تھاظاہر ہے اس میں میں نے اپنی فیس اور انستیٹھست نے اپنی فیس معاف کردی تھی۔

اسوقت پاکستان میں رجسٹرڈ چھیانوے میڈیکل کالج ہیں جن میں پچپن پرائیویٹ ہیں پی ایم ڈی سی نے یہ شرط عائد کی ہے کہ ان میڈیکل کالجوں کیساتھ منسلک ہسپتالوں کے کم از کم پچاس فیصد بیڈز پر مریضوں سے علاج پر نفع نہ لیا جائے۔ کے پی میں انیس میڈیکل کالج پرائیویٹ ہیں ان میں سے فی کالج پانچ سو بیڈز کا ہسپتال گِنا جائے تو فلاحی بیڈز کا اوسط تقریباًپانچ ہزار بیڈز بنتے ہیں۔ پشاور میں پچھلے بیس سال سے حکومت نے کوئی نیا بڑا اور ٹیچنگ ہسپتال نہیں بنایا تاہم اسی شہر میں چھ پرائیویٹ میڈیکل کالج بنے ہیں اگر یہ سارے کالج نیک نیتی سے مقررہ بیڈز پر مریضوں کا علاج بلامنافع کریں توگویا ڈیڑھ ہزار بیڈز کا نیا ہسپتال میسر آجائیگا تمام پرائیویٹ کالج چونکہ کمائی کیلئے ہی بنائے گئے ہیں اسلئے ان کالجوں کے مالکان کوشش کرتے ہیں کہ ایسے مریضوں کے داخلے کی حوصلہ شکنی کی جائے اگر عوام کو یہ ذریعہ میڈیا کے ذریعے بتایا جائے تو بہت سوں کا بھلا ہوگایہ پرائیویٹ میڈیکل کالج کروڑوں روپے سے بنتے ہیں اور انکے ہسپتالوں کا معیاربھی اچھا ہونا چاہئے۔ پی ایم ڈی سی اپنے طور سے کوشش کررہی ہے کہ ان فلاحی بیڈز اور دوسرے پرائیویٹ بیڈز پر موجود مریضوں کے علاج میں کوئی فرق نہ ہو اگر پی ایم ڈی سی اس میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ پاکستان کے عوام کیلئے ایک نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہوگا۔ بنیادی طور پر کوئی بھی ہسپتال جب ٹیچنگ کی حیثیت سے رجسٹر ہوتا ہے تو اسکی تشخیص‘ علاج‘ ایکسرے‘ لیبارٹری وغیرہ کا معیار انٹر نیشنل معیار پر پورا اترنا لازم ہوجاتا ہے۔

اس لئے ہمیشہ ٹیچنگ ہسپتال اور عام ہسپتال کے علاج میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے اسکی مثال ہمارے صوبے میں قائم ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال ہیں۔ حکومت کیلئے پشاور کے علاوہ دوسرے اضلاع میں میڈیکل کالج کھولنے کا سب سے بڑا فائدہ ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کو ٹیچنگ کی حیثیت دینا ہے۔ مردان، بنوں ، کوہاٹ، سوات اور ڈی آئی خان کے میڈیکل کالج کھلنے سے وہی ڈسٹرکٹ ہسپتال ٹیچنگ ہسپتال بن گئے اور یک دم مریضوں کو میسر سہولتوں میں بہتری آنی شروع ہوگئی۔ ٹیچنگ ہسپتالوں میں مریضوں کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے، انفیکشن کنٹرول کا نظام ہوتا ہے ہر ماہ ہر وارڈ اپنا کلینیکل آڈٹ کرتا ہے۔ کسی بھی علاج پر تحقیق ہوتی ہے اور نہ صرف ساتھی پروفیسروں کے درمیان بحث مباحثہ ہوتا ہے بلکہ طلبہ بھی نئی تحقیق کی روشنی میں مریض کے علاج پر انگلی اٹھاسکتے ہیں اس طرح سے عوام کو اپنی دہلیز پر مناسب علاج ملنے لگتا ہے۔ عوام کو اپنے حقوق کی آگاہی ہوگی تو حکومت کی جاری کردہ سہولتوں سے فائدہ اٹھاسکیں گے۔ پشاور اور ایبٹ آباد میں کئی پرائیویٹ میڈیکل کالج ہیں اور ان سے منسلک ہسپتالوں سے بلاتاخیر فائدہ اُٹھانا چاہئے جو میڈیکل کالج اپنے ٹیچنگ ہسپتال سے مناسب فیس پر علاج معالجے کی سہولت فراہم نہ کرے عوام کو بلاتاخیر انکے بارے میں پی ایم ڈی سی کو شکایت کرنی چاہئے۔