بریکنگ نیوز
Home / کالم / طلبہ یونین پر قانون سازی کا فیصلہ

طلبہ یونین پر قانون سازی کا فیصلہ


چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی طلبہ یونین کے حوالے سے بنائی گئی سینٹ کی فل ہاؤس کمیٹی کے ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سینٹ سیکرٹریٹ کو طلبہ یونین کی بحالی کے ضمن میں ضروری قانون سازی پر مبنی قرارداد سینٹ میں پیش کرنے کی رولنگ دے کر چاروں صوبوں کے لاکھوں طلبہ وطالبات کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں مذکورہ اجلاس میں سینٹ کی طلبہ یونین کے حوالے سے بنائی گئی فل ہاؤس کمیٹی نے اپنی تفصیلی رپورٹ اور سفارشات پیش کیں جن پر طویل غوروخوض اور بحث کے بعد 1993 میں سپریم کورٹ کی پابندی کی روشنی میں ضروری قانون سازی کا فیصلہ کیاگیا واضح رہے کہ طلبہ یونین کے ایشو پر مختلف حلقوں کی جانب سے وقتاً فوقتاً آوازیں اٹھتی رہی ہیں اور حیران کن امر یہ ہے کہ ملک کی شاید کوئی ایک بھی ایسی سیاسی جماعت نہیں ہے جو اس کے حق میں نہیں ہے لیکن بدقسمتی سے جب ہماری سیاسی جماعتیں برسراقتدار آ جاتی ہیں تو وہ اپنے وعدوں کو پس پشت ڈال دیتی ہیں ان ہی وعدوں میں ایک اہم وعدہ طلبہ یونین کی بحالی کا بھی ہے طلبہ یونین کی بحالی کے حوالے سے ہمیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ یہ وہ فورم ہے جہاں سے نہ صرف ملک کو باصلاحیت اور نیچرل قیادت ملتی ہے بلکہ یہاں جمہوری طرز عمل اوربرداشت جیسی قائدانہ صلاحیتیں بھی پروان چڑھتی ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک کے علاوہ اکثر ترقی پذیر ممالک میں بھی طلبہ یونین کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں بھارت میں نہ صرف طلبہ یونین کے انتخابات باقاعدگی سے ہوتے ہیں بلکہ ان یونینز میں مختلف عہدوں پر فائز رہنے والے طلبہ رہنما ملک کی تینوں جماعتوں کانگریس ، بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست میں نمایاں کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔خود ہمارے ہاں بھی جب طلبہ یونینز بحال تھیں تو ان کے توسط سے مختلف سیاسی جماعتوں کو اہل اور نسبتاً دیانتدار قیادت ملتی رہی ہے‘یاد رہے کہ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی،خواجہ سعد رفیق‘ احسن اقبال‘ ڈاکٹر فاروق ستار،سراج الحق ‘لیاقت بلوچ، میاں افتخار حسین ‘سردار حسین بابک،انیسہ زیب طاہرخیلی،ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ اور کئی دیگر ایسے سرکردہ سیاسی رہنماؤں کی سیاسی تربیت طلبہ یونینز کے پلیٹ فارم سے ہوئی ہے ماضی میں وطن عزیز پر جب بھی کڑا وقت آیا طلبہ یونینز نے ان مواقع پر قوم کی رہنما ئی کا فریضہ انجام دیا ذوالفقار علی بھٹو نے نوجوانوں کو ملکی معاملات میں ایک اہم سٹیک ہولڈر تسلیم کرتے ہوئے 1975میں ایک ایسا قانون منظورکیا جس میں نہ صرف طلبہ یونینز کو آئینی اور قانونی حیثیت دی گئی بلکہ ان منتخب یونینوں کے اختیارات میں اضافہ کرتے ہوئے ان کے نمائندوں کو جامعات کے اہم فیصلہ ساز اداروں سینڈیکیٹ اور سینٹ میں بھی نمائندگی دی گئی۔

ہمارے ہاں طلبہ یونین پر ایوبی آمریت کے بعد دوسری مرتبہ پابندی 1984 میں جنرل ضیا ء الحق کے مارشل لاء میں لگائی گئی بعدازاں 1984 ہی میں جنرل ضیاء حکومت نے جامعات کے وائس چانسلرز اور کالجز کے پرنسپلز کی نگرانی میں طلبہ سوسائٹیز بنانے کی کوشش کی لیکن طلبہ نے اس میں دلچسپی نہیں لی اور انکو مسترد کر دیا دسمبر1988میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے پہلی دفعہ وزیر اعظم بننے کے بعد طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کیا ۔ اس فیصلے کی روشنی میں ملک کے بعض حصوں میں تو طلبہ یونین کے الیکشن ہوئے لیکن پورے ملک میں نہ ہو سکے ۔ 1992 میں سپریم کورٹ نے طلبہ یونین پر پابندی کا فیصلہ سنایا جس کے خلاف اسلامی جمعیت طلبہ نے نظرثانی کی اپیل دائر کی جس پر مارچ 1993 میں اس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس محمد افضل ظلہ کی سربراہی میں ایک تین رکنی بنچ نے سٹوڈنٹس یونین کی بحالی کا اصولی فیصلہ توکردیاتھا لیکن اس بحالی کوچونکہ کئی کڑی شرائط کیساتھ مشروط کیا گیا تھا اسلئے بعد میں کسی بھی حکومت نے طلبہ یونین کے انتخابات کی زحمت گوارہ نہیں کی البتہ مارچ2008 میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان توکردیا لیکن انہیں بھی اپنے اس اعلان پر عمل درآمد کی توفیق نہ ہو سکی حرف آخر یہ کہ ہمارے ہاں اب جب جمہوریت جڑ پکڑتی جا رہی ہے تو ایسے میں طلبہ یونین کی افادیت اور ضرورت بھی مزید بڑھتی جا رہی ہے لہٰذاہم ملک کے لاکھوں طلبہ وطالبات کو جمہوریت کے استحکام کے سفر میں اگر ایک اہم سٹیک ہولڈر سمجھتے ہیں تو ہمیں بلاتاخیر انکو ان کا یہ بنیادی جمہوری اور آئینی حق دینے میں کسی لیت ولعل سے کام نہیں لیناچاہئے۔