بریکنگ نیوز
Home / کالم / تکلیف دہ جدائی

تکلیف دہ جدائی

یہ ایک مانا ہو اسچ ہے کہ جدائی ایک لازمی امر ہے۔ جس روح کو اس دنیا میں بھیجا گیا ہے اس نے ایک دن ساتھیوں سے جدا ہونا ہے وہ بچپن میں جدا ہو جائے یا جوانی میں داغ مفارقت دے جائے یا بڑھاپے کے عذاب سہہ کر جائے بہر حال ایک دن جانا ہوتا ہے یہی ازل سے ہوتا آیا ہے اور ابد تک جاری رہے گااور جو شخص اس طرح سے بچھڑتا ہے اس کو اس کے چاہنے والے کچھ عرصہ یاد رکھتے ہیں اور پھر دنیا کے دھندے ہی ایسے ہیں کہ ایک دن جانیوالا سب کے ذہنوں سے اتر جاتا ہے ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ آج مرا کل دوسرا دن یعنی پہلے دن والا دکھ دوسرے دن نہیں رہتا بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جن کا دکھ سالوں تک رہتا ہے یا وہ سالوں تک یاد رہتے ہیں یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو انسانیت کے لئے کوئی ایسا کام کر جاتے ہیں کہ وہ لوگوں کو تا دیر کی یاد رہتے ہیں مگر ہمارے جیسے عام انسان بہت کم عرصے کے لئے اپنے دوستوں رشتہ داروں کی یادوں میں رہتے ہیں اور پھر ہر کوئی بھول کر اپنے دھندوں میں لگ جاتا ہے لیکن ایک جدائی ایسی ہوتی ہے کہ بچھڑنے والا پیچھے رہنے والوں کے لئے ایک مستقل یاد چھوڑ دیتا ہے اور جن سے بچھڑتا ہے وہ نہ زندہ رہنے کے قابل رہتے ہیں اور نہ مرتے ہیں ہم چھوٹے تھے تو ہمارے ہاں اگر کوئی نوجوان گھر والوں سے جھگڑتا تھا تو وہ کراچی بھاگ جایا کرتا تھا کراچی میں کیونکہ ہمارے بہت سے لوگ رہتے ہیں اسلئے چند دنوں بعد اس کے خبر آ جایا کرتی تھی کہ وہ بخیریت کراچی پہنچ گیا ہے اور فلاں آدمی کے ساتھ رہ رہا ہے بعض کو کرایہ بھیج کر واپس منگوا لیا جاتا تھا اور بعض اپنا ٹھکانہ وہیں بنا لیتے تھے ۔

اس طرح کے کئی خاندان کراچی میںآباد ہیں کہ جن کو آج کوئی یاد بھی نہیں کرتا کہ وہ کبھی ہمارے ساتھی تھے مگر وہ نوجوان جو گھر سے بھاگے اور پھر ان کا کوئی اتا پتہ نہیں چلا ان کے ماں باپ مرتے دم تک انہیں یاد کرتے رہے اس لئے کہتے ہیں کہ مرے کا صبر تو آ جاتا ہے مگر کھوئے کا صبر آنا مشکل ہوتا ہے جب سے ہم ایک بے کار کی جنگ میں ملوث ہوئے ہیں ہمارے ہاں گم شدگان کا مسئلہ بہت زیادہ ہو گیا ہے ان میں بھی دو طرح کے لوگ ہیں ایک کراچی سے گم شدگان ہیں جو یا تو اپنے کرتوتوں کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور ادارے اُن سے خفیہ تفتیش کرتے ہیں ان کو کئی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کیا جاتا کہ تفتیش پر کوئی بڑا اثر انداز نہ ہو سکے۔اس لئے کہ دیکھا گیا ہے کہ جو آدمی بھی اس طرح پکڑا گیا یا اٹھایا گیا تو معلوم ہونے پر حکومت کے بڑے لوگ اداروں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں کہ انہوں نے بے قصور لوگوں کو پکڑ رکھا ہے تو بعض اوقات تفتیش درمیان میں ہی رہ جاتی ہے اور بندے کو عدالت میں لانا پڑتا ہے اور عدالتیں جو ثبوت مانگتی ہیں یا جو گواہ مانگتی ہیں وہ مہیا نہیں ہو پاتے پس ملزموں کو رہا کرنا پڑ جاتا ہے اور پھر ایسے کام کرنے والے اپنے مقتلوں میں اضافہ کرتے رہتے ہیں یا کوئی شخص گینگ والوں کے ہاتھ لگ کر غائب ہوا اس لئے کہ وہ گینگ کی جاسوسی میں ملوث تھا تو اس کی لاش کسی سڑک پر پڑی مل گئی۔

کچھ لوگ ہندوستان میں را سے ٹریننگ لینے گئے اور یہاں والوں نے اُن کو مسنگ پرسنز میں شامل کر لیا۔اسی طرح بلوچستان میں ہوا کہ کچھ لوگ فراریوں سے مل کر غائب ہوئے اور کچھ فراریوں نے اغوا کر کے یا تو اپنے ساتھ ملا لئے یا انکی لاشیں کسی چوراہے میں پڑی مل گئیں۔بلوچستان میں تو یہ کام بڑی حد تک ختم ہو چکا ہے اس لئے کہ موجودہ بلوچستان حکومت نے ایسے اقدام اٹھائے کہ بہت سے فراریوں نے ہتھیا ر پھینک دیئے اور سی پیک پرکا م جاری ہونے سے بلوچ نوجوانوں کو نوکریاں بھی مل رہی ہیں اس لئے فراریوں میں بھی کمی آ گئی ہے اور وہاں سے لوگوں کا اٹھایا جانا بھی بہت حد تک کم ہو گیا ہے۔ دوسرے بلوچی نوجوانوں کو باور کروایا گیاہے کہ حکومت انکی اپنی ہے اور پاکستان بھی ان کا اپنا ہے اسلئے وہ اب قومی دھارے میں تیزی سے آ رہے ہیں۔مسنگ پرسنز کا قضیہ اب نمٹ رہا ہے لیکن سچ ہے کہ پیاروں کی جدائی بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔