بریکنگ نیوز
Home / کالم / موم پگھلاتا رہا تیرا خیال

موم پگھلاتا رہا تیرا خیال


وہ ایک خوبصورت لکھاری تھی عمدہ افسانہ لکھتی تھی‘زندگی میں گندھی ہوئی نظمیں بنتی تھی اور اس کے لکھے ہوئے فیچرز تو اخبارات اور رسائل کی جان ہواکرتے تھے وہ بیک وقت شاعرہ ‘افسانہ نگار‘کالم نگار اور فیچر نگار تھی اسکی تحریروں کا بنیادی موضوع مردوں کی طرف سے خواتین کا استحصال تھاصرف تحریروں میں ہی نہیں وہ ہر فورم پر مردوں کے غیر مناسب رویے کیخلاف احتجاج کرتی دکھائی دیتی تھی میری اس سے پہلی ملاقات ایک ادبی ورکشاپ میں ہوئی تھی اس ورکشاپ کا انعقاد یونیسکوکے زیر اہتمام لاہور میں ہوا تھاجس میں پاکستان بھر سے نئے قلمکاروں کو مدعو کیا گیا تھا ‘ پشاور سے اگرچہ ہم بہت سے دوستوں نے فارم بھر کر بھیجے تھے لیکن یہ قرعہ فال میرے نام نکلا تھا ، 1980 کی مئی کی پہلی تاریخ تھی جب اس ورکشاپ کا آغاز ہوا تھاافتتاحی اجلاس میں ہی میں نے بہت سے قلمکاروں کو پہلی بار قریب سے دیکھا تھاکرنل شفیق الرحمن‘منوبھائی‘ذوالفقار تابش ‘رحیم گل‘ کشور ناہید‘انتظار حسین ‘امجد اسلام امجد‘یوسف کامران اور بہت سے نئے لکھاریوں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں جن میں نصیر مرزا‘طارق اسماعیل ساگر‘مشہود علی ‘ریحانہ مغنی‘شہنازاور دوسرے شامل تھے ۔ دو دن تک تو یہ ملاقاتیں رسمی سی تھیں اور سلام دعا تک ہی محدود تھیں ہم لاہور ہوٹل میں ٹھہرائے گئے تھے ورکشاپ کے بعد سب اپنے اپنے کمرے میں ہی رہتے البتہ تیسرے دن پہلے سیشن سے پہلے منو بھائی میرے پاس آئے مجھے ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے کہ اب تک تین سیشن ہو گئے ہیں سارے شرکاء سوال جواب کے سیشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ،سوالات کرتے ہیں مگر ابھی تک آپ نے کوئی ایک سوال یا استفسار نہیں کیاہم نے پشاور کے سات لوگوں میں سے آپ کا انتخاب کیا ہے آپ کی خاموشی مناسب نہیں اگر اردو بولنے سے کوئی الجھن ہے تو اس کی فکر نہ کریں سب ٹھیک ہو جائیگا۔

میں نے کہا جناب الجھن یہ نہیں کہ میں اردو میں بات نہیں کرسکتا الجھن یہ ہے کہ جو فاضل مقررین لیکچر دیتے ہیں وہ بہت بنیادی باتیں کرتے ہیں جنکو محض ثواب کے لئے سنا تو جاسکتا ہے اس پر بات نہیں کی جاسکتی اور اگر بات کی جائے تو شاید پھر صورتحال کن فرنٹیشن(ٹکراؤ) والی ہو جائے اسلئے چپ ہوں منو بھائی بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے جناب یہی تو ہم چاہتے ہیں تا کہ یہ سیشن زیادہ جاندار اور شاندار ہو جائے اس دن کا پہلا سیشن ڈرامہ پر تھا اور مقرر تھے اشفاق احمد اچھا لیکچر دیا ،سوال جواب کے سیشن میں بعض شرکاء کے سوالوں کے جوابات بھی عمدگی سے دئیے منو بھائی کنڈکٹ کر رہے تھے انہوں نے مجھے دیکھا میں نے کھڑے ہو کر انکے لیکچر کی بجائے انکے ڈراموں کے حوالے سے چند باتیں کیں اور بعض کرداروں کے رویے سے نئی نسل پر مرتب ہونیوالے انکے اثرات پر کچھ سوال اٹھائے وہی ہوا جسکا مجھے خدشہ تھابحث طول پکڑ گئی اور انہوں نے کہا کہ جس نسل کی تربیت کیلئے میں کوشاں ہوں اسے میرے خلاف کھڑا کیا جارہا ہے شرکا میں سے کچھ دوستوں نے میری گفتگو کو نہ صرف پسند نہ کیا بلکہ اپنے اپنے طور پر میرے سوالات کوغیر متعلقہ اور بے معنی بھی قرار دیا لیکن ایک تومنو بھائی خوش ہوئے، دوسرے چائے کی میز پر ایک چھوئی موئی سے نوجوان لڑکی میرے پاس آئی اور ہاتھ ملا کر کہا ‘سید خوش کردیا۔میرا نام رخسانہ آرزوہے۔ میں نے کہا میں جانتا ہوں میں نے آپکا رسالہ ’’آنسہ‘‘دیکھا اور آپکے فیچر پڑھے ہیں، بہت خوش ہوئی مگر کہنے لگی اب میں نے جنگ بھی جوائن کر لیا ہے اس وقت وہ بمشکل بائیس تئیس برس کی رہی ہو گی اسی شام وہ اور منو بھائی لاہور ہوٹل آئے، ہم سب دوست پہلے لابی میں پھر میرے کمرے میں رات گئے تک ادب کے اطراف میں گفتگو کرتے رہے، جی بھر کے منو بھائی کی شاعری سنی،رخسانہ نے اپنی آزاد اور نثری نظمیں سنائیں جنکے موضوعات زندگی کی سفاک سچائیوں کے گرد گھومتے تھے پھر اس نے دعوت دی کہ کل آپ میرے ساتھ ورکشاپ کے بعد حلقہ ارباب ذوق لاہورکے تنقیدی اجلاس پر چلیں وہاں میں تنقید کیلئے اپنا افسانہ پیش کرونگی میں نے حامی بھر لی اور اگلی شام میں رکشہ میں اسکے ساتھ حلقہ کے اجلاس گیا۔

جہاں علامہ سراج منیر‘ مستنصر حسین تارڑاور دوسرے دوستوں سے اس نے مجھے ملوایاخوب اجلاس تھا اچھی بحث ہوئی میں نے بھی اپنا حصہ ڈالا اسکے بعد جتنے دن ورکشاپ جاری رہی وہ باقاعدگی سے شہر کی ادبی تقریبات میں مجھے ساتھ لے جاتی رہی بہت مزے کے شب و روز تھے میں جو اکیلا ہونے کی وجہ سے پشاور واپس آنے کا سوچ رہا تھا اب سوچ رہا تھا کہ واپسی کا دن جلد کیوں آ گیا مجھے اس نے ہی یہ خوش خبری سنائی تھی کہ اختتامی سیشن میں ورکشاپ کے شرکاء کی نمائندگی مجھے کرناہو گی یہ ایک بڑا اعزاز تھا اس شخص کیلئے جو شروع کے دو دن خاموش رہا تھا ، خیر کٹھی میٹھی یادوں کیساتھ ورکشاپ ختم ہوگئی سب اپنے اپنے شہروں کو لوٹ گئے اور زندگی معمول کے مطابق دوڑنے لگی میری ڈائری میں بہت سے احباب نے بچھڑتے وقت اشعار، کمنٹس اور تاثرات لکھے تھے، حیدر آباد کے نصیر مرزا نے لکھا تھا ہر وقت ہنسنے اور ہمیں ہنسانے والے ناصر کیا رونے کے موسموں میں آپ کا کندھا میسر آئے گا۔ رخسانہ آرزو نے ایک عمدہ نظم لکھی تھی،جب وقت کا فرعون بیٹوں کی بجائے بیٹیوں کے پیدا ہوتے ہی قتل کا حکم دے گا۔ کچھ عرصہ تک رخسانہ کے خطوط آتے رہے، ان دنوں اس کے والد بیمار تھے ان کا ذکر کرتے کرتے وہ جذباتی ہو جاتی مگر جلد ہی تحریر کا رخ ادب کی طرف مڑ جاتا،وہ ادیبوں شاعروں کے دو دو چہروں پر بہت کڑھتی انکی مصلحتوں اور منا فقتوں کا مذاق اڑاتی،اسکی نظمیں اور افسانے مردوں کے عمومی رویوں کے خلاف ایک احتجاج کی فضا میں پروان چڑھتے رہے، اس نے مجھے کئی بار لکھا کہ یہ تھکے ہوئے لوگوں کی دنیا ہے جنکے کاندھوں سے شکایتوں کے تھیلے لٹکے ہوئے ہیں ۔

اسکے خطوط آتے آتے کم ہوتے گئے آخر کب تک وہ بھی یک طرفہ خط و کتابت کا بار اٹھائے رکھتی اور پھر دیر تک کوئی خبر نہ ملی کوئی کوئی اس کا کالم،ڈرامہ دیکھنے کو یا فیچر پڑھنے کو ملتا تو خوش ہو جاتا پھر چار سال بعد پتہ چلا کہ اسکی فلمساز سید نور سے شادی ہو گئی اور وہ رخسانہ نور بن کرشوبز کی دنیا کا ایک روشن ستارہ بن گئی اس کے ڈرامے اس کے کالم اور اس سے بڑھ کر اسکے گیت بہت مقبول ہوئے اسکی کہانیوں پر مبنی فلمیں ہٹ ہو نے لگیں،زندگی کا یہ رخ بہت خوبصورت تھا مگر جلد ہی اسے نظر لگ گئی اور سید نور کی زندگی میں ایک اور خاتون آگئی یہ دن اس کے لئے تکلیف دہ تھے مگر اس نے بہادری اور صبر کے ساتھ تمام توجہ اپنی تین بیٹیوں اور ایک بیٹے پر مر کوز کر دی خود سے بے نیاز ہو گئی جس کی وجہ سے ایک مہلک بیماری نے اسکے اندر ڈیرے ڈال دئیے ۔ جب تک اسے علم ہوتا تب تک دیر ہو چکی تھی (ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے)جس سے وہ بہادری سے لڑتی رہی، دو سال قبل جب میں الحمرا کانفرنس میں کوئی تیس برس بعد اسے ملا تھا تو اسکی زندگی میں ایک ٹھہراؤ آ چکا تھا اس نے ادب سرائے کے لئے کچھ تازہ نظمیں اور شعری مجموعہ ’’کہرام ‘‘ مجھے دیا تھا،نظمیں چھپنے پر خوش تھی مگر گزشتہ کل اچانک ساری ٹی وی چینلز کی بریکنگ نیوز نے دہلا دیا،ممتاز شاعرہ،گیت نگار اور فلمی مصنفہ رخسانہ نور طویل علالت کے بعدانتقال کر گئیں، دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گئی،مجھے اسکی نظم موم پگھلاتا رہا تیرا خیال یا دآگئی جس کے آخری مصرعے تھے،
رات کتنے کرب میں ڈھلتی رہی
موم پگھلاتا رہا تیرا خیال
میں کہ میرے جسم کا ہر ساز تْو
تو کہ تیری بے نیازی
کیا کہوں!!