بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پاکستانی سفارتخانے پر دھاوا

پاکستانی سفارتخانے پر دھاوا


افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر مظاہرین کا دھاوا انتہائی قابل مذمت ہونے کے ساتھ باعث تشویش اور عالمی برادری کی جانب سے فوری نوٹس لئے جانے کا متقاضی بھی ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق مظاہرین گزشتہ دنوں افغان پارلیمنٹ کے قریب ہونیوالے دھماکوں پر پاکستانی سفارتخانے کے سامنے احتجاج کر رہے تھے اس حملے میں نہ صرف ایمبیسی کی عمارت میں توڑ پھوڑ کی گئی بلکہ بلڈنگ کو آگ لگانے کی کوشش بھی کی گئی۔ مظاہرے کی قیادت این ڈی ایس کے سابق سربراہ امر اللہ صالح کر رہے تھے ۔ مظاہرین نے پاکستان اور پاکستانی اداروں کے خلاف نعروں پر مبنی بینرز بھی اٹھا رکھے تھے افغان ٹی وی کا کہنا ہے کہ مظاہرین کا تعلق افغان گرین ٹرینڈ سے تھا۔ مظاہرین افغانستان میں حالیہ دھماکوں میں پاکستان کے ملوث ہونے اور پاکستانی سفارتخانے پر جاسوسوں کا جال بچھانے جیسے بے بنیاد الزامات عائد کر رہے تھے ۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان قبائلی علاقوں میں دہشتگردی کی پناہ گاہوں سے متعلق امریکی الزام کو بھی سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دے گا۔ ترجمان بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را ‘‘ اور این ڈی ایس کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار بھی کر رہے ہیں جہاں تک دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا تعلق ہے تو پاکستان اس جنگ میں 100 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھا چکا ہے جبکہ قیمتی انسانی جانوں کا کوئی نعم البدل ہی نہیں اس حقیقت سے بھی انحراف ممکن نہیں کہ بعض بیرونی قوتیں افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہیں بھارت اور افغانستان سے پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری رہتا ہے کہیں پر کوئی بھی واقعہ ہو جائے ذمہ داری پاکستان پر تھوپ دینا اپنی گلو خلاصی سمجھا جا رہا ہے ۔ ’’ را ‘‘ اور این ڈی ایس کا گٹھ جوڑ سامنے ہے جس پر پاکستان کی جانب سے تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے اس ساری صورتحال کے باوجود عالمی برادری کا حرکت میں نہ آنا اور پاکستان کے مؤقف کی پذیرائی کرتے ہوئے اپنا رسوخ استعمال نہ کرنا زیادتی کے مترادف ہونے کے ساتھ ان کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان ثبت کرتا ہے۔ اس سب کے ساتھ ضروری یہ بھی ہے کہ پاکستان اپنے سفارتخانے پر حملے کا معاملہ ہر اہم فورم پر اٹھائے۔
جعلی کرنسی کا مکروہ دھندہ

پشاور میں جعلی کرنسی کاپھیلاؤ تشویشناک اور فوری اقدامات کا متقاضی ہے ہمارے رپورٹر کی سٹوری کے مطابق کروڑوں روپے کے جعلی نوٹ خیبرپختونخوا پہنچائے گئے ہیں اس کرنسی سے متعلق یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ یہ افغانستان سے لائی گئی ہے ۔ قابل توجہ یہ بھی ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے واضح سگنل کے باوجود قانون نافذ کرنیوالے ادارے اس پھیلاؤ کو صحیح طرح روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکے بہتر حکمت عملی تو کرنسی کے راستوں پر ہی چیکنگ کے مربوط اور موثر نظام کی ہے اس کے ساتھ ان ٹھکانوں تک پہنچنا ضروری ہے جہاں یہ سٹاک ہوتی ہو اتنے بڑے جغرافیے میں ایک ایک شہری کے پاس موجود نوٹ چیک کرنا کوئی آسان کام نہیں متعلقہ اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانا ہونگے بصورت دیگر معیشت کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے ۔اس ساری کاروائی کیلئے وفاق اور صوبے کے متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی رابطہ ناگزیر ہے۔