بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / بھارت ، دریائے گنگا میں کشتی الٹنے سے 26افراد ہلاک،مزید ہلاکتوں کا خدشہ

بھارت ، دریائے گنگا میں کشتی الٹنے سے 26افراد ہلاک،مزید ہلاکتوں کا خدشہ


پٹنہ۔بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار میں دریائے گنگا میں کشتی الٹنے کے واقعے میں26افراد ہلاک ہوگئے،ریاستی وزیر اعلی نے ضلعی انتظامیہ کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کے لیے فی کس 4 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے ۔بھارتی میڈیاکے مطابق شمال مشرقی ریاست بہار میں دریائے گنگا میں کشتی الٹنے کے واقعے میں26افراد ہلاک ہوگئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ کشتی میں تقریبا 40 افراد سوار تھے، جو پتنگ فیسٹیول سے واپس لوٹ رہے تھے۔سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ مانو مہاراج نے26 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کچھ افراد اب بھی لاپتہ ہے، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ٹی وی فوٹیج میں ایمرجنسی ورکرز کو دریا میں دیگر افراد کی تلاش کرتے اور پریشانی کے عالم میں اپنے پیاروں سے متعلق خبر کا انتظار کرتے ان کے اہلخانہ کو دکھایا گیا۔کشتی میں سوار افراد ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ کے قریب مکر سکرنتی کے مذہبی تہوار میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔

ہندو مذہب کے اس تہوار کے تحت ہزاروں عقیدت مند دریا میں ڈبکی لگاتے ہیں جسے ہندومت میں مقدس مانا جاتا ہے، جبکہ اس کے تحت پتنگ اڑانے اور دیگر مذہبی رسومات بھی اد اکی جاتی ہیں۔مقامی میڈیا کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت کے تحت منعقد ہونے والے اس سالانہ تہوار میں شرکت کے لیے جانے والے افراد کی تعداد کشتی کی گنجائش سے زیادہ تھی، جس کے باعث حادثہ پیش آیا۔کشتی الٹنے کے بعد چند مسافروں نے تیر کر اپنی جان بچائی، تاہم کشتی میں سوار مسافروں کی حتمی تعداد معلوم نہیں ہوسکی۔

ریاست کے وزیر اعلی نتیش کمار نے حادثے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کے لیے فی کس بھارتی 4 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔واضح رہے کہ بھارت میں کشتی الٹنے کے واقعات عام ہیں، جن کی بڑی وجوہات میں کشتی میں گنجائش سے زیادہ افراد کا سوار ہونا اور کشتیوں کی خراب مینٹیننس شامل ہیں۔ستمبر 2015 میں بھی بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام کے بپھرے ہوئے دریا میں کشتی الٹنے سے 20 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔قبل ازیں 2012 میں آسام ہی کے براہماپترا دریا میں طوفان کے دوران کشتی ڈوبنے سے 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔