بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / بھارتی آرمی چیف کا کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کا بیان ہمارے موقف کی تائید ہے،سرتاج عزیز

بھارتی آرمی چیف کا کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کا بیان ہمارے موقف کی تائید ہے،سرتاج عزیز

اسلام آباد۔مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کا کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کا بیان ہمارے موقف کی تائید ہے، مسئلہ کشمیر پھر بین الاقوامی ایجنڈا کے ٹاپ پر آ گی ہے، اس پر بامقصد مذاکرات ہونا چاہئیں، بھارت پاکستان میں مداخلت اور سی پیک منصوبے کے ذریعے معاشی طور پر نقصان پہنچانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو گا، پاکستان افغانستان میں امن کے قیام اور عدم مداخلت کی پالیسی پر قائم ہے بعض مخالف قوتیں افغانستان میں پاکستانی مداخلت کا الزام لگا کر پاکستان کو بد نام کرنے کی کوشش میں ہیں ،ہم بارڈر مینجمنٹ چاہتے ہیں تاکہ آمدورفت بند ہو اور پاکستان پرمداخلت کا الزام باقی نہ رہے، روس چین سمیت کئی ممالک کا خیال ہے کہ افغانستان کو اس وقت طالبان سے نہیں داعش سے خطرہ ہے ۔ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے مسئلے کو مزاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہیے، بھارت سفارتی محاز پر پاکستان کو تنہاکرنے میں ناکام ہوچکا ہے پاکستان عالمی فورموں پر اپنے مفادات اور موقف کا بہتر طریقے سے دفاع کررہا ہے بھارت کے پاکستان میں سرجیکل سٹرائکس کے بارے میں دعوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے ، سرحد پر کشیدگی دونوں ممالک کے درمیان کسی مسئلے کا حل نہیں ہے ،ایک نجی ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارتی آرمی چیف کا کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کا بیان ہمارے موقف کی تائید ہے کیونکہ بھارت پہلے اس سے انکار کرتا تھا۔ اب تک وہ اس سے انکار کر رہے تھے اب نہ صرف انہوں نے کہا کہ بلکہ اس کو مزید موثر بنانا چاہتے ہیں۔

ہمیں اس کی مدافعت کرنی ہے ہم بھی جوابی حکمت عملی کو موثر بنائیں گے اور انشاء اللہ اپنی سرحدوں کی پوری حفاظت کرینگے۔ سرجیکل اسٹرائیک کوئی آسان کام نہیں کہ وہ کر سکیں اور اس کے بعد پھر وہ کہیں کہ اور کچھ نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ بھارت کی کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کی پالیسی کی کوئی وجہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر پھر بین الاقوامی ایجنڈا کے ٹاپ پر آ گیا ہے۔ اس پر بامقصد مذاکرات ہونا چاہئیں۔ دیگر تمام مسائل پر بھی مذاکرات ہونے چاہئیں۔ بارڈر پر ہمیں امن رکھنا چاہئے۔ بارڈر پر صورتحال خراب ہونے کا خطرہ کسی کے لئے بھی مناسب نہیں۔ اب اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل نے بھی یہی بات کہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ بھی مفاہمت کی بات کرے گی۔ بھارت کو ان تمام نصیحتوں پر توجہ دینی چاہئے تاکہ تناؤ کو بڑھانے کی بجائے اسے کم کیا جائے اور مسائل حل ہوں۔ خاص طور پر مسئلہ کشمیر کا حل ہو۔ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ بھارت کی جارحیت بڑھتی جا رہی ہے۔ وہ فوجی اخراجات بڑھا کر پاکستان کو مرعوب کرنا چاہتے ہیں وہ ہمیں سفارتی سطح پر بھی تنہا کرنا چاہتے ہیں۔

جس میں ابھی تک وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ پاکستان خصوصاً بلوچستان میں مداخلت کے حوالے سے بھی بھارت کامیاب نہیں ہو گا۔ بھارت ہمیں سی پیک منصوبہ کے ذریعے معاشی طور پر نقصان پہنچانا چاہتا ہے مگر وہ اس میں بھی کامیاب نہیں ہو گا۔ بھارت کی جارحیت کی حکمت عملی تشوشیناک ہے لیکن ہماری صلاحیت ہے کہ ہم اپنے مفاد اور سرحدوں کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ دنیا میں بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔ ایک سوال پر سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ سابق آرمی چیف راحیل شریف نے 39 رکنی اسلامی ممالک کی افواج کے اتحاد کی سربراہی کے حوالے سے کسیپیشکش سے حکومت کو آگاہ نہیں کیا۔ اگر کوئی آفر آئے گی اور وہ رابطہ کرینگے تو پتہ چلے گا،کیا آفر آئی ہے۔ پھر اس صورتحال پر غور کیا جائے گا۔ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ کا چارج وزیراعظم کے پاس ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کوئی وزیر خارجہ نہیں رکھا تھا۔ وہ خود وزیر خارجہ کا کام کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ کا کام میں اور طارق فاطمی مل کر کافی محنت سے کر رہے ہیں۔

کم از کم دنیا کے پاکستان کے تعلقات میں کوئی کوتاہی یا کمی نظر نہیں آتی۔ وزیراعظم کی صوابدید ہے جب بھی چاہیں گے۔ چارج کسی اور کو دے دینگے مجھے کم از کم ورکنگ لیول پر کوئی مسئلہ نہیں۔مشیر خارجہ نے کہا کہ 2013 ء میں جب ہماری حکومت آئی تو ہم نے انتہائی اہم فیصلہ کیا کہ ہم عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کریں گے ہمارے ہاں کوئی پسندیدہ نہیں ہے اس کی وجہ سے افغانستان میں بڑا اثر ہوا اور پولیٹیکل سیکیورٹی اور اکنامک تینوں ٹرانزیشن میں ہم نے افغانستان کی مدد کی 14 ستمبر 2014ء میں جب اشرف غنی اقتدار میں آئے تو ایک اچھا آغاز ہوا پھر نومبر میں جب یہاں بھی آئے تو ہمارے تعلقات بہتر ہونا شروع ہوا لیکن جب 2015ء میں افغانستان میں تشدد اور خانہ جنگی میں اضافہ ہوا تو اس سے غلط فہمیاں پیدا ہونا شروع ہوئیں کیونکہ اشرف غنی کو غالباً یہ توقع تھی کہ ہمارا طالبان پر مکمل کنٹرول ہے اور ہم چند ہفتوں یا مہینوں میں ان کو میز پر بٹھا کر غیر مسلح بھی کر دیں گے اور صلح ہو جائے گی ظاہر ہے ہمارا اتنا اثر و رسوخ تو تھا نہیں جب ایساف فورسز کئی سالوں کے بعد واپس گئیں تو سب کو توقع تھی کہ خانہ جنگی میں اضافہ ہوگا اس سے غلط فہمیاں بڑھنا شروع ہوئیں جبکہ ہم نے انہیں یقین بھی دلایا کہ اس میں ہمارا ہاتھ نہیں ہے اور ہم بتدریج انہیں ختم کررہے ہیں ۔

ضرب عضب سے ان کا انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہوگیا وہ آزادانہ طور پر کارروائی نہیں کر سکیں گے یہی صورتحال 2016ء میں رہی مگر وہاں کچھ فورسز ہیں جو پاکستان پر الزام لگاتی ہیں ان کے مخالفانہ بیان جاری رہے لیکن پھر بھی ہم نے ان کا اس طریقے سے جواب نہیں دیا اور ہمیشہ یقین دلایا کہ ہم مخلص ہیں۔ہمارے وزیراعظم اور آرمی چیف نے 12 مئی 2015ء کو کابل میں کھڑے ہو کر اعلان کیاتھا کہ ہم اپنی سرزمین کو کسی اور ملک خصوصاً افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ہم اب بھی اس پالیسی پر قائم ہیں اور میرا خیال ہے کہ ہم اس منزل کے زیادہ قریب ہیں کیونکہ کارروائیاں کافی حد تک کم ہو چکی ہیں لیکن اس سے وہاں کا اندرونی مسئلہ حل نہیں ہوگا اور کچھ عناصر ایسے ہیں جو ہم پر الزم لگاتے رہتے ہیں تاہم دنیا کو آہستہ آہستہ یقین ہوتا جا رہاہے کہ زیادہ تر طالبان فورسز اور جنگجو عناصر افغانستان میں منتقل ہو چکے ہیں ہمارے ہاں اکا دکا ہی ہو سکتا ہے لیکن اس کے لیے بارڈر مینجمنٹ ضروری ہے جب ہم بارڈر مینجمنٹ بھی کر لیں گے تو پھر ہی یقین دلا سکیں گے کہ آمدورفت بند ہو چکی ہے مشیر خارجہ نے کہا کہ ہم اپنے بارڈر سے مزید کراسنگ پوائنٹ پر ڈاکومنٹیشن کر رہے ہیں اس سے کوئی انکارنہیں کر سکے گا ابھی صرف دو جگہ پر ہوا ہے مزید آٹھ سے دس جگہوں پر کریں گے اس سے کم از کم ہم اپنے آپ کو محفوظ کر لیں گے کیونکہ ہماری پہلی ترجیح اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے کیونکہ صرف دہشت گردوں کی ہی بات نہیں انسانی اور منشیات سمگلر بھی ہیں غرضیکہ ہر قسم کے لوگ ہیں بارڈر مینجمنٹ سے جب آنا جانا ختم ہو جائے گا تو ہماری پوزیشن بالکل واضح ہو جائے گی کہ ہماری طرف سے کوئی نہیں جا رہا۔سرتاج عزیز نے کہا کہ افغانستان میں کچھ عناصر موجود ہیں جو کارروائیوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

لیکن یہ کہنا کہ ہماری کوئی ایجنسی یا کوئی عناصر ملوث ہیں یہ بڑی افسوسناک بات ہے قندھار میں جو واقعہ ہوا اس پر صرف جنرل رازق نے پاکستان کے خلاف ضرور بیان دیا تھا مگر حکومت نے ابھی تک کوئی ایسی بات نہیں کی وہ انکوائری کررہی ہے۔ہمارے ترجمان نے کہا ہے کہ این ڈی ایس اور را مل کر پاکستان کو ٹارگٹ کرتے ہیں لیکن مجموعی طور پر تمام فورسز کو آہستہ آہستہ یقین ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں مخلص ہے کہ افغانستان میں تشدد کم ہو امن کا راستہ بحال ہو اور بات چیت کا آغاز ہو۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کچھ نئی باتیں سامنے ہیں کہ داعش کافٹ پرنٹ افغانستان میں پھیل ہے رہا ہے روس اور چائنہ دونوں کا خیال ہے کہ اس وقت افغانستان کو طالبان نہیں داعش سے زیادہ خطرہ ہے ماسکو میں 27 دسمبر پاکستان چائنہ اور روس کے درمیان ہونے والی میٹنگ میں تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ افغانستان کو اب سب سے بڑا خطرہ داعش کا ہے کیونکہ روس کو بھی خظرہ ہے کہ اگر ان کو شام اور عراق سے شکست ہوتی ہے یا کمزور ہوتے ہیں وہ اس علاقے میں پھیل کر سینٹرل ایشیاء اور دیگر خطیکے دروازے پر دستک دے سکتے ہیں تینوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ داعش بہت بڑا خطرہ ہے اس پر مجموعی طور پر علاقائی آپروچ کی ضرورت ہے اس اتفاق رائے میں اگلے مرحلے میں ہم افغانستان کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں تاکہ افغانستان بھی متفق ہو جائے کیونکہ اب تک افغانستان میں جو امن عمل آگے نہیں بڑھا اس میں افغانستان کے اندرونی اختلافات ہیں کہ بات چیت کرنی چاہیے یا لڑنا چاہیے۔

اسی طرح طالبان کے اندر بھی اختلافات ہیں ان میں کچھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں اورکچھ لڑنا چاہتے ہیں جب تک افغانستان میں بات چیت کے ذریعے امن کا کوئی راستہ نہ نکلا اور اسی طرح افراتفری رہی تو مزید عناصر آ جائیں گے اور مزید خانہ جنگی ہو گی اور حالات ٹھیک نہیں ہوں گے میرے خیال میں آئندہ دنوں میں امن اور مشاورت کے عمل پر اتفاق ہوگا۔تاکہ خانہ جنگی ختم ہو ورنہ کافی عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔مسئلہ کشمیر کے بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں مشیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے اور اس مسئلے کو مزاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہیے،انہوں نے کہا کہ بھارت سفارتی محاز پر پاکستان کو تنہاکرنے میں ناکام ہوچکا ہے پاکستا ن کے دنیاکے ممالک سے اچھے تعلقات ہیں اور وہ عالمی فورموں پر اپنے مفادات اور موقف کا بہتر طریقے سے دفاع کررہا ہے ایک سوال کے جواب میں مشیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے پاکستان میں سرجیکل سٹرائکس کے بارے میں دعوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے انہوں نے کہا کہ سرحد پر کشیدگی دونوں ممالک کے درمیان کسی مسئلے کا حل نہیں ہے ،