بریکنگ نیوز
Home / کالم / راحیل شریف کا نیا کر دار

راحیل شریف کا نیا کر دار

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کرکے 29 نومبر 2016ء کو سبکدوش ہوئے اس قسم کی اطلاعات تواتر سے آ رہی ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد راحیل شریف کو اسلامی ممالک کے دفاعی اتحاد کی قیادت سونپی جا رہی ہے یہ عسکری اتحاد دہشتگردی کے انسداد کیلئے تخلیق کیا گیا ہے۔جنرل راحیل شریف کو ابھی یونیفارم اتارے ڈیڑھ ماہ ہی ہوا ہے کہ انکے بارے میں اطلاعات آ رہی ہیں کہ وہ عسکری اتحاد کی قیادت کیلئے چن لئے گئے ہیں اگرچہ اس بات کا باضابطہ اعلان ابھی نہیں ہوا لیکن پاکستان کے ایوان بالا (سینٹ) میں یہ بات زیربحث آئی ہے چیئرمین رضا ربانی نے ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کا نوٹس لیتے ہوئے وزیردفاع خواجہ آصف کو طلب کیا تاکہ وہ اس معاملے میں حکومتی مؤقف کی وضاحت کریں یہ بات جلد ہی ذرائع ابلاغ کے ہاتھ لگ گئی‘ اور خصوصاً ’ٹاک شوز‘ میں اِس معاملے کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لینا شروع کردیا گیادہشتگردی کیخلاف کاروائیوں میں جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف کی خدمات کو بہت سراہا گیا لیکن پاک فوج کی سربراہی سے علیحدہ ہوئے ابھی چند ہفتے ہی ہوئے ہیں کہ انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا اسلامی ممالک کا دفاعی اتحاد سعودی عرب نے تشکیل دیا ہے جو اس لمحے کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہے جب وہ مذکورہ دفاعی اتحاد کیلئے متوقع راحیل شریف کے نام کا بطور کمانڈر اعلان کرے شاید وہ کسی مناسب وقت کا انتظار کر رہے ہیں ۔

جب حکومتیں اِس سلسلے میں باہم مشورہ کر لیں کہ سربراہی کسے سونپی جا رہی ہے یہ معاملہ پاکستان کیساتھ بھی زیربحث آئیگا اور بالخصوص اس بارے میں پاک فوج کے صدر دفتر کی رائے اہم ہوگی کہ وہ اپنے سابق سربراہ کو کسی عالمی دفاعی اتحاد کی سربراہی پر دیکھنا چاہتا ہے یا نہیں پاکستانی حکومت کا مؤقف بھی اس سلسلے میں اہم ہے جس نے باضابطہ اعلان کرنا ہے کہ راحیل شریف کی مستقبل میں مصروفیات کیا ہونگی کیونکہ راحیل شریف نے دہشتگردی کیخلاف عالمی جنگ میں تین برس تک نہایت فعال کردار ادا کیا انکی قیادت میں شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقوں سے عسکریت پسندوں کے مراکز ختم کرنے کیلئے آپریشن ’ضرب عضب‘ شروع کیا گیا اور انہوں نے ہی قبائلی خیبرایجنسی میں تین عسکری کاروائیاں کرکے علاقے کو شدت پسندوں سے پاک کیا انہی کی قیادت میں کراچی کو پرامن بنایا گیا اور دہشتگردوں‘ انتہاء پسندوں اور جرائم پیشہ عناصر جن میں سے بیشتر کے تعلقات سیاسی جماعتوں سے بھی تھے کے خلاف رینجرز کی سخت گیر کاروائیاں کی گئیں راحیل شریف نے بلوچستان میں امن کی بحالی کی کوششوں میں بھی کلیدی کردار ادا کیا انہوں نے سی پیک کے تحفظ اور دہشتگردی کیخلاف نیشنل ایکشن پلان کے مؤثر اطلاق کو ممکن بنایا۔ جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف کی اسلامی ممالک کے دفاعی اتحاد کی سربراہی سے متعلق تاحال نواز شریف حکومت نے ملے جلے قسم کے ردعمل کا مظاہرہ کیا ہے وزیر دفاع خواجہ آصف کو جب سینٹ طلب کیا گیا تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنرل راحیل شریف نے ’اسلامی ممالک کے دفاعی اتحاد‘ سے تعلق جوڑنے کے بارے اَبھی حکومت سے این اُو سی حاصل نہیں کیاانکا کہنے کا مطلب یہ تھا کہ نہ تو وزارت دفاع اور نہ ہی پاک فوج کے صدر دفتر کوراحیل شریف کی جانب سے ایسی کوئی درخواست موصول ہوئی ہے۔ وزیر دفاع کا یہ بیان انکے پہلے دیئے گئے بیان سے متضاد ہے ۔

جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کو راحیل شریف کی نئی ذمہ داریوں کے بارے میں علم ہے۔ راحیل شریف کواین اُو سی لینے کی ضرورت ہے بھی یا نہیں اور کیا وہ بیرون ملک کسی ملازمت سے قبل ایسا کریں گے؟ اِس سوال پر پاک فوج کے کئی سابق اہلکار جو اِن دنوں تجزیہ کاروں کے طور پر ذرائع ابلاغ سے جڑے ہیں کا کہنا ہے کہ ’’ راحیل شریف خلاف ضوابط کوئی کام نہیں کریں گے اور وہ کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل معلوم قواعد و ضوابط کا پاس کریں گے راحیل شریف بھی بخوبی جانتے ہیں کہ اُنکا فیصلہ پاکستان کے عالمی تعلقات پر بھی اثر اندازہوگا جیسا کہ ہمسایہ ملک ایران کے اِس بارے تحفظات ہو سکتے ہیں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جب راحیل شریف پاک فوج کے سربراہ تھے تب ہی سے اِس معاملے کی تفصیلات طے ہو رہی تھیں اور مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا تھا اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کی ہمدردیاں کس کے ساتھ ہیں پاکستان کی موجودہ حکمران جماعت کے سربراہ وزیراعظم نواز شریف کے سعودی شاہی خاندان سے خصوصی تعلقات ہیں لیکن پاکستان میں مضبوط و وسیع حزب اختلاف کی وجہ سے وہ سعودی عرب کے تخلیق کردہ اس اتحاد کا حصہ نہ بن سکے جو یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں فوجی کاروائیوں کیلئے بنایا گیا تھا۔ پاکستان کو سعودی دفاعی اتحاد میں شمولیت پر اعتراض نہیں تھا لیکن اس نے چند سوالات پوچھے جیسا کہ دفاعی اتحاد کی ساخت‘ کردار اور سرگرمیاں کیا ہوں گی اسلامی ممالک کے مذکورہ اتحاد کے خدوخال واضح نہیں اور اس بات کا انتظار کیا جانا چاہئے کہ 39ممالک کے اتحاد میں شمولیت پر رضامندی کا اظہار کرنے والے کتنے ممالک اپنی افرادی قوت فراہم کریں گے اور کس حد تک ایک مشترکہ مقصد کے حصول کیلئے مشترکہ ہدف کے خلاف عسکری مہمات میں حصہ لیں گے یہ بات ظاہر ہے کہ دنیا کے 57اسلامی ممالک پہلے ہی اِس دفاعی اتحاد کی جانب متوجہ ہوئے ہیں ابتدامیں 34 اسلامی ممالک نے اِس اتحاد میں شمولیت کی حامی بھری اور یہ تعداد بعد میں بڑھ کر 39 ہوگئی۔ وسائل سے مالا مال سعودی عرب کے حکمران دیگر ممالک کو بھی رکن بننے کیلئے کوششیں کر سکتے ہیں لیکن مشکل مرحلہ یہ درپیش آ سکتا ہے کہ ایران اور اسکے اتحادی ممالک کو اتحاد میں شامل ہونے پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے اور اس بنیادی ہدف کو بھی برقرار رکھا جائے کہ اسلامی ممالک کا یہ اتحاد دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔اسلامی ممالک کے دفاعی اتحاد کو ’نیٹو تنظیم‘ کے مماثل قرار دیا گیا لیکن نیٹو اور اِس میں زمین آسمان کا فرق ہے اسلامی ممالک کا اتحاد ابھی تخلیقی مراحل سے گزر رہا ہے جہاں اس کا بظاہر دائرہ کار بھی محدود دکھائی دے رہا ہے کیونکہ مسلم ممالک کا آپسی اتحاد مثالی نہیں اور انکی اکثریت کے دفاعی عسکری فیصلے عالمی طاقت امریکہ کی مشاورت سے طے پاتے ہیں اگر موازنہ کیا جائے تو نیٹو ایک فعال عالمی تنظیم ہے جسکا طے شدہ بنیادی ایجنڈا مغربی ممالک کا دفاع اور ان تمام خطرات سے بروقت نمٹنا یا نمٹنے کی تدابیر کرنا ہے جو اِن ممالک کیلئے خطرہ بنیں۔

مغربی ممالک کے اس اتحاد کی کاروائیاں ایک خاص حد تک محدود تھیں لیکن نائن الیون حملوں کے بعد امریکہ نے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے افغانستان پر حملہ کیا اور مستقبل میں دنیا کے کسی بھی حصے میں مداخلت کی راہ ہموار کر دی۔ اسلامی ممالک کے اتحاد کو ’’سنی ممالک کا اتحاد‘‘ بھی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں شیعہ اکثریت والے ممالک جیسا کہ ایران‘ عراق‘ شام اور یمن شامل نہیں تھے۔ ظاہر سی بات ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے شیعہ حکومت یا اکثریت والے ممالک کو دفاعی اتحاد میں شمولیت کی دعوت ہی نہیں دی گئی درحقیقت سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے حکمران ایران اور اس کے اتحادیوں یمن و لبنان کے عسکری گروہوں کو خطرہ سمجھتے ہیں جن سے نمٹنے کے اپنی دفاعی قوت کو مضبوط کرنے کے لئے ہرممکنہ وسائل سے استفادہ کرنے کے لئے خود کو آمادہ و تیار رکھتے ہیں ایک چیز واضح ہے کہ اگر راحیل شریف بطور سربراہ اسلامی ممالک کے دفاعی اتحاد کا حصہ بن جاتے ہیں تو پاک فوج کے کئی ریٹائرڈ آفیسرز بھی چاہیں گے کہ وہ بھی بھاری تنخواہوں اور مراعات کے عوض اِس نادر موقع سے فائدہ اٹھائیں اور راحیل شریف کی سربراہی و رہنمائی میں خدمات سرانجام دیں پاکستان کے ایسے ریٹائرڈ فوجی افسروں کی تعداد کبھی بھی کم نہیں رہی جو بعداز ریٹائرمنٹ اپنے ملک یا بیرون ملک خدمات سرانجام دینے کیلئے دستیاب و آمادہ رہتے ہیں۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)