بریکنگ نیوز
Home / کالم / ضروری کام جو نہیں کئے جا رہے

ضروری کام جو نہیں کئے جا رہے

حکومت اب ان کاموں کے کرنے پر اتر آئی ہے جو اسکے شایان شان نہیں اور جو سستی شہرت حاصل کرنے کے مترادف ہے ‘ جو کام ڈپٹی کمشنر یا زیادہ سے زیادہ اسسٹنٹ کمشنر کے کرنے کے ہوتے ہیں اب وہ وزیراعظم کر رہے ہیں مثلاً یہ جو اگلے روز وزیراعظم صاحب نے اسلام آباد میں تعلیمی اداروں کے لئے بسیں اپنے دست مبارک سے تقسیم کیں یہ کلام بلا شبہ ان کے سٹیٹس کا نہ تھا یہ کام ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کاتھا وزیراعظم صاحب کو تو ان اہم قومی امور میں سر کھپانا چاہئے کہ جن پر فوری ایکشن درکار ہے ‘وزیراعظم صاحب کو تو تواتر سے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کرنی چاہئے تھی اوراراکین قومی اسمبلی کی گردنوں پر اس وقت تک سوار رہنا چاہئے تھا کہ جب تک وہ ان دودھ فروشوں کے لئے سزائے موت کا قانون نہ پاس کر لیتے کہ جو دودھ میں زہریلا مواد شامل کرکے اس ملک کی نئی نسل کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں ملک میں کیا کیا کچھ نہیں ہو رہا ‘ دودھ میں ملاوٹ‘ ہلدی‘ نمک ‘ مرچ مصالحوں میں آمیزش ‘آج تاجر اتنا مادر پدر آزاد ہو چکا ہے کہ اسے پورایقین ہے لہٰذا وہ ان کیلئے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں لہٰذا وہ جو غلط کام بھی کر لیں انکے خلاف سخت قانونی کاروائی کبھی نہیں ہو گی ابن خلدون نے سچ ہی تو کہا تھا کہ حیف ہے اس قوم پر کہ جسکے حکمران تاجر ہوں ‘ حکومت پر تو ہمیں افسوس ہے کہ اس نے کم تولنے والوں‘ ذخیرہ اندوزی کرنیوالوں اوربلک مارکیٹنگ کرنے والوں کیخلاف ہاتھ ہولا رکھا ہے ہمیں اپنے دیگر اراکین پارلیمنٹ سے بھی گلا ہے کہ جنرل راحیل شریف کی اسلامی عسکری اتحاد کی قیادت پر تو وہ پارلیمنٹ میں آواز اٹھاتے ہیں۔

لیکن ان کووہ زہر نہیں نظر آ رہا کہ جو بعض تاجر اشیائے خوردنی میں مکس کرکے عوام کو کھلا رہے ہیں کیا ان میں سے کسی نے ملاوٹ‘ ذخیرہ اندوزی‘ بلیک مارکیٹنگ وغیرہ کے خلاف دھرنا دینے کی حکومت کو دھمکی دی ہے ان عوامی مسائل کو تو یہ لوگ عوامی مسئلے سمجھتے ہی نہیں ؟علاوہ الدین خلجی دلی کا بادشاہ تھا اسے رپورٹیں ملیں کہ دلی کے بعض دکاندار کم تولتے ہیں اس نے حکمنامہ جاری کیا کہ آئندہ جو دکاندار بھی کم تولتے پکڑا گیا اس کے جسم سے فوراً اسی قدر گوشت کاٹ لیا جائے کہ جس قدر اس نے کم تولا ہو گا بادشاہ کے مخبروں نے ایک قصاب کو رنگے ہاتھوں گوشت کم تولتے دھر لیا موقع پر اس کے جسم سے بادشاہ کے سپاہیوں نے گوشت کا اتنے ہی وزن کا ٹکڑا کاٹ لیا کہ جتنا اس نے کم تولا تھا اس واقعہ کے بعد جب تک علاوہ الدین خلجی دلی کا حکمران رہا کسی دکاندار کو کم تولنے کی جرات نہ ہو سکی ہمارے دکانداروں کو بھی جب تک اس قسم کی نکیل نہیں ڈالی جائے گی۔

وہ باز نہیں آئیں گے آج کل دودھ تو کیا کوئی بھی چیز بازارسے خریدتے وقت آپ کو یقین نہیں ہوتا کہ وہ خالص ہو گی چائے میں ملاوٹ ‘ مرچ مصالحوں میں پسی ہوئی انیٹوں کی آمیزش حتیٰ کہ لائف سیونگ ڈرگز بھی جعلی اور دو نمبر؟ یہ بھی نہیں کہ متعلقہ انسپکٹرز موجود نہ ہوں ؟وہ موجودہیں سرکاری خزانے سے تنخواہ بھی وصول کر رہے ہیں لیکن ان کی ناک کے نیچے ہر وہ کام ہو رہا ہے کہ جس کی قانون میں ممانعت ہے ‘ ملاوٹ کا کاروبار اپنے جوبن پر ہے ۔