بریکنگ نیوز
Home / کالم / اسلامی افواج کی سربراہی

اسلامی افواج کی سربراہی


راحیل شریف کی اسلامی ممالک کی افواج کی سربراہی سنبھالنے کے حوالے سے اجازت کے لئے حکومت یا جی ایچ کیو سے رابطہ نہیں کیاگیا ہے جبکہ پاکستان کے ریٹائرڈ فوجی افسروں کے لئے بعداز ریٹائرمنٹ کوئی عہدہ لینے سے پہلے وزارت دفاع یا جی ایچ کیو سے این او سی لینا ضروری ہوتا ہے ‘لیکن اس حوالے سے جی ایچ کیو یا وزارت دفاع کو جنرل راحیل شریف کی طرف سے کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی اس تقرر کی شرائط وضوابط کے بارے میں حکومت پاکستان کو کچھ بتایا گیا ہے ‘مسلم فوجی اتحاد کے سربراہ کی حیثیت سے جنرل راحیل کے تقرر کی اطلاعات گزشتہ سال دوہزار سولہ کے وسط سے گشت کررہی تھیں ‘لیکن مصدقہ اطلاع جنرل راحیل کی سعودی عرب روانگی کے بعد سامنے آئی جنرل راحیل ایک خصوصی طیارے کے ذریعہ سعودیہ گئے ‘یہ طیارہ سعودی عرب کے شاہی خاندان نے ان کیلئے بھجوایا تھا بلاشبہ اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی پاکستان کے لئے فخر واعزاز کی بات ہے لیکن معروضی صورتحال میں اسکا فرقہ وارانہ پہلو پاکستان کیلئے منفی اثرات سے عاری قرار نہیں دیا جاسکتا ‘یہی وجہ ہے کہ میڈیا اطلاعات کے مطابق جنرل راحیل شریف نے عہدہ قبول کرنے سے پہلے تین شرائط پیش کی تھیں سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ فوجی اتحاد میں ایران اور عراق کو بھی شامل کیا جائے ۔

اتحاد کے معاملات چلانے کیلئے رکن ممالک کے وزراء دفاع پر مشتمل دفاعی کونسل قائم کی جائے‘ جنرل راحیل چاہتے ہیں کہ اس کونسل کے ارکان میں ایران بھی شامل ہو‘دفاعی کونسل جنرل راحیل شریف کے بعد اگلے کمانڈر انچیف کے تقرر کا طریقہ کار اور فوجی اتحاد کا مینڈیٹ بھی طے کریگی ‘مشرق وسطیٰ میں تمام سیاست فرقہ وارانہ رنگ لئے ہونے کی وجہ سے اسلامی فوجی اتحاد اور اسکی سربراہی کوئی انتظامی نہیں بلکہ نہایت حساس معاملہ ہے ایران پہلے ہی اس اتحاد پر اپنے تحفظات کا اظہار کرچکا ہے ‘پاکستان میں شیعہ آبادی کو بھی اس پر تحفظات ہیں‘پاکستان کو شیعہ سنی تنازعہ میں الجھنے سے دامن بچانا ہوگا جیسا کہ یمن فوج بھیجنے کی سعودی درخواست پر اس نے کیا تھا سعودی عرب نے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کیخلاف لڑنے کے لئے سعودی عرب کی درخواست پر اپنی فوج یمن بھیجنے سے معذرت کرلی تھی ‘سعودی درخواست پارلیمنٹ میں پیش کی گئی تھی جسکے مشترکہ اجلاس نے پاکستانی فوج یمن بھیجنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا ‘جنرل راحیل نے اتحاد کے کمانڈر انچیف کا عہدہ قبول کرنے کے لئے جو شرائط پیش کی تھیں ۔

ان میں ایک یہ شرط بھی شامل تھی کہ وہ حکومت پاکستان اور جی ایچ کیو کی منظوری سے ہی یہ عہدہ قبول کرینگے‘ تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی حکومت پاکستان کی حکومت کو کافی پہلے اس پیش رفت کے حوالے سے اعتماد میں لے چکی تھی ‘کچھ عرصہ قبل سعودی نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلطان جب اسلام آباد آئے تھے تو انہوں نے پاکستانی قیادت کو اس تجویز سے آگاہ کیا تھا چنانچہ توقع کی جارہی ہے کہ سعودی حکومت اس سلسلے میں منظوری کیلئے بہت جلد حکومت پاکستان سے رابطہ کریگی فوجی اتحاد کی فرقہ وارانہ نوعیت کے اثرات سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ معاملے کے مثبت اور منفی تمام پہلوؤں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان سمیت پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں جو نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں انہیں گہری قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے اور اس جنگ کی قیادت پر جنرل راحیل شریف کی ستائش وتحسین کی جارہی ہے ‘اس جنگ کا نتیجہ ہے کہ آج دہشت گردی کے واقعات بہت کم ہوگئے ہیں اور وزیراعظم نوازشریف اپنے اس اعلان میں بالکل حق بجانب ہیں کہ 2017کا پاکستان 2013ء کے پاکستان سے یکسر مختلف ہے اور 2018ء کا پاکستان 2017کے پاکستان سے بھی کہیں زیادہ محفوظ ‘ترقی یافتہ اور خوشحال ہوگا۔