بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خطے میں بھارتی حکمرانی برداشت نہیں، مشیر خارجہ

خطے میں بھارتی حکمرانی برداشت نہیں، مشیر خارجہ

اسلا م آباد۔وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کسی صورت بھی خطے میں بھارت کی حکمرانی کو برداشت نہیں کرے گا۔بھارت چاہتا ہے کہ مذاکرات صرف اس کی اپنی شرائط پر ہوں، لیکن پاکستان کشمیر کو نہیں بھول سکتا اور ہم اس طرح سے مذاکرات کرنے کے خواہاں نہیں، ایک نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ ‘وزیراعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کی خواہش رہی ہے کہ وہ اس پورے خطے کی سامراجی طاقت بن جائے جو کہ ہمارے لیے ناقابلِ قبول ہے’۔سرتاج عزیز نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہیں اور ہم اس کی کسی بھی ایسی خواہش کو پورا نہیں ہونے دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ سال 2016 کے دوران لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کی بھی یہی وجہ تھی، کیونکہ بھارت ان واقعات کے ذریعے کشمیر میں مظالم سے توجہ ہٹانا چاہتا تھا۔مشیر خارجہ نے کہا کہ گذشتہ سال جولائی میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت بعد سے پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی میں نمایاں تیزی آئی تاکہ کشمیر سے توجہ ہٹائی جاسکے۔انھوں نے کہا کہ پٹھان کوٹ حملے کے بعد سے دنیا کو معلوم ہوگیا کہ اصل میں حقیقت کیا ہے۔

بھارت میں سال میں صرف ایک یا دو واقعات ہوئے، لیکن پاکستان کو مسلسل دہشت گردی کا سامنا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے ان ہی مقاصد کے لیے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں تمام ممالک کو شرکت کی دعوت دی، لیکن پاکستان نے اس کے دباؤ میں آنے سے انکار کردیا۔بھارت کے جارحانہ رویے کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ وہاں کا سیاسی ماحول ہے اور پاکستان کی مخالفت کیے بغیر وہاں ووٹ حاصل نہیں کیے جاسکتے، لہذا جب مودی نے انتخابات میں حصہ لیا تھا تب بھی نہ صرف مسلمانوں، بلکہ مسیحیوں کے خلاف بھی ایک بھرپور مہم چلائی کی گئی تھی۔سرتاج عزیز نے یہ بھی کہا ہے 2017 میں بھارت پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے دباؤ بڑھے گا جس کی وجہ خود کشمیریوں کی اپنی جدوجہد ہے۔

پاک۔ چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) میں بھارت کی ممکنہ مداخلت سے متعلق پوچھے گے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس منصوبے کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرنے کے لیے کوئی بھی ملک چاہے تو ذیلی ٹھیکیدار بن سکتا ہے۔افغانستان کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان چاہے کچھ بھی کر لے، لیکن افغان صدر اشرف غنی الزام تراشی سے باز نہیں آئیں گے۔انھوں نے کہا کہ یہ بات اب ثابت ہوچکی ہے کہ افغانستان میں امن صرف طالبان کے ساتھ مذاکرات سے ہی قائم ہوسکتا ہے اور جو کچھ نیٹو اور امریکی افواج کی وہاں موجودگی کے دوران ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا موقف رہا ہے کہ وہ افغان سرزمین کو کسی بھی طرح سے اپنے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور ہم بارڈر مینجمنٹ کے مسئلے پر بھی کام کررہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تمام شدت پسندوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کررہا ہے، لیکن اس کے باوجود بھی افغانستان کو مطمئن کرنا ناممکن ہے۔