بریکنگ نیوز
Home / کالم / دعااورفریاد

دعااورفریاد

انسان کبھی ایک حال میں خوش نہیں رہتا دیکھئے نا کل تک ہر نماز میں دعائیں کی جاتی تھیں کہ یا اللہ بارانِ رحمت عطا کر۔ اب جو اللہ تعالیٰ نے دعائیں سن لیں اور بارشوں اور برف باری کا سلسلہ شروع ہو گیا تو اب روزانہ فریادیں ہو رہی ہیں کہ بارش کی وجہ سے بجلی کے اتنے فیڈر ٹرپ ہو گئے ہیں اور شہری بجلی کو ترس گئے ہیں ادھر برف باری ہو رہی ہے اور ادھر شہر سے گیس کا پریشر غائب ہے اور یعنی دوسرے لفظوں میں گیس غائب ہے برف کے مارے لوگ جن کو کمرے اور خود کو گرم رکھنے کے لئے گیس کی ضرورت ہے وہ غائب کر دی گئی ہے یا غائب ہو گئی ہے ہم لوگ سردی سے ٹھٹھر رہے ہیں اورسوئی ناردرن والے مزے سے اپنے دفاتر میں بڑے بڑے گیس کے ہیٹر لگائے مزے اڑا رہے ہیں اور صارفین کے ٹیلیفون بھی اٹینڈ کرنے سے کترا رہے ہیں ایبٹ آباد میں کیہال کا ایک محلہ مکی محلہ کہلا تا ہے۔ اس محلے کی گلی نمبر دو اور تین پر سوئی ناردرن کی خاص نظر ہے کہ سارے شہر میں اس برف باری میں گیس پورے پریشر سے ہو گی اگر کہیں نہیں ہو گی تو وہ مکی محلے کی گلی نمبر دو اور تین میں نہیں ہو گی ۔ معلوم نہیں کہ ان کیساتھ سوئی ناردرن والے اس قدر مہربان کیوں ہیں جونہی سردی ذرا ز ور پکڑتی ہے ان دو گلیوں سے گیس روٹھ جاتی ہے حالانکہ ان گلیوں میں سوئی ناردرن کے ملازمین بھی رہتے ہیں اور ان گلیوں میں ایسے سرکاری ملازمین بھی ہیں کہ جن سے سوئی ناردرن والوں کا کچھ نہ کچھ تعلق بھی بنتا ہے مگر شاید اسی لئے ایسا ہو کہ یہ دو گلیاں انکی خاص نظر میں ہیں۔ جہاں تک بجلی کا تعلق ہے۔

تو وہ ان دنوں میں کچھ زیادہ ہی مہربان نظر آتی ہے۔ گو بیشتر لوگوں نے گھروں سے بجلی کے ہیٹر ختم کر دیئے ہیں مگر اس کے باوجو د ان کے فیڈر ٹرپ ہی رہتے ہیں یہ وہ دن ہوتے ہیں کہ جن میں آگ کی بہت یادہ ضرورت پڑتی ہے اس لئے کہ اس موسم میں آگ کولوگ میٹھا میوہ کہتے ہیں اس لئے کہ برف کا اور پالے کا مقابلہ صرف آگ سے ہی کیا جا سکتا ہے۔کافی عرصے سے خصوصاً ان شہروں کہ جہاں گیس اور بجلی کی سہولیات مہیا ہیں لوگ لکڑیاں جلانابھول چکے ہیں اسی لئے ان شہروں میں لکڑیوں کے ٹال بھی ختم ہو گئے ہیں اب صورت حال یہ ہے کہ نہ ہم لوگ لکڑیاں لا اور جلا سکتے ہیں او رنہ ہمیں ہمارے گیس اور بجلی والے محکمے گیس اور بجلی مہیا کرنے کو راضی ہیں لحافوں میں گھس کر دن رات گزارنے کے زمانے بھی لد گئے کہ اب تو دن بھر کہیں ہاتھ پیر ماریں گے تو کہیں سے دو وقت کا کھانا مل پائے گا اور اب تو حال یہ ہے کہ اگر ہم آٹا دال لے بھی آئے تو مسئلہ ان کے پکانے کا بن جاتا ہے ہمارے ہاں نہ لکڑی اور چولہے کا بندو بست ہے اور نہ تیل والے چولہے ہم نے باقی رکھے ہیں سوئی ناردرن والوں کو ہماری اس مجبوری کا معلوم ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھا کر ہمیں زیادہ سے زیادہ اپنے سلام کو مجبور کرتے ہیں بجلی کا تو خیر سب کو معلوم ہے کہ اسکے سپلائی کرنے والی تاریں کھلے آسمان کے نیچے ہوتی ہیں اور برف کو ان تاروں پر بیٹھنا کچھ زیادہ ہی بھلا لگتا ہے جس کی وجہ سے ہماری بجلی کی تاروں کو اس طرح برف کا اپنے اوپر بیٹھنا ذرا بھی نہیں بھاتا اس لئے تو بجلی کی روانی کو جاری رکھنے سے قاصر ہو تی ہیں لہٰذا وہ گرڈ سٹیشن کو بجلی بھیجنے سے منع کر دیتی ہیں اور فیڈرز ان کے ساتھ ہمیشہ تعاون کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں اور فوراً ٹرپ ہو جاتے ہیں اب تاروں کی فالٹ کو ڈھونڈنے کیلئے لائن مینوں کو برف پوش پہاڑوں پر چڑھنا پڑتا ہے ۔

اور تاروں کو برف سے آزاد کروانا ہوتا ہے اور یہ خالہ جی کا گھر نہیں ہوتاچنانچہ بجلی کی غیر حاضری کو صارفین کو برداشت کرنا ہی پڑتا ہے مگر ہمیں حیرانی سوئی ناردرن پرہے کہ انکے پائپ تو زمین میں تین سے پانچ فٹ تک گہرے دبے ہوتے ہیں ان میں فالٹ کیسے آ جاتا ہے اور کیسے آ سکتا ہے ؟پریشر کا کم یا زیادہ کرنا بھی محکمہ کے ہاتھ میں ہوتا اور اس کیلئے ان کو ریکی بھی نہیں کرنی پڑتی تو خدا جانے پھر سوئی ناردرن والے ہم پر اتنے مہربان کیوں ہیں کہ اس سخت سردی میں ہم سوئی گیس کو تر س رہے ہیں اور دو دو کمبل اور رضائیاں لیکر بھی سردی سے پکے راگ الاپ رہے ہیں۔رہا سوال بجلی کا تو گیس کی وجہ سے اس کی بھی اتنی زیادہ کمی محسوس نہیں ہوتی اس لئے کہ روشنی کیلئے گیس کے لیمپ موجود ہیں ہم اپنے محکمہ سوئی نادرن ایبٹ آباد کے عملے سے درخواست ہی کر سکتے ہیں کہ ہمارے محلے کے گیس کنکشنز کو سی این جی سٹیشنوں سے آزاد فرما کر ہماری مشکلوں کا تدارک فرمائیں نہ صرف یہ ہماری اپنے لئے گذارش ہے بلکہ پورے ملک میں سی این جی اور گھریلو صارفین کے کنکشن ایک دوسرے سے جدا کریں اس لئے کہ سی این جی استعما ل کرنیوالی گاڑیاں پٹرول پر بھی چل سکتی ہیں مگر سوئی گیس کے صارفین کیلئے اب کوئی دوسرا متبادل بھی نہیں ہے۔