بریکنگ نیوز
Home / کالم / پارلیمنٹ میں ہرطبقے کی نمائندگی ضروری ہے

پارلیمنٹ میں ہرطبقے کی نمائندگی ضروری ہے

جسٹس سعید الزمان صدیقی سابق گورنر سندھ نے اس دار فانی سے کیا کوچ کرنا تھا کہ ملک کے سیاسی حلقوں میں گورنر اور صدر کے عہدوں کی افادیت کے بارے میں ایک نئی بحث چھڑ گئی‘ ان تجزیہ نگاروں کے اس موقف میں کافی وزن نظر آتا ہے جو ان دونوں مناصب کو ملکی خزانے پر ایک اضافی بوجھ تصور کرتے ہیں ان دونوں عہدوں کا ہونا یا نہ ہونا اس لئے برابرہے کہ ان عہدوں پر حکومتیں جن افراد کو بٹھاتی ہیں ان کے منہ میں نہ تو دانت ہوتے ہیں اور نہ وہ وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کی کسی بات سے اتفاق نہ کرنے کی جرات کر سکتے ہیں ان کا اگر کوئی کردار ہوتا ہے تو بس نمائشی حد تک ہی ہوتا ہے ان کی پوزیشن روبوٹ سے زیادہ نہیں ہوتی کہ جنہیں وزیراعظم ہاؤس یا وزیراعلیٰ ہاؤس سے بذریعہ ریموٹ کنٹرول چلایا جاتا ہے ہم نے تو پارلیمانی نظام حکومت میں ان دونوں عہدوں پر براجمان افراد کو اکثر بے بس پایا ذوالفقار علی بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دور میں اس وقت کے صدر فضل الٰہی چوہدری توبس ایک مذاق بن کر رہ گئے تھے ایوان صدر کی عمارت کے دیواروں پر بعض منچلوں نے اس قسم کے نعرے لکھ دیئے تھے ’’ صدر فضل الٰہی چوہدری کو رہا کرو‘‘ وزیراعظم نواز شریف کے دوسرے اور تیسرے دور وزارت عظمیٰ میں رفیق تارڑ او ر ممنون حسین کی حالت زار کو دیکھ کر سیاسی تجزیہ نگاروں کو ترس آتا ہے ‘ جس قسم کا پارلیمانی جمہوری نظام اس ملک میں چلایا گیا ہے یا چلایا جا رہا ہے وہ اس ملک کی تقریباً تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کو بھاتا ہے کیونکہ اس میں انکی دال آسانی سے گل جاتی ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ انہوں نے اس نظام کے تقاضوں کو کبھی بھی کما حقہ پورا نہیں کیا یہ بات تو طے ہے کہ دنیا میں کوئی نظام حکومت بھی مثالی نہیں کسی میں اگر ایک نقص ہے تو کسی میں دوسرا‘ برطانیہ کے وزیراعظم سرونسٹن چرچل نے کیا خوب بات کہی تھی کہ سردست پارلیمانی جمہوریت سے بہتر کوئی نظام ہم نے نہیں پایا ہاں اگر کل کلاں اس سے بھی کوئی بہتر نظام دریافت ہو گیا تو اسے اپنانے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے۔

اس تاریخی جملے کا مطلب یہ ہے کہ خوب سے خوب ترکی تلاش ترک نہیں کرنی چاہئے حالات اور تجربات سے فائدہ اٹھا کر ہم نئے موقع محل کے مطابق آئین میں ترمیمات کا سلسلہ جاری رکھیں ‘ جو پارلیمانی نظام اس ملک میں لاگو ہے اس کا المیہ یہ ہے کہ اس میں ملک کی ایک وسیع آبادی جس میں کسان‘ ہاری ‘ مزارعین ملوں کے مزدوراور ورکنگ کلاس سے تعلق رکھنے والے دیگر کروڑوں کی پارلیمنٹ میں صحیح طور پر نمائندگی نہیں ہوتی انکا کوئی والی وارث نہیں ہوتا ان طبقوں سے تعلق رکھنے والے شاذ ہی کبھی الیکشن میں کامیاب ہوکر اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں۔

جو لوگ ہمارے اراکین پارلیمنٹ بنتے ہیں چونکہ ان کا معاشرے کے محروم اور مفلوک الحال طبقوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا لہٰذا وہ آئین سازی کرتے وقت ان کے مفادات کا بالکل خیال نہیں رکھتے اس کمی کو محسوس کرتے ہوئے آ ج ملک کے دانشور طبقوں میں یہ سوچ جنم لے رہی ہے کہ ملک کے آئین میں ایسی ترمیمات عمل میں لائی جائیں کہ جن کے ذریعے اسکو یقینی بنایا جائے کہ کسانوں ‘ مزارعین اور مزدوروں کیلئے انکی آبادی کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشستیں مختص کی جائیں کہ جن پر صرف ان طبقوں سے تعلق رکھنے والے ہی الیکشن لڑیں آج چونکہ ہماری پارلیمنٹ میں اشرافیہ سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت ہے لہٰذا وہ کوئی ایسا قانون بنانے کی جرات ہی نہیں کر سکتے ہیں کہ جوعوام دوست ہو اور جس سے ان کے مالی مفادات کو رتی بھر زک پہنچتی ہو اگر یہی نظام جاری رہا تو تو پھر اس ملک کے غریب لوگوں کا اللہ ہی حافظ! آپ بھلے اس کو جمہوریت کانام دیں یا کوئی اور نام جب تک اس ملک میں رہنے والے ہر طبقے کی نمائندگی اس کی آبادی کی بنیاد پر پارلیمنٹ میں نہ ہو گی اس ملک میں غریب کا معاشی استحصال کبھی ختم نہ ہو گا۔