بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پاکستان کا اصولی مؤقف

پاکستان کا اصولی مؤقف

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں ہونیوالے حالیہ بم دھماکوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے افغان صدر اشرف غنی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے جنرل باجوہ نے واضح کیا کہ پاکستان میں کسی دہشت گرد کیلئے کوئی پناہ گاہ نہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ الزام تراشیوں سے خطے میں امن کے دشمنوں کو ہی فائدہ ہوتا ہے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف نے انسداد دہشت گردی میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کیلئے موثر سرحدی انتظام کی تجویز بھی دی افغان صدر نے نیک خواہشات کے اظہار پر جنرل قمر باجوہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں استحکام کیلئے دونوں ملکوں کو مل کر کام کرنا ہے ۔ عین اسی روز خارجہ امور کیلئے وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے موجودہ صورتحال میں پاکستان کی پالیسی کے خدوخال واضح کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان زمینی حقائق دیکھے گا تو امن کیلئے طالبان سے مذاکرات کریگا ۔

امریکہ کیساتھ تعلقات 2017ء کے چیلنجز میں شامل ہیں مگر امریکی ڈکٹیشن قبول کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا نئے سال میں بھارت کے ساتھ مذاکرات کی بحالی چاہتے ہیں تاہم پاکستان کی جانب سے یہ بھی واضح اور دوٹوک بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ مذاکرات مسئلہ کشمیر پر بات کئے بغیر نہیں ہوں گے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی افغان صدر سے ٹیلی فون پر ہونیوالی بات چیت اور وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز کا انٹرویو خطے کی صورتحال میں پاکستان کے مؤقف اور امن کے قیام اور بھارت کے ساتھ تمام متنازعہ امور بات چیت کے ذریعے طے کرنے کی پاکستانی کوششیں بھی سب کے سامنے ہیں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی جانی قربانیاں اور معیشت کے شعبے میں اربوں کا نقصان بھی ارضی حقیقت ہے ایسے میں عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ بھی پاکستان کی جانب سے بہتری کیلئے جاری کوششوں میں ہاتھ بٹائے۔

مہنگائی کی نئی لہر

بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ بھاری یوٹیلٹی بلوں اور مہنگائی کے ہاتھوں انتہائی اذیت کے شکار شہری پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے پر مزید مشکلات برداشت کریں گے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرول 1.77 اور ڈیزل 2 روپے فی لیٹر مہنگا ہونے کا اثر صرف ٹرانسپورٹ کے حوالے سے نہیں ہوگا بلکہ فارورڈنگ چارجز بڑھنے پر مارکیٹ بھی متاثر ہوگی اس کا اثر صنعت پر پڑے گا اور صنعت میں ہر بوجھ صارفین پر مقررہ شرح سے کچھ زیادہ ڈالنے اور کسی بھی ریلیف کی صورت میں ہر رعایت کا فائدہ خود اٹھانے کی روش عام ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کو پٹرول بم قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ میں احتجاج کا اعلان کیا ہے حکومت کے لئے اگر عالمی مارکیٹ کی صورتحال کے تناظر میں یہ اضافہ روکنا ممکن نہیں تو اس کے اضافی اثرات سے عام شہریوں کو بچانے کیلئے اقدامات تو اٹھائے جاسکتے ہیں پٹرولیم پراڈکٹس کے ریٹس کسی بھی ریاست میں مجموعی اقتصادی منظر نامے کو کس طرح متاثر کرتے ہیں یہ بات ہمارے پالیسی سازوں اور انتظامی امور کے ذمہ داروں کے علم میں ہے ایسے میں عام شہری کا بوجھ کم کرنے کیلئے موجودہ صورتحال کے تناظر میں حکمت عملی ترتیب دینا ناگزیر اور ذمہ دار اداروں کی ذمہ داری ہے۔