بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پانامہ کیس ، پارلیمانی تقریر کا بطور شواہد جائزہ لیا جاسکتا ہے،سپریم کورٹ

پانامہ کیس ، پارلیمانی تقریر کا بطور شواہد جائزہ لیا جاسکتا ہے،سپریم کورٹ

اسلام آباد۔پانامہ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ پارلیمانی تقریر کا بطور شواہد جائزہ لیا جاسکتا ہے، آپ کا کیس آرٹیکل 19 کے زمرے میں نہیں آتا، دلائل کو کیس تک محدود رکھیں، آرٹیکل 19 اظہار رائے کا حق کا ہے، آپ استثنیٰ مانگ رہے ہیں، دنیا بھر کی پارلیمان میں ارکان کے آپس میں جھگڑے بھی ہوتے ہیں کیا ان جھگڑوں کو بھی عدالت میں لایا جاسکتا ہے ایسے حوالے موجود ہیں جس کے تحت عدالت پارلیمانی کارروائی کا جائزہ لے سکتی ہے، پارلیمنٹ قانون بناتی ہے،عدالت اس کی تشریح کرتی ہے،تشریح کی غرض سے تقریر کا جائزہ لیا جائے تو وہ خلاف ورزی نہیں، عدالت کے روبرو استحقاق کا سوال نہیں ، ایک معاملے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پیر کو سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل پانچ رکنی بینچ نے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید احمد اور طارق اسد ایڈووکیٹ کی جانب سے وزیراعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کے افراد کی آف شور کمپنیوں کی تحقیقات کے لئے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔سماعت شروع ہوئی تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ گزشتہ روز آپ نے پارلیمانی کارروائی عدالت میں چیلنج نہ ہوسکنے کا ذکرکیا تھا۔ نیوزی لینڈ کے ارکان اسمبلی نے فلور پر تقریر اور میڈیا پر کہا اپنی بات پر قائم ہیں ۔عدالت نے قرار دیا پارلیمنٹ میں تقریر ارکان کے خلاف بطور ثبوت استعمال ہوسکتی ہے۔ برطانوی عدالت نے ایک فیصلے میں کہا کرپشن کو پارلیمانی استثنیٰ حاصل نہیں ۔آئین کے آرٹیکل 68کے تحت ججز کا کنڈکٹ بھی پارلیمنٹ میں زیر بحث نہیں آتا ۔ مخدوم علی خان نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ صدر‘ گورنر اور وزیراعظم کو آئینی استثنیٰ حاصل ہے۔ وزیراعظم کو استثنیٰ امور مملکت چلانے پر حاصل ہوتا ہے۔ آئین صدر اور گورنرز کو مکمل استثنیٰ فراہم کرتا ہے۔

مخدوم علی خان کی جانب سے چوہدری ظہور الٰہی کیس کا حوالہ دیا گیا جس پرجسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ظہور الٰہی کیس میں وزیراعظم نے تقریر اسمبلی میں نہیں کی تھی۔ ظہور الٰہی کیس کا حوالہ دینے سے متفق نہیں ۔ آرٹیکل 19 کے تحت ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ کا کیس آرٹیکل 19 کے زمرے میں نہیں آتا۔ اپنے دلائل کو کیس تک محدود رکھیں۔ آرٹیکل 19 اظہار رائے کا حق کا ہے۔ آپ استثنیٰ مانگ رہے ہیں۔ مخدوم علی خان نے کہا کہ بھارت میں سپریم جوڈیشل کونسل نہیں ہوتی وہاں ججز ہٹانے کے لئے دونوں ایوانوں سے قرارداد کی منظوری ہوتی ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ان ممالک میں بھی ہونی چاہئے۔ مخدوم علی خان نے کہا کہ وزیراعظم نے تقریر میں کوئی غلط بیانی نہیں کی تو پھر وزیراعظم اس تقریر پر کیسے نااہل ہوسکتے ہیں۔ وزیراعظم نے آر ٹیکل 248 کا استثنیٰ نہیں مانگا۔ وزیراعظم وہی مانگ رہے ہیں جو آرٹیکل 66 میں ارکان پارلیمنٹ کو حاصل ہے ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ دنیا بھر کی پارلیمان میں ارکان کے آپس میں جھگڑے بھی ہوتے ہیں کیا ان جھگڑوں کو بھی عدالت میں لایا جاسکتا ہے ایسے حوالے موجود ہیں۔

جس کے تحت عدالت پارلیمانی کارروائی کا جائزہ لے سکتی ہے۔ مخدوم علی خان نے کہا کہ تقریر کو بطور شہادت پیش نہیں کیا جاسکتا۔ تقریر کو بطور شہادت پیش نہ کرنے کے عدالتی فیصلوں کے حوالے موجود ہیں۔ اگر وزیراعظم پارلیمنٹ سے باہر تقریر کرتے تو 248کا استثنیٰ مانگتے۔مخدوم علی خان نے کہاکہ برطانیہ میں قانون ہے کہ ایک شخص کو دوسرے کے قریب آنے سے روکا جاتاہے،ایسا یہاں ہونے لگ جائے تو پارلیمانی نظام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاکہ آپ پر الزام ہے کہ آپ کی تقریر حقائق کے مطابق نہیں،آپ پر دوسرا الزام ہے کہ تقاریر میں تضاد ہے،الزام یہ بھی ہے کہ تقریراور دستاویزات کے موقف میں بھی تضاد ہے،درخواست گزار کا موقف ہے کہ والد اور بچوں کے بیانات میں بھی فرق ہے۔مخدوم علی خا ن نے کہاکہ آرٹیکل66اطلاق ہوگا تو کوئی تضاد نہیں ہوگا،عدالت آرٹیکل66کے تحت جائزہ نہ لے تو کوئی تضاد نہیں۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاکہ پارلیمنٹ سے باہر کی کارروائی استحقاق کا حق نہیں رکھتی۔مخدوم علی خان نے کہاکہ وزیراعظم کے قوم سے خطاب پر آرٹیکل66کا اطلاق نہیں ہوتا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ پارلیمانی تقریر کا بطور شواہد جائزہ لیا جاسکتا ہے،وزیراعظم کے وکیل نے وزیراعظم کی تقریر کا اقتباس پڑھ کر سنایا،اقتباس میں بچوں کے بیرون ملک کاروبار کی تفصیل بتائی گئی،وکیل نے کہا کہ تقریر میں ایسی بات نہیں جس پر وزیراعظم کو نااہل قراردیاجاسکے،تقریر یا بچوں کے بیان پر تضاد پر بھی نااہل قرار نہیں دیاجاسکتا۔

وزیراعظم کی نااہلی کیلئے ان کے صادق اور امین ہونے کا تعین ہونا چاہیے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ پارلیمنٹ قانون بناتی ہے اور عدالت اس کی تشریح کرتی ہے،تشریح کی غرض سے تقریر کا جائزہ لیا جائے تو وہ خلاف ورزی نہیں۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاکہ کیا آرٹیکل 66صرف پارلیمنٹ میں تقریر پر استثنیٰ دینے سے متعلق ہے،صرف پارلیمنٹ ہی نہیں بلکہ قوم سے کیے گئے خطاب کا بھی سوال ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سوال کیا مخدوم علی خان صاحب کیا بچے سچ بول رہے ہیں یا والد؟۔مخدوم علی خان نے کہاکہ پارلیمانی تقاریر کو استثنیٰ حاصل ہے،کئی مواقع پر عدالت نے قانون کی تشریح کیلئے تقاریر کا جائزہ نہیں لیا،عدالت کے سامنے وزیراعظم کا نہیں کسی ایم این اے کو نااہل ہونے کا سوال ہے۔ اس مقصد کیلئے عدالت کو قانون کا سہارا لینا ہوگا۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاکہ آرٹیکل66کا استحقاق انفرادی نہیں اجتماعی ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ عدالت کے روبرو استحقاق کا سوال نہیں ہے،عدالت ایک معاملے کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔مخدوم علی خان نے کہا کہ وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں کوئی غلط بیانی نہیں کی،ایسی کوئی دستاویز نہیں جس سے ثابت ہو کہ دبئی فیکٹری سے نوازشریف کا تعلق تھا،ویلتھ ٹیکس عدم ادائیگی پر کسی عدالت کا فیصلہ نوازشریف کے خلاف نہیں۔ نوازشریف کے خلاف ویلتھ ٹیکس عدم ادائیگی کا کوئی معاملہ زیرالتوار نہیں،ویلتھ ٹیکس قانون2003میں منسوخ ہوچکا ہے،قانون منسوخ ہوئے14سال گزر گئے اور اس پر نااہلی مانگی جارہی ہے،پانامہ لیکس کیس کی سماعت (آج)بدھ تک ملتوی کردی گئی۔