بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیگل کی عظمت کاکیارازہے؟

سیگل کی عظمت کاکیارازہے؟


آج سیگل کی 70ویں برسی ہے‘سیگل کے سرپر عظمت کا تاج کیوں ہے؟اُن میں کیا خاص بات تھی؟ اُنھوں نے گائیکی سے شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔ وہ آج بھی انڈین فلم انڈسٹری کے پہلے سپرسٹار مانے جاتے ہیں۔ اُن کا دور 1930ء اور 1940 ء کی دہائیاں تھا ، اس دور کے کتنے اور گانے والے ہمیں آج یاد ہیں؟ لیکن سیگل نے تو جیسے آبِ حیات پی لیاہو۔ آپ اُنکے حوالے سے قلم اٹھائیں تو کرۂ ارض کے دور دراز کے گوشوں سے لوگ اُن پر تبصرہ کرنے کیلئے موجود ہونگے ۔ اُنکی شہرت کے تسلسل کا کیار از ہے ؟
سب سے پہلی وجہ تو اُن کی آواز ہے، لافانی اور بے مثال،بجا طور پرسنہری قرار دی جانے والی آواز، جس کی جادوگری کو بیان کرنے میں الفاظ کی کم مائیگی آڑے آتی ہے ۔ اس کے بعد گائیکی،جواحساس، جذبات اورمعنویت میں ڈوبی ہوئی ہے۔ گیت کا موضوع کیا تھا، الفاظ کے کیا معانی تھے؟سیگل اپنی گائیکی سے الفاظ کا پردہ چاک کرکے ان میں پنہاں جذبات کو سننے والے کے سامنے لا کھڑا کرتے ۔ تمام عظیم گائیک اور موسیقار یہ خوبی رکھتے ہیں۔ اگر موسیقی اور گیت آپ کے دل کی تاروں کو نہیں چھیڑتے تو پھر وہ کارِ لاحاصل۔ عظمت اور عامیانہ پن میں یہی فرق ہے‘ حقیقی معنوں میں عظیم گلوکار دوسروں سے کہیں بڑھ کر اس خوبی کے حامل ہوتے ہیں۔ اوپیرا اور ہندوستانی کلاسیکی موسیقی ، دونوں پر یہ بات صادر آتی ہے ۔

بہت سے گلوکار وں نے ، فرض کیجئے ، راگ ایمن گایا یا ہے ۔ اب میرا علمِ موسیقی اتنا گہر ا اور ہمہ گیر نہیں جتنا ہونا چاہئے۔ میں موسیقی کے بارے میں بہت جوشیلی باتیں کرسکتا ہوں لیکن اس کی فنی جہت سے لاعلم ۔ تاہم علم موسیقی سے نابلد ہونے کے باوجود میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ استاد بڑے غلام علی خان صاحب کی آواز میں راگ ایمن سنیں (اُن کے 1956 ء کے بنگلور کنسرٹ کی ریکارڈنگ یوٹیوب پر موجود ہے )تو عام اور خاص اور عظیم گائیکی میں فرق واضح ہوجائے گا۔ میں جس ریکارڈنگ کی بات کررہا ہوں، اس میں جس گھڑی استاد صاحب خیال پیش کرتے ہیںآپ کو فرق محسوس ہوجاتا ہے ، اور اس کے ساتھ ہی آپ خود کو ایک نئی دنیا میں پاتے ہیں۔ استاد امیر خان کو سنتے ہوئے بھی یہی کیفیت طاری ہوجاتی ہے ۔ یہی کچھ سیگل پر بھی صادر آتا ہے ۔ جس لمحے وہ راگ چھیڑتے ہیں، یا غزل گاتے ہیں، آپ پراُن کی آواز کا سحر طاری ہونے لگتا ہے ۔اس میں صرف گائیکی کے معیار یا موسیقی کی ہی کارفرمائی نہیں بلکہ آواز اور آہنگ آپ کے دل میں سوز وگداز پید اکردیتے ہیں۔اُن کے ادا کردہ الفاظ ، جیساکہ ’’قیامت‘‘ یا ’’ہنوز‘‘ مختلف آہنگ میں ڈھل کر سماعت کی وادی میں اترجاتے ہیں۔ ایک گیت، ’’میں تو دنن کی تھوڑی‘‘، میں ایک لڑکی کہہ رہی ہے کہ میری نوخیز ،بالی عمریا ہے ،لیکن میرا محبوب مجھے کچھ اور ہی سکھاتے ہوئے کسی اوردنیا میں لے جارہا ہے‘ گیت کی جادوبھری مدھراستھائی کا سحر پورے گیت پر طاری رہتا ہے۔

غزل گانے والے بہت سے ، لیکن سیگل کی غزل گائیکی کا انداز سب سے جدا ، جوہمارے دور کے مقبول گلوکاروں، جیسا کہ استاد مہدی حسن یاا ستاد غلام علی سے بہت مختلف ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ اپنے لڑکپن میں سیگل جموں، جہاں وہ پروان چڑھے، میں ایک گانے والی کے کوٹھے کے نیچے کھڑے ہوکر اُسے سنتے ۔ اُن گلوکارہ کانام تو گزرتے وقت کے دھارے میں گم ہوگیا، لیکن اس سماعت نے سیگل کی غزل گائیکی کو جو انداز بخشا،اُس میں ’’کوٹھے‘‘ کا رچاؤ نمایاں ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو بہت خوش قسمت ہیں جموں کی وہ تنگ اور پرسکون گلیاں، جن کا آہنگ ’’پھر مجھے دید�ۂ تر یاد آیا‘‘، اور استاد ابراہیم ذوق کے شاہکار، ’’لائی حیات آئی قضا‘‘ اور بہت سی دیگر غزلوں میں جھلکتا ہے ، اور گزرتے ہوئے ماہ و سال میں آباد رہے گا۔ 1971ء کی جنگ کے فوراً بعد لاہور میں ہونے والے مشہور عوامی جلسے ، جس میں بھٹو نے قذافی سٹیڈیم کو یہ نام دیا، وہ جذبات سے وارفتہ ہوکر ذوق کی غزل کے کچھ شعرگنگنانے لگے ۔ اُن دنوں ہماری سیاست میں شاعری اور موسیقی کا امتزاج پایا جاتا تھا، اور وہ رہنما بعد میں آنے والے جنگجو رہنماؤں کی نسبت بہت خوبیوں کے مالک تھے ۔ تاہم یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ غیر معمولی خوبیوں کے مالک رہنماؤں سے غلطیاں بھی غیر معمولی ہی سرزد ہوئیں۔
مرزا غالب کی غزلوں کو شہرت کے لیے کسی کی گائیکی یا واسطے کی ضرورت نہیں، وہ خود ہی عظمت کے اس مینار پر جہاں کسی کی رسائی امکان سے باہر، لیکن مجھے کہنے دیجیے ، اگرچہ ہے یہ موضوع تحقیق کا متقاضی ، کہ 1930 ء اور 1940 ء کی دہائیوں میں یہ سیگل تھے جن کی گائیکی نے غالب کی غزلوں کو مقبولیت بخشی ۔ بہرحال میں یہاں غلط بھی ہوسکتا ہوں۔ فن کے معیار کی پرکھ یہ ہے کہ آپ اسے کتنا سن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر میڈم نورجہاں کو سنتے ہوئے سردیوں کی طویل رات بسر ہوجاتی ہے اور پتہ بھی نہیں چلتا۔ کچھ موسیقی لمحاتی دوا کا کام دیتی ہے ، لیکن سیگل کی موسیقی عمر بھر کے لیے روح کی غذا۔ اس سے آپ سیر ہوہی نہیں سکتے ۔ سیگل کی مقبولیت کی ایک اور وجہ یہ کہ وہ فلم گائیکی کے فادر تھے ۔ شمشاد بیگم نے خیر پہلے گلوکاروں کے بارے میں قدرے سخت بات کہہ دی۔ فرماتی ہیں کہ سیگل وہ پہلے مرد گلوکار تھے جو مردوں کی طرح گاتے تھے ۔ چونکہ ان دنوں اداکار اپنے گیت خود ہی گاتے تھے، پلے بیک گلوکاری کا رواج نہ تھا، چنانچہ سیگل جیسے اداکار گلوکاروں کو اس کا بہت فائدہ تھا۔ اگرچہ وہ جسمانی طور پر بہت وجیہہ نہ تھے ۔ وہ دبلے پتلے، دراز قامت اوراُن کے بال وقت سے پہلے ہی داغ مفارقت دے گئے تھے لیکن اُن کی کم وبیش تمام فلمیں سپرہٹ ثابت ہوئیں۔ اس کے علاوہ وہ ریڈیو ، جو اُن دنوں عوامی ابلاغ کا واحد ذریعہ تھا، کے لیے بھی مسلسل گاتے ۔ اس طرح اُن کا نام برِ صغیر میں گھر گھر پہنچ گیا۔

میں اکثر سوچتاہوں کہ اُس وقت کی فلمی انڈسٹری کا آزادی کی تحریک سے کیا تعلق تھا۔ کیا اُس وقت کے فلمی ستارے سیاست پر اظہارِ خیال کرتے ؟ کیا وسیع تر انڈین سٹیج پر پیش آنے والے واقعات اُنہیں متاثر کرتے؟کیا وہ سیاسی سرگرمیوں میں عملی طور پر حصہ لیتے تھے ؟ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ایک موقع پر گاندھی جی شملہ میں گئے تو اس وقت وہاں عظیم گلوکار، ماسٹر مدن (جو صرف چودہ سال کی عمر میں فوت ہوگئے ) کا پروگرام بھی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوگ گاندھی جی کی نسبت گلوکار میں زیادہ دلچسپی لیتے دکھائی دئیے ۔ انیل بسواس کو سیاست میں دلچسپی تھی، اور ایک موقع پر اُنہیں کلکتہ میں حکام نے تھوڑی دیر کے لیے حراست میں بھی رکھا۔ تاہم فلمی دنیا کی دیگر شخصیات کے بارے میں کیا کہاجائے ؟ کیا اُن کی ایک الگ دنیا تھی؟خیر یہ بھی تحقیقات کے لیے ایک اچھوتا موضوع ہے ۔

گلوکاروں کے بارے میں ایک گزشتہ مضمون میں ، میں عظیم محمد رفیع کا ذکر کرنا بھول گیا۔ رفیع کی ایک اپنی عظمت ہے اور اس سے کس کو انکار کی مجال ۔ اگر اُن سے پہلے کا دور سیگل سے منسوب ہے تو ان کے اپنے دور میں ان کے قریب قریب بھی کوئی نہیں۔ ان کی آواز اور گائیکی کی کوئی مثل نہیں۔ کشور کمار اور مناڈے جیسے عظیم گلوکار محمد رفیع کی عظمت کو تسلیم کرتے ہیں۔ تاہم بات یہ ہے کہ کسی کو پسند کرنے کا تعلق ذوق سے ہو تا ہے ۔ میں نے موسیقی کے ناقدین کو یہ کہتے سنا ہے کہ Bach کی موسیقی آسمانی طاقتوں کی آواز ہے ، لیکن میں ذاتی طور پر بیتھون کی موسیقی کو پسند کرتا ہوں۔ سیگل کی آواز ایسا جذباتی لہجہ رکھتی ہے جو میرے ،اوربے شک ان گنت دیگر افراد کے دل کو چھولیتی ہے ۔

پسِ تحریر: ایک بات اور، عظیم موسیقار مدن موہن ، جو ’’سپنے میں ساجن سے دوباتیں، اک یاد رہی اک بھول گئی‘‘ اور ’’ہمارے بعد اب محفل میں‘‘ جیسے سحرانگیز گیتوں کے خالق ہیں، کا تعلق چکوال سے تھا۔ اُن کا آبائی گھر پرانے قصبے میں ہے ۔ پتہ نہیں وہاں اب کون رہتا ہے ؟