بریکنگ نیوز
Home / کالم / آئین کی حکمرانی

آئین کی حکمرانی


ایک آئین ہمیں 1956 میں ملا جس میں اس ملک کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا گیا اور آج تک اس کا نام اسلامی جمہوریہ ہی ہے مگر کیا یہ اسلامی جمہوریہ ہے ؟اس پر بحث ہو سکتی ہے اور ہو رہی ہے۔ اس بحث میں بابائے قوم کی تقریروں کے حوالے دونوں جانب سے دئے جاتے ہیں ۔مگر اس میں اصل حوالہ تو اس ملک کے دنیا کے نقشے پر آنے کا ہے جسے ہمارے وہ دوست جو اس ملک کو اسلامی جمہوری نہیں مانتے اس کی وجوہات معاشی مانتے ہیں۔یعنی مسلمان معاشی طور پر ہندو سے آزادی چاہتے تھے اس لئے انہوں نے پاکستان کا مطالبہ کیا مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس بنیاد پر نہ آج تک کوئی ملک معرض وجود میں آیا ہے اور نہ آئندہ اس بات کا امکان ہے۔ جو مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم مان کر اس کے عقیدے کی بنیاد پر علیحدگی کو اصل مانتے ہیں وہ کہنے کو تو حق پر ہیں مگر وہ لوگ اس کا دفاع نہیں کر پا رہے۔ اور جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے وہ اپنے مقصد سے دور ہوتے جا رہے ہیں تاہم 1956 کے آئین میں پاکستان کے حصول کی وجہ سے اس کا ابتدائیہ قرار داد مقاصد کی صورت میں اس آئین کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔ اور عہد کیا گیا تھا کہ اس ملک میں قران پاک کے قوانین کو مکمل طور پر نافذ کر دیا جائے گا۔ مگر 1963 میں ایک اور آئین وجود میں آیا جو پارلیمانی کی بجائے صدارتی طرز حکومت پر مبنی تھا مگر قرار داد مقاصد اس کا بھی حصہ رہا‘ 1973 میں ایک اور متفقہ آئین اس ملک کو دیا گیا جس میں قرارداد مقاصد کو اس کا حصہ تو بنایا گیا مگر اس پر عمل درآمد آج تک نہ ہو سکا اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ اب تو آئین کے دیگر آرٹیکلز بھی متنازع ہوتے جا رہے ہیں۔ جن میں صدر اور پارلیمان کے کچھ حقوق درج ہیں اور جن کو آج کل اور پچھلے پانچ سالہ میں بھی متنازع بنایا جا رہا ہے۔ان میں صدر کے استثنیٰ کامعاملہ ہے۔

چونکہ جب یہ تنازع کھڑا ہوا تو اس وقت صدر پاکستان آصف علی زرداری تھے اور یہ شخصیت کافی عرصے سے متنازعہ چلی آ رہی ہے۔ ان کے خلا ف کئی ایک مقدمات بھی ہیں اور ان کی وجہ سے یہ ایک بڑاعرصہ جیل میں بھی رہے ہیں اور جب پی پی پی کی حکومت آئی تو اُن کے خلاف تمام مقدمات کو چند دنوں میں ختم کر دیا گیا یعنی وہ باعزت بری ہو گئے۔ ایساہی ایک مقدمہ ان کے صدارت کے دنوں میں بھی آیا جس میں اُن کو عدالت میں پیش ہونا تھا مگر آئین کی رو سے اُن کو استثنیٰ حاصل تھا جس میں عدالت اور حکومت میں ٹھن گئی اور وزیر اعظم جناب یوسف رضا گیلانی کو آئین کے دفاع میں وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونے پڑے۔اُن کے بعد آنے والے وزیر اعظم جناب راجہ پرویز اشرف صاحب نے اس معاملے کو تو کچھ گول مول کیامگر ان پر کرپشن کے الزامات کی وجہ سے اُن کو بھی وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونے پڑے۔ مگر آئین کے آرٹیکل اپنی جگہ موجود ہیں۔ ان میں سے ایک آرٹیکل 66 ہے جس کی روسے پارلیمان میں دیئے گئے کسی بھی بیان کو عدالت میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔

یہ ایک ایسا آرٹیکل ہے کہ جس میں کوئی بھی ابہام نہیں ہے اور یہ ہر ممبر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کا استحقاق ہے۔ اس کو ہماری عدالتیں بھی جانتی ہیں اور ہمارے سیاسی لیڈر بھی جانتے ہیں مگر کیا کیا جائے کہ ایک مقدمے میں جناب وزیر اعظم کو فریق بنایا گیا ہے اوراُن پر اس تقریر کو عدالت میں زیر بحث لا نے کی بات ہے جو انہوں نے اسمبلی کے فلور پر کی ہے۔جہاں تک تقریر کاتعلق ہے تو وہ چونکہ اسمبلی میں کی گئی ہے اسلئے آرٹیکل 66 کی رو سے اس پر عدالت میں بحث نہیں ہو سکتی ۔ تو بہتر ہے کہ آئین میں ترمیم کر کے اس آرٹیکل کو حذف کر دیا جائے اور اسکو بنیاد بنا کر وزیر اعظم کا مواخذہ کیا جائے تا کہ اس کے بعد ہر اسمبلی ممبر کی تقریر جو وہ اسمبلی کے فلور پر کرے اسے عدالت میں چیلنج کیا جائے اور معزز ممبر کو سزا دلوائی جائے اور سارے ممبران اسمبلی جانتے ہیں کہ یہ بات اُن کے حقوق پر ڈاکہ ہو گی اور ان کا استحقاق کہیں نہیں رہے گا۔ اسلئے ہمارے پیارے دوست جو اس بات پر زور دے رہے ہیں وہ اپنے مستقبل پر نظر ڈال لیں۔