بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / خیبرپختونخوا کی معیشت کے تقاضے

خیبرپختونخوا کی معیشت کے تقاضے

خیبرپختونخوا حکومت نے نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں صوبوں کے حصے میں ممکنہ کٹوتی اور دیگرمعاملات پر سندھ اور بلوچستان کے ساتھ رابطوں کا آغاز کردیا ہے، اس کے ساتھ ہی صوبے کی حکومت نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو خیبرپختونخوا کے مستقبل کیلئے اہم موڑ قرار دیتے ہوئے ہوم ورک میں تیزی کا حکم دیدیا ہے، اس ضمن میں وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے سی پیک کے تناظر میں تشکیل دیئے گئے ورکنگ گروپس کو اپنے محکمانہ وسائل مارکیٹ کرنے کیلئے کام تیز کرنے کا کہا ہے، صوبائی حکومت
نے 15سے 16مارچ تک چین میں روڈ انوسٹمنٹ شو کے انعقاد کا فیصلہ بھی کیا ہے، اس مقصد کیلئے صوبائی سطح پر سٹیرنگ کمیٹی قائم کردی گئی ہے، شو میں2ہزار سرمایہ کاروں کی شرکت متوقع ہے، جس کیلئے سرمایہ کاری کا ہدف 20ارب ڈالر رکھاگیا ہے، خیبرپختونخوا کا جغرافیہ 1980ء کی دہائی سے آج تک کے حالات اور ان کے اثرات نے اس صوبے کی معیشت کو بری طرح متاثر کررکھا ہے، صوبے میں نہ صرف انفراسٹرکچر بحال کرنے اور اسے وقت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے بلکہ یہاں صنعتی وتجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے ایک جامع پیکج بھی ناگزیر ہے، اس کے برعکس صوبے کے پن بجلی کی مد میں خالص منافع کے بقایاجات کی ادائیگی اور معمول کے مطابق منافع دینے سے متعلق طے شدہ امور عمل درآمد کے منتظر ہیں۔

پن بجلی ، تیل اور گیس کی پیداوار میں بڑا حصہ ڈالنے والے صوبے کی صنعت کو بجلی اور گیس کی فراہمی کیلئے اقدامات ضروری ہیں، صوبے میں بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے گیس کی فراہمی توانائی کے شعبے میں د رپیش اہم مسئلے کا حل ممکن بنا سکتی ہے، دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن قرار پانے والے اس صوبے کے لوگوں نے جو قربانیاں دی ہیں اس صوبے کی اکانومی کو جس طرح نقصان پہنچا ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے سیاسی قیادت کو مل بیٹھ کر جامع حکمت عملی طے کرنی چاہئے، وفاق اور صوبے کے متعلقہ محکموں میں کوآرڈی نیشن یقینی بنانا چاہئے، ایک ایسے وقت میں جب ورلڈ اکنامک فورم اپنی رپورٹ میں پاکستان کی معیشت کو قابل اطمینان قرار دے رہی ہے، ملک کے اقتصادی اعشاریے حوصلہ افزاء ہیں زرمبادلہ کے ذخائر ریکارڈ سطح پر ہیں ایسے میں اگر خیبرپختونخوا میں معیشت اور سرمایہ کاری کیلئے کنکریٹ اقدامات اٹھالئے جاتے ہیں تو اسے سیاسی قیادت کی بہت بڑی کامیابی قرار دیاجائیگا۔

مریضوں کیساتھ زیادتی کانوٹس

چیف جسٹس آف پاکستان نے لاہور میں امراض قلب میں مبتلا مریضوں کو بلا ضرورت سٹنٹ ڈالنے اور سٹنٹ کی قیمت سے کئی کئی گنا زیادہ رقم وصول کئے جانے کا ازخود نوٹس لیاہے، خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس ضمن میں ڈی جی ایف آئی اے سے رپورٹ طلب کرلی گئی ہے، میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایاگیا ہے کہ بعض اوقات ایسے مریضوں سے بھی سٹنٹ کی رقم وصول کرلی جاتی ہے جنہیں سٹنٹ ڈالا ہی نہیں گیاہوتا، زیادہ فیسوں کی وصولی غیر ضروری ٹیسٹ ، غلط لیبارٹری رپورٹس ، جعلی اور دو نمبر ادویات اور اوپر سے بلا ضرورت سٹنٹ کسی بھی ملک میں شہریوں کے ساتھ یہ زیادتی انتہائی انسانیت سوز ہے، انسانی صحت اور زندگی کا معاملہ اتنا حساس ہے کہ صوبوں میں اضلاع اور تحصیل لیول پر ہیلتھ ڈلیوری سروسز کی نگرانی کیلئے فول پروف انتظامات ناگزیر ہوگئے ہیں۔