بریکنگ نیوز
Home / کالم / امریکہ سے دوری میں اب فائدہ ہے

امریکہ سے دوری میں اب فائدہ ہے

امریکہ کے نئے صدر ٹرمپ کی حلف برداری کے موقع پر شایدزرداری اور وزیراعظم دونوں واشنگٹن میں موجود ہوں اور نظر یہ آ رہا ہے کہ امریکہ کے امور خارجہ سے متعلق سینئر اہلکاران سے بھی ان کی ملاقات ہو جائے ویسے امریکی حکام زرداری صاحب اور وزیراعظم سے بخوبی واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ دونوں حضرات کتنے پانی میں ہیں امریکی حکمرانوں کو کبھی بھی یہ غرض نہیں رہی کہ پاکستان کے حکمران جمہوریت پسند ہوں یا فوجی آمر انکو تو بس یہ چاہئے کہ پاکستانی حکمرانوں کو امریکہ کا وفادار ہونا چاہئے اور ان کی ہاں میں ہاں ملائیں دنیا کو جمہوریت کا سبق دینے والے امریکی حکمرانوں نے کیا جنرل ایوب خان ‘ جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف جیسے فوجی آمروں کو گلے نہیں لگایا؟ ٹرمپ کو پاکستان کی چین سے دوستی ایک آنکھ نہیں بھاتی ‘ سی پیک کا منصوبہ تو اس کی آنکھ میں کھٹکتا ہے وہ کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ چین اور پاکستان آپس میں شیر و شکر رہیں اسکی حتیٰ الوسع کوشش ہو گی کہ وہ سی پیک کے منصوبوں میں رخنے ڈالے اس مقصد کیلئے وہ ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرنے سے باز نہ آئے گا ‘ روس کا پاکستان کی جانب جھکاؤ بھی ٹرمپ کیلئے سوہان روح سے کم نہیں پاکستان کیلئے چین اور روس کا دوستانہ اور ان سے قربت جس قد ر فائدہ مند ہو گی یہ امریکہ اور اس کے استعماری عزائم کیلئے اس قدر ہی نقصان دہ ہو گی 1947ء سے لیکر اب تک یعنی امریکی صدر ٹرومین کے وقت سے لیکر صدر اوباما کے دور حکومت تک ہر پاکستانی حکمران جس میں سیاسی رہنما بھی شامل تھے اور فوجی آمر بھی وہ امریکہ کے کے شیدائی رہے امریکہ نے پاکستان کو ہر موڑ پر ہر سیاسی بحران میں دھوکہ دیا ۔ٹرمپ کے افکار سے شک یہ پڑتا ہے کہ وہ ایک Racist شخص ہے اور یہودیوں کیلئے اپنے دل میں نہایت ہی نرم گوشہ رکھتا ہے وہ چین کی معاشی ترقی سے بھی سخت حسد کرتا ہے ۔

اس کے مسلمانوں کے بارے میں بھی خیالات کسی سے پوشیدہ نہیں ماضی میں امریکہ کی طرف سے (ڈومور) کے تقاضوں سے تو ہم بخوبی واقف ہیں لیکن نظر یہ آ رہا ہے کہ ٹرمپ اس معاملے میں اپنے پیش رو امریکی صدور سے زیادہ انتہا پسند ثابت ہو گا ہو سکتا ہے ہمارے قومی مفادات اب ہمیں اس بات کی اجازت نہ دیں کہ ہم امریکہ کی ہر جائز وناجائز بات کے آگے اپنا سر تسلیم خم کریں امریکہ کو نہ کرنے اور اس کی ناجائز بات سے انکار کرنے کیلئے ہمیں ایک مضبوط قیادت کی ضرورت پڑے گی چنانچہ پاکستان کی موجودہ قیادت اور 2018ء کے الیکشن کے بعد جو قیادت برسر اقتدار آئے گی اسے مضبوط اعصاب کا مظاہرہ کرنا ہو گا اگر کیوبا جیساچھوٹا ملک40 برس تک امریکہ جیسی سپر پاور کے آگے اپنے گھٹنے ٹیکنے سے گریز کرتا رہا اور اسے کچھ نہ ہوا تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان جیسا ایٹمی ملک امریکہ کے دوستانے اور معاونت کے بغیر اپنی شرطوں پر اپنا وقت نہ گزار سکے’’ آزمودہ را آزمودن جہل است‘‘ آزمائے ہوئے کو آزمانا جہالت ہے۔

ہمارے حکمرانوں کو اب کسی مزید امریکی جھانسے میں نہیں آنا چاہئے اس ملک کے عام آدمی کو تو نہ زرداری اور نہ میاں نواز شریف پر اعتبار اور اعتماد ہے کہ وہ امریکی دباؤ کے آگے ثابت قدم رہ سکیں گے اور ان کے سیاسی پریشر کے نیچے نہیں آئیں گے ان دونوں کا اس معاملے میں ٹریک ریکارڈ کافی خراب ہے اور پھر ان دونوں کو اچھی طرح پتہ ہے کہ ان کی خامیوں سے امریکہ اس قدر باخبر ہے کہ اگر انہوں نے واشنگٹن کی ہاں میں ہاں نہ ملائی تو کسی وقت بھی وہ ان کے سیاسی کیرئیر کو تاراج کر سکتا ہے ۔ امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ملانے کیلئے ہمیں کسی کاسٹرو کسی ماوزے تنگ کسی ذوالفقار علی بھٹو کی ضرورت ہے اور سردست اس پائے کا کوئی لیڈرہمیں تو اس ملک میں دکھائی نہیں دے رہا ۔