بریکنگ نیوز
Home / کالم / نادراکے مسائل!

نادراکے مسائل!

بچہ پیدا ہو تو اسے بحیثیت فرد اپنی شناخت درکار ہوتی ہے ماں باپ اپنا نام اسے دے کر یہ شناخت عطا کرتے ہیں ریاست بھی چونکہ ماں ہوتی ہے لہٰذا اسی طرز پر دنیا بھر میں دھرتی ماں سے اپنی نسبت کا اظہار‘ ریاست کی طرف سے جاری کردہ کسی شناختی دستاویز سے ہوتا ہے پاکستان میں یہ کام نیشنل رجسٹریشن اینڈ ڈیٹابیس اتھارٹی (نادرا) کے حوالے ہے جو اپنی بساط کے مطابق ہر ممکن کام کرنے کی سعی کر رہا ہے لیکن ا
س کے باوجود عوام کی طرف سے بد نظمی کی شکایات کا ایک انبار ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ نادرا کے کسی بھی مرکز پر چلے جائیے بلا تفریق مرد و زن‘ پیر و جواں‘ صحت مند و ناتواں‘ ناداروبے اماں عوام کا ایک جم غفیر اپنے روز مرہ کے کاموں کا حرج کر کے طویل قطاروں میں لگا ہوا نظر آئے گا نادار اس لئے کہ اگر یہ لوگ با وسائل ہوتے تو انہیں قطاروں میں نہ لگنا پڑتا ان کے شناختی کارڈز خود چل کر انکے پاس پہنچ جاتے۔ کبھی آتے جاتے صبح کے اوقات میں نادرا کا کوئی مرکز نظر آئے تو ذرا رک کر ایک نظر دیکھئے‘ ہجوم ایسا ہوگا کہ آپ کو گمان گزرے گویا یوم حشر ہے۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے اپنے قریبی کسی نادرا دفتر کا دورہ کر لیجئے آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ قیامت کی بھیڑ کسے کہتے ہیں!

نادرا کی جانب سے سمارٹ ایگزیکٹو سینٹرز شروع کئے گئے جہاں ہزار گنا مہنگے داموں شناختی کارڈز بنائے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی قطاریں ختم نہیں ہوتیں اور ناشتے کا ٹفن ہاتھوں میں لئے نظر آئیں گے تو کئی بد قسمت نہار منہ قطار میں لگے ملیں گے!ریاست اگر اپنی اولاد کی ضروریات پوری نہیں کر سکتی تو انہیں عزت ہی دے دے۔ عزت تو انکا حق ہے کیا پاکستانی ہونا ایسا جرم ہے جسکی تلافی کرنے کیلئے گھنٹوں قطاروں میں لگنا پڑے؟ اپنی شناخت ہر شہری کا حق ہے جو اسے قطاروں میں لگ کر نہیں‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس زمانے میں گھر بیٹھے ملنی چاہئے آمدنی کے لحاظ سے متوسط درجہ بندی میں آنیوالی آبادی والے علاقوں کا حال اگر خراب ہو تو ذرا چشم تصور سے دیکھئے کہ دیہی یا مضافاتی علاقوں کے عوام نادرا کی مقرر کردہ فیس ادا کرنے کے باوجود کس قدر ذلت برداشت کرتے ہونگے؟نادرا جس ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کر رہی ہے اس کا تجزیہ کریں تو آپ اسے دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں ایک ٹوکن حاصل کر کے تصویر بنوانا اور ڈیٹا انٹری کروانا جبکہ دوسرا‘ اپنے فارم کا پرنٹ لے کر اس کی تصدیق اور جمع کروانا جن لوگوں کو اس قطار میں لگنے کا تجربہ ہے وہ اتفاق کریں گے کہ بنیادی طور پر مرحلہ نمبر ایک ہی زیادہ وقت لیتا ہے۔

پاکستان ریلویز کا‘ کارگو سیکشن‘ پاکستان پوسٹ اور قومی بچت کے مراکز وہ ادارے ہیں جن سے متعلقہ کاروبار روڈ ٹرانسپورٹرز‘ نجی کورئیر کمپنیز اور مختلف نجی بینک بہت صفائی کیساتھ بغیر ڈکار لئے ہڑپ کر چکے ہیں اب انکا زیادہ تر عملہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہتا ہے کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ حکومت اپنے ان چہیتے اداروں کو نادرا ’’ای سہولت شاپ‘‘ کی طرز پر نادرا کے ڈیٹا تک رسائی دے دے یہ لوگ ڈیٹا انٹری کر کے پرنٹ آؤٹ درخواست دہندہ کے حوالے کر دیا کریں یقین مانئے لمبی لمبی قطاروں میں لگنے کی کوفت ختم نہیں تو کافی حد تک کم ضرور ہو جائیگی فارم کی تصدیق اور جمع کروانے کا عمل صرف نادرا کے اپنے مراکز پر ہو ہینگ لگے گی نہ پھٹکڑی اور رنگ چوکھا آئے گا فارم تصدیق کے ضمن میں ایک قابل تحسین عمل نادرا نے حال ہی میں شروع کیا ہے جسکی تعریف ہونی چاہئے۔ درخواست دہندہ کے فارم کی تصدیق کیلئے اب اہل خانہ میں سے کسی کو بلایا جاتا ہے اس سے پہلے یہ کام کسی بھی گزیٹڈ افسر سے کروایا جا سکتا تھا اس سے بد عنوان اہلکاروں کو موقع مل جاتا تھا کہ کسی غیر ملکی کا فارم کسی گزیٹڈ افسر سے تصدیق کروا کے غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ جاری کردیئے جاتے تھے اہل خانہ سے تصدیق کروانا بہت احسن عمل ہے۔

کوئی بھی ذی شعور اور محب وطن شخص یقیناًکسی اجنبی کو اپنے فیملی ٹری میں داخل نہیں ہونے دیگا بعض لوگوں کو یہ مشکل لگتا ہے لیکن بہرحال اس سے بد عنوانی کا مناسب سدباب ہوگا نادرا نے ویب سائٹ کے ذریعے اندرون و بیرون ملک سے درخواستیں وصول کرنیکا نظام شروع کیا ہے۔ اسے عوام میں کچھ پذیرائی تو مل رہی ہے لیکن لوگوں کو شکایت ہے کہ دس پندرہ روز کا وعدہ کر کے کئی کئی مہینے شناختی دستاویز فراہم نہیں کئے جاتے بنیادی طور پر یہ پراجیکٹ سمندر پار پاکستانیوں کو سمارٹ کارڈ‘ نائی کوپ‘ ایف آر سی و دیگر شناختی دستاویز جاری کرنے کے لئے شروع ہوا اور اس کیلئے فیس غیر ملکی کرنسی میں یا متبادل ایکسچینج ریٹ سے چارج کی جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ سمندر پار پاکستانی پانچ گنا مہنگی فیس وطن عزیز کی معیشت میں اپنا حصہ سمجھ کر بخوشی ادا کرتے ہیں۔ اگر آئی ٹی سٹاف اپنی روش میں تبدیلی لے آئے اور عزم کر لے کہ وہ قومی شناخت فراہم کرنیکا فریضہ جہاد سمجھ کر ادا کریگا تو نہ صرف یہ ویب سائٹ ’نادرا‘ کا کماؤ پوت ثابت ہوسکتی ہے بلکہ دیار غیر میں آغوش مادر کی نرمی و گرمی کو ترسنے والوں کیلئے ریاست سوتیلی کے بجائے سگی ماں محسوس ہونے لگے گی۔ آزمائش شرط ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: طاہر صادق۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)