بریکنگ نیوز
Home / کالم / ایک گھمبیرمسئلہ

ایک گھمبیرمسئلہ


دہشت گردی کیخلاف جو قومی لا ئحہ عمل تما م پارٹیوں نے مل کر بنا یا تھا ایک سال ایک ماہ بعد اسکو الوداع کہہ دیا گیا ہونا یہ چاہئے تھاکہ 22 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے نیشنل ایکشن پلان کو اگلے دو سال یا 5 سال کے لئے تو سیع دی جاتی اس قومی لائحہ عمل کے تحت دہشتگردی کے مقدمات کو سننے کیلئے فوجی عدالتیں قائم ہوئی تھیں 13 ماہ کے اندر فوجی عدالتوں نے 161 مجرموں کوپھانسی کی سزائیں سنائیں تا ہم قومی لائحہ عمل کے تحت 1997 سے 2014 تک سزائے مو ت کے جو مجرم جیلوں میں بند تھے ان کو سزائے مو ت دیدی گئی اسطرح حکومت کی عملداری قائم ہوئی دہشت گردی کیخلاف حکومت کا عزم آشکار ہوا حکومت کی عزت بحال ہوئی اور قانون کے تقاضے پورے ہوتے ہوئے نظر آئے اب فوجی عدالتوں سے سزاپانے والے149 مجرموں کی سزاؤں پر عملدرآمد باقی ہے بعض کی سزاؤں پر عملد ر آمد باقی ہے بعض کی سزاؤں پر عملد رآمد کو عدالتوں نے روکا ہوا ہے وفاقی حکومت کے بارے میں کہا جاتاہے کہ ان سزاؤں پر عمل درآمد نہیں چاہتی نیشنل ایکشن پلان کے تحت 6 جنوری2015 ء کو پارلیمنٹ میں اکیسویں ترمیم کا بل منظور ہوا فوجی عدالتوں کو ایک سال کے لئے کام کرنے کا اختیار ملا توسینٹ کے موجودہ چیئر مین میاں رضا ربانی نے آنکھوں میں آنسو لاکر رندھی ہوئی آواز میں کہا تھا کہ ہم نے دل پر پتھر رکھ کر فوجی عدالتوں کو کام کرنیکی اجازت دی ہے اس روز وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے فوجی عدالتوں کے قانون کو ناگزیر برائی کا نام دیا تھا وقت نے ثابت کیا کہ یہ قانون بہت ضروری تھا اگریہ قانون نہ ہوتا تو پاکستان میں امن کا قیام نا ممکن ہو جاتا دہشتگر دی کیخلاف جنگ جیتنے میں پاک فوج کی دلیرانہ کاروائی اور جنرل راحیل شریف کی ذاتی بہادری جرات اور ہمت کیساتھ اراکین پارلیمنٹ کی بصیرت اور فوجی عدالتوں کی طرف سے مجرموں کیخلاف فوری فیصلوں کا بھی بڑا دخل تھا 6 جنوری کو بل پاس ہوا21 جنوری کو دہشتگردوں کی پھانسی شروع ہوئی بے شک یہ لوگ فوجی عدالتوں کے سزایا فتہ نہیں تھے ان کو سول عدالتوں نے کئی برس قبل سزائے مو ت سنائی تھی۔

مگر سزاؤں پر عمل نہیں ہو رہا تھا اکیسویں ترمیم کے بعد سزاؤں پر عمل درآمد شروع ہوا جس سے بھارت اور افغانستان سے آنیوالے دہشت گر د وں پر یہ بات واضح ہوگئی کہ سزائے مو ت بھی ہوسکتی ہے ملک میں قانون آگیا ہے عدالتیں آگئی ہیں خدانخواستہ اگر دو ماہ بعد دہشت گردی کی لہر دوبارہ آگئی تو اس کی بنیا دی وجہ یہ ہوگی کہ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کو ادھورا چھوڑدیا 22 ویں آئینی ترمیم کو التواکا شکار کیا حکومتی پارٹی اور اپوزیشن دونوں نے مل کر فوجی عدالتوں کو ختم کیا اور ملک کو ایک بار پھر لا قانونیت کی طرف دھکیل دیا پارلیمنٹ کی ناکامی کے بعد اب سارا بوجھ عدلیہ پر آگیا ہے امید کی آخری کرن سپریم کورٹ ہی کو قرار دیا جاتا ہے 7 جنوری 2017 کوکابل اور نئی دہلی میں قائم خصوصی کیمپوں کے اندرشاید جشن منا یا گیاہوگا کہ پاکستان میں فوجی عدالتیں ختم ہوگئیں سول عدالتیں دہشتگردی کے مقدمات کے فیصلوں میں کئی سال لگائینگی اس اثنا میں دہشت گردوں کو جیلوں سے فرار کر ایا جائے گا پاکستانی قانو ن ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا‘ دہشت گردی کی سرپرستی کرنیوالوں کے اس تاثر کو زائل کرنے کیلئے دو بڑے اقدامات کی ضرورت ہے پہلا کام یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ سوموٹو نوٹس لیکر 149 دہشت گردوں کی زیر التوا سزاؤں پر عمل درآمد کا آغاز کر ائے یہ اگر ہوگیا تو 2016 کی طرح حکومت کی رِٹ عدلیہ اور قانو ن کی حکمر انی نظر آئیگی پڑوسی ممالک سے دہشتگردی کیلئے پاکستان آنیوالے گروہ پاکستان میں داخل ہونے سے پہلے سو بار سوچیں گے دہشتگردی کے خلاف ایک سال کی کامیاب حکمت عملی صرف جنرل راحیل شریف کی ذاتی کامیابی تصور نہیں ہوگی۔

پاک فوج اور پوری قوم کی کامیابی تصور کی جائیگی دوسرا کا م یہ ہے کہ انسداد دہشت گردی کی جو عدالتیں ملک میں قا ئم ہیں انکی حیثیت برائے نام ہے گذشتہ 10 سال میں ان عدالتوں نے ایک بھی مجرم کو سزائے مو ت نہیں دی اب فوجی عدالتوں کی طرز پر انسداددہشتگردی کی عدالتوں کو بھی فوری انصاف دینے کا قانونی لائحہ عمل اور کریمینل جسٹس سسٹم دیدیا جائے پاکستانی قوم حالت جنگ میں ہے اور میدان جنگ میں ہماری عدلیہ کو ایسے ہی اقدامات کرنے ہونگے یہ بات یادرکھنی چاہئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری مسلح افوج نے چار بڑی جنگوں سے زیادہ قربانیاں دی ہیں ان قربانیوں کو رائیگاں جانے سے بچانے میں ہماری سیاسی جماعتیں اور پارلیمانی پارٹیاں نا کام ہوچکی ہیں اگر عدالت عظمیٰ نے فوجی عدالتوں کے ختم ہونے سے پیدا شدہ خلا کو پر نہیں کیا تو قوم ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں آجائیگی۔کیونکہ خوف جب ختم ہوجاتا ہے تو ہر شخص اپنی مرضی کا مالک بن جاتا ہے اور جو اس کا جی چاہتا ہے وہی وہ کرنے لگتا ہے پاکستان کے لوگ گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں اتنی قیامتیں دیکھ چکے ہیں کہ اب شاید مزید آلام سہنے کی ان میں سکت نہیں ہوگی اس لئے وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے اور بلاتاخیر فوجی عدالتوں کے بارے میں قانون سازی کی جانی چاہئے حکومت بھی بدگمانیاں پیدا کرنے کی بجائے اپنی ذما داریاں سمجھے تو ملک وقوم اور خود حکومت کے حق میں بہتر ہوگا۔