بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سرمایہ کاری کیلئے تیاریاں

سرمایہ کاری کیلئے تیاریاں

وزیر اعظم نواز شریف نے افغانستان اور بھارت سے متعلق پالیسی کے خدوخال واضح کرنے کے ساتھ اپنی حکومت کی معاشی اصلاحات کا جائزہ پیش کرتے ہوئے پاکستان کو سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش منزل قرار دیا ہے وزیر اعظم کہتے ہیں کہ پاکستان بھارت کیساتھ مسائل کا حل چاہتا ہے ۔ عالمی برادری کشمیر کی سنگین صورتحال کا نوٹس لے افغانستان سے متعلق وہ واضح کر رہے ہیں کہ پاکستان کی سلامتی افغانستان میں امن و استحکام سے جڑی ہوئی ہے ۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے تین سال کی مختصر مدت میں معاشی استحکام حاصل کیا ۔ ڈیوس کے اکنامک فورم میں بھی پاکستان کی معاشی ترقی کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ اس کا کریڈٹ نواز حکومت کو جاتا ہے ۔ اس موقع پر ایک معروف گروپ نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش بھی ظاہر کی عین اسی روز جب وزیر اعظم پاکستان کو سرمایہ کاری کیلئے موزوں قرار دے رہے تھے خیبرپختونخوا حکومت اور چین کی کمپنی کے درمیان اضا خیل میں صنعتی زون کے قیام کا معاہدہ ہوا وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ مغربی روٹ سی پیک کا حصہ بن چکا ہے جسے باقاعدہ تحریری شکل بھی دی جا چکی ہے اور یہ بات منٹس میں بھی آ چکی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ گلگت تا شندور اور چترال تا چکدرہ سی پیک کا متبادل روٹ ہے اس روٹ کی توسیع پر چینی کمپنیوں کے ساتھ ایم او یو پر جلد دستخط ہونگے کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں ‘ سرکاری وسائل کے بے دردی سے استعمال اور کرپشن کے ہاتھوں تباہ حال ملکی معیشت کا صحیح ٹریک پر آنا یقیناًایک قابل اطمینان عمل ہے تاہم اس کا ثمر آور ہونا اس بات سے مشروط ہے کہ ان سارے اعداد و شمار کا فائدہ ریلیف کی صورت شہریوں کو پہنچے ۔ اس مقصد کے لئے مرکز اور صوبوں کی سطح پر حکومتوں کو تکنیکی مہارت کی حامل جامع اور مؤثر حکمت عملی طے کرنا ہوگی اس پالیسی میں یہ بات بھی یقینی بنانا ہوگی کہ اس سرمایہ کاری کے ساتھ ہمارے پاس اعلیٰ تربیت یافتہ افرادی قوت پہلے سے تیار ہو تاکہ بے روزگاری جیسے بڑے اور اہم مسئلے کے حل میں مدد مل سکے ۔ اقتصادی اعشاریوں اور سرمایہ کاری کا فائدہ عام شہری کو نہ پہنچا تو سب کچھ صرف اعلانات کی صورت سرکاری کتابوں میں ہی رہے گا۔

سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ

پشاور ہائی کورٹ نے سرکاری گھروں کی الاٹمنٹ پر تا حکم ثانی پابندی عائد کرتے ہوئے محکمہ ایڈمنسٹریشن سے رپورٹ طلب کی ہے عدالت عالیہ کو پیش کردہ درخواستوں میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری گھر میرٹ کی بجائے اثر و رسوخ کی بنیاد پر الاٹ کئے جاتے ہیں اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سرکاری ملازمین کی بڑی تعداد مکانات کے انتظار میں ریٹائرمنٹ تک پہنچ جاتی ہے اس وقت بھی ایسی درخواستیں ریکارڈ پر موجود ہیں جو دو دہائیوں سے زیادہ گزرنے کے باوجود منظوری کی منزل تک نہیں پہنچ سکیں صوبے میں برسر زمین ضروریات کا تقاضا ایک جانب الاٹمنٹ کو شفاف اور میرٹ کے مطابق بنانے کا ہے تو دوسری طرف رہائش گاہوں کی تعداد زیادہ کرنا اور ملازمین کو پلاٹ الاٹ کرنے کیساتھ بلا سود قرضے فراہم کرنا بھی مسئلے کے حل میں معاون ثابت ہو سکتا ہے اسی طرح ریٹائرمنٹ پر ملازمین کو ملکیتی بنیادوں پر پلاٹ الاٹ کرنے کیلئے بھی پالیسی ناگزیر ہے رہائش کا مسئلہ حل کرنے کیلئے سرکاری محکمے اپنے طور پر بھی کالونیاں تعمیر کر سکتے ہیں جو ماضی میں ہوتا بھی رہا ہے۔