بریکنگ نیوز
Home / کالم / فاٹااصلاحات

فاٹااصلاحات

فاٹا اصلاحات بالخصوص قبائلی علاقوں کے صوبہ خیبرپختونخوا میں انضمام کامعاملہ طویل ترین انتظار اور ڈیڈ لاک کاسفر طے کرتے ہوئے جب وفاقی کابینہ کے ایجنڈے میں شامل ہوا تو عمومی خیال یہی تھا کہ شاید یہ بیل اب منڈھے چڑھ ہی جائے گی یہ امید ا س وجہ سے بھی قوی نظر آرہی تھی کہ فاٹا کے مجوزہ اصلاحاتی پیکج کو اگر ایک جانب وزیر اعظم کے معتمد خاص سرتاج عزیز نے شبانہ روز محنت سے تیار کیاتھا تودوسری جانب وزیراعظم نواز شریف چونکہ پہلے ہی اس رپورٹ کی اصولی منظوری دے چکے تھے اور انکی رضامندی اور منظوری کے طفیل ہی چونکہ اس اصلاحاتی پیکج کوکابینہ کے گزشتہ اجلاس کے ایجنڈے پررکھا گیاتھا ا سلئے اس ایجنڈے کے التواکاکابینہ کے دیگر اراکین توکجاشاید خود مشیر خارجہ سرتاج عزیز کو بھی احساس نہیں تھا اور ایک لحاظ سے اس پیکج کی عدم منظوری یاپھر التوا قبائل کے بعد اگر کسی پر بھی کوہ گراں بن کرگرا ہوگا تووہ کوئی اورنہیں بلکہ اس پیکج کے روح رواں سرتاج عزیز ہی ہونگے۔ وزیر اعظم نے فاٹا کے بندوبستی علاقوں میں انضمام کے ایشو کو مزید مشاورت اوربالخصوص انضمام کے فی الوقت سب سے بڑے مخالف مولانا فضل الرحمان کو اعتماد میں لینے اور انضمام سے متعلق انکی رائے کو سننے اور اس ضمن میں اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے سرتاج عزیز کو ٹاسک سونپ کر جہاں مولانا فضل الرحمان کا سیاسی قد کاٹھ مزید بڑھانیکی کوشش کی وہاں حکومت اوربالخصوص وزیراعظم کے اس اقدام سے سب سے بڑا دھچکا خود قبائل کو پہنچا ہے سرتاج عزیز کمیٹی پرکئی اعتراضات کئے جاسکتے ہیں اور وقتاً فوقتاً ان ہی صفحات پرہم جیسے اکثر لکھاری یہ اعتراضات اورنکات اٹھاتے بھی رہے ہیں۔

لیکن ان کو کبھی بھی درخوراعتنا نہیں سمجھا گیاہے یہاں یہ سوال اہمیت کاحامل ہے کہ جب ایک اعلیٰ سطحی حکومتی کمیٹی قبائلی علاقوں کے مستقبل کے حوالے سے ایک حل پر متفق ہوچکی ہے تو ایسے میں ایک حکومتی اتحادی جماعت اتنے شدومد سے متذکرہ رپورٹ کی مخالفت آخر کیوں کررہی ہے اس ضمن میں بظاہر جمعیت (ف) کاموقف کافی سیدھا سادا اور بے ضرر نظر آتاہے لیکن درحقیقت اب تک جمعیت نے اپنے موقف میں جو سخت گیر رویہ اپنا رکھاہے اورا س ضمن میں اس موقف کو حکومت اوربالخصوص وزیر اعظم کی جانب سے جو اہمیت دی جارہی ہے وہ بذات خود بڑ اتعجب خیز ہے۔ اس بارے میں جمعیت(ف) کے ترجمان کاکہنا تھا کہ اصل میں ہم چاہتے ہیں کہ فاٹا اصلاحات کے تحت اولین ترجیح اورتوجہ قبائلی علاقوں کے انفراسٹرکچر کی بحالی اوروہاں بڑے پیمانے پرتعمیر وترقی کے منصوبوں کی تکمیل پردی جائے۔ قبائلی علاقوں کو ایک بڑا اقتصادی پیکج دے کر وہاں تعلیم اورصحت کی سہولیات کے ساتھ ساتھ سڑکوں، بجلی اور پانی کے منصوبوں پرپہلے کام شروع ہونا چاہئے نیز جو قبائل اپنے گھروں سے بے گھر ہیں پہلے انکی واپسی اورآباد کاری پرتوجہ دینی چاہئے بعد میں قبائلی مل بیٹھ کر انتظامی لحاظ سے اپنے لئے جس مستقبل کا تعین مشاورت سے کریں گے۔

اس پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہوگا۔ حاجی جلیل جان نے کہاکہ فاٹا کی خیبرپختونخوا میں انضمام ، فاٹا کو الگ کونسل یاپھر اسے صوبائی حیثیت دینے میں سے کسی پر بھی جمعیت(ف) کو اعتراض نہیں ہے البتہ فی الوقت ہمارا اعتراض یہ ہے کہ ان تجاویز کو کچھ عرصے کے لئے موخر کرناچاہئے جب حالات کچھ بہتر ہوجائیں گے توچار پانچ سال بعد ان تینوں تجاویز میں سے قبائل کی اکثریت جس تجویز پر بھی متفق ہوجائیگی انہیں وہ چوائس دینے پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہوگا۔ ان کادعویٰ تھاکہ قبائلی علاقوں کے منتخب نمائندے بھی فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے ایشوپر بٹ چکے ہیں۔ بقول ان کے آدھے سے زیادہ ممبران پارلیمنٹ جمعیت(ف) کے موقف کی حمایت کررہے ہیں لہٰذا اس ضمن میں ہر قدم انتہائی سوچ سمجھ کر اورمزید مشاورت سے اٹھانا ہی قرین مصلحت ہوگا جمعیت(ف) نے فاٹا کے مستقبل پر جوموقف اپنایاہے اور اس حوالے سے جمعیت(ف) کے قائدین کا اب تک جو موقف اورنقطہ نظر سامنے آیا ہے بظاہر تو اس سے کسی کو بھی اختلاف نہیں ہوسکتاہے اورعملاً ایک آئیڈیل صورتحال یہی ہوسکتی ہے کہ پہلے فاٹا میں پوری طرح امن بحال ہوجائے اورپھر وہاں ترقیاتی سرگرمیاں فروغ پائیں نیز وہاں تعلیمی شرح میں اضافہ ہو اورپھر پانچ چھ سال بعدانتظامی لحاظ سے قبائل کے مستقبل کافیصلہ کیاجائے لیکن زمینی حقائق اس نقطہ نظر کی حمایت نہیں کرتے کیونکہ فاٹا کے موجودہ سیٹ اپ کو بحال رکھتے ہوئے وہاں تعمیر وترقی اورکسی بڑی تبدیلی کی خواہش کیکر کے درخت پرانگور اگنے کی امید باندھنے کے مترادف ہوگی کیونکہ اگر موجودہ سیٹ اپ اور سٹیٹس کو اتنے ہی اچھے ہوتے تو پھر قبائل کی اکثریت اس کی تبدیلی کامطالبہ کیوں کرتی۔ حرف آخر یہ کہ اب جب قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے حوالے سے تمام اہم سٹیک ہولڈرز متفق ہو چکے ہیں تو ایسے میں جمعیت(ف) کی قیادت کو اس سنہری موقع کو سیاسی عناد اور ضد کی بھینٹ چڑھانے سے قبائل کے وسیع تر مفاد میں گریزکرنا چاہئے ۔