بریکنگ نیوز
Home / کالم / جعلی بینک اکاؤنٹ:کیاواقعی؟

جعلی بینک اکاؤنٹ:کیاواقعی؟

یقین ہی نہیں آتا ہمارے سیاستدان اتنے سادہ ہیں کہ ان کی بے گناہی پر مبنی طرزعمل پر اجتماعی عقل حیران اور غربت و افلاس میں ڈوبی قوم اپنا سر پیٹ رہی ہے کیا بدعنوانی پاکستان کی اس اکثریت نے کی ہے‘ جس کے پاس دو وقت کا کھانا نہیں ہوتا؟ کم ترین شرح میں ٹیکس ادا کرنا ہو یا قوانین کا اطلاق‘ صرف اور صرف حکمران خاندانوں کو ہر کام میں رعایت حاصل ہے حتیٰ کہ ان سے آمدنی اور مال و دولت کے ذرائع بھی نہیں پوچھے جا سکتے کیونکہ انہیں آئینی استثنیٰ حاصل ہے! حال ہی میں انکشاف ہوا ہے کہ اراکین اسمبلی کے بینک اکاؤنٹس میں اربوں روپے پڑے ہیں جن سے انہوں نے اظہار لاتعلقی کرنے کا انوکھا طریقہ ڈھونڈا ہے اور امید رکھتے ہیں کہ سادہ لوح قوم ان کی بیچارگی و معصومیت کا اعتبار کر لے! بیرون ملک اثاثے اور سرمایہ کاری کرنیوالے سیاستدانوں کے بارے میں قومی رائے عامہ اتنی مہذب بھی نہیں کہ اسے تحریر میں لایا جاسکے تو کیا اپنے ہی بینک اکاؤنٹس میں موجود سرمائے کی ملکیت سے انکار کرنے والوں کو معاف کرنا ممکن ہو پائے گا؟ قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق‘ سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی اور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما خورشید شاہ نے بیک وقت دعویٰ کیا ہے کہ ان کے نام پر جعلی بینک اکاؤنٹس کھلوائے گئے ہیں اور ان کے ذریعے کروڑوں روپے رقم کی منتقلی بھی کی گئی ہے! ان کے علاوہ سینٹ میں اپوزیشن لیڈر اعتزاز احسن‘ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کے نام پر بھی جعلی بینک اکاؤنٹس موجود ہیں۔

قومی اسمبلی کے سیکرٹری کی جانب سے جاری کئے جانے والے بیان کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ان کے نام پر قائم ایک جعلی بینک اکاؤنٹ کی رسید دیکھنے کے بعد گورنر سٹیٹ بینک اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سپیکر کا کہنا تھا کہ جعلی بینک رسید پر جس شہر کی نشاندہی کی گئی ہے ان کا نہ تو اس بینک اور نہ ہی اس شہر میں کوئی اکاؤنٹ موجود ہے۔ سٹیٹ بینک کو اس مسئلے کے حوالے سے آگاہ کیا گیا ہے اور سپیکر نے واضح کیا کہ ان کا مذکورہ بینک اکاؤنٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے! دریں اثناء چیئرمین رضا ربانی نے سینٹ کو بتایا کہ انہیں کراچی میں ان کی رہائش گاہ پر ایس ایم بی بینک کی رسید وصول ہوئی‘ جس کے مطابق اس بینک میں موجود انکے اکاؤنٹ میں دس کروڑ روپے منتقل کئے گئے ہیں کاش کہ اتنی بڑی رقم کسی سرکاری سکول یا ہسپتال کے اکاؤنٹ میں بھی منتقل کی جاتی! بیچارے رضا ربانی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بینک کے صدر کو بھیجی گئی تحریر میں نشاندہی کی کہ انہوں نے اس بینک میں کبھی بھی کوئی اکاؤنٹ نہیں کھلوایا تو رقم کی منتقلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا! ان کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ ان کے نام پر فراڈ کیا گیا اور اس حوالے سے تحقیقات کی جانی چاہئے۔

اس سلسلے میں ایف آئی اے کے سربراہ کو بھی خط تحریر کیا گیا ہے اور سینٹ کو اس حوالے سے ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا جائے گا۔ اِس نئی الجھن کا تیسرا فریق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں جن کی جانب سے جاری ہونے والے ایک الگ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انکے قومی اسمبلی کے پتے پر ایک بینک کی ٹی ڈی آر رپورٹ موصول ہوئی ہے‘ جس کے مطابق کراچی میں قائم ایس ایم ای بینک میں موجود ان کے اکاؤنٹ میں دس کروڑ روپے کی رقم منتقل کی گئی ہے۔ بینک اکاؤنٹ کھولا گیا‘ دستخط اور دستاویزات بشمول قومی شناختی کارڈ اور موبائل نمبروں کی تصدیق ہوئی لیکن بیچارے خورشید شاہ کو اس وقت علم ہوا‘ جب دس کروڑ روپے جیسی خطیر رقم ان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی! یقیناًایسا غلطی سے ہوا ہوگا کیونکہ بدعنوانی کرنے والے کبھی بھی اپنے نام سے بینک اکاؤنٹ استعمال نہیں کرتے! خورشید شاہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’’مذکورہ بینک میں کوئی اکاؤنٹ نہیں ہے تو یہ رپورٹ کیسے ترتیب دی گئی؟

جب انہوں نے ٹی ڈی آر رپورٹ کے حوالے سے بینک کے حکام سے رابطہ کیا تو ان کو بتایا گیا کہ ایسی ہی متعدد شکایات دیگر افراد کی جانب سے بھی درج کرائی گئی ہیں! خورشید شاہ نے دعویٰ کیا کہ اس حوالے سے سٹیٹ بینک کے گورنر اور ایف آئی اے کے ڈی جی کو مطلع کردیا گیا ہے تاکہ آئندہ کوئی شخص سیاسی رہنماؤں کی ساکھ کو خراب نہ کرسکے۔ خیال رہے کہ یہ بات تاحال پوشیدہ ہے کہ رقم کی ان جعلی منتقلیوں کے پیچھے کون ہے یا پارلیمانی اراکین کے نام پر جعلی اکاؤنٹس بنا کر ان میں اس قدر بڑی رقم کی منتقلی کے پیچھے کیا مقاصد ہوسکتے ہیں۔پارلیمنٹ سے جعلی بینک اکاؤنٹس کی معلومات سٹیٹ بینک کو موصول ہونے کی تصدیق تو ہو چکی ہے لیکن ملک کے معروف‘ سیاسی افراد کے ناموں سے بناء تصدیق اور بناء ان کی شناختی دستاویزات جمع کرائے اکاؤنٹ کیسے کھولے جا سکتے ہیں جبکہ ایک عام آدمی اپنے نام اور شناخت سے بینک اکاؤنٹ کھولنے جائے تو اسے درجنوں قواعد و ضوابط اور صبرآزما تصدیقی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ؟ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: اکرام جنیدی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)