بریکنگ نیوز
Home / کالم / چار سال بعدبھی…..

چار سال بعدبھی…..

اب تو چار سال ہونے والے ہیں یہ بھی نہیں کہا جاسکتاکہ ابھی پالیسی بنانی ہے پھر منصوبہ بندی ہوگی اورپھر کہیں جاکر عملدرآمد کی نوبت آئے گی اب تو اگلے الیکشن کے لئے کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوچکاہے اوراپنی اپنی کارکردگی کی بنیاد پر حکمران جماعتیں اور دعوؤں پر اپوزیشن کی جماعتیں الیکشن میں جائیں گی چار سال گذرنے کے بعد بھی صوبائی حکومت اوراسکے اداروں کی پشاورکی عظمت رفتہ کی بحالی کے منصوبے اوراس حوالے سے عملی اقدامات جی ٹی روڈ کے مدار سے نکل نہیں سکے ہیں چار سال کے دوران جی ٹی روڈ کی تزئین و آرائش پر کروڑوں روپے خرچ ہوچکے ہیں مگر اس کے باوجود آج بھی بارش ہوتی ہے تو جی ٹی روڈ پر کیچڑ اوراسکے بعد بدترین گرد و غبار کئی دنوں تک شہریوں کا امتحان لینے لگتے ہیں اب تو کہتے کہتے زبانیں اور لکھتے لکھتے ہاتھ تھک گئے ہیں مگر سرکاری اداروں اورعمال کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی گویا اگر یہ کہاجائے کہ چار سال میں سرکاری اہلکار صوبائی حکومت کو پشاورکی خوبصورتی کے نام پر جی ٹی روڈ کی صورت نکھارنے میں مصروف رہے اوروہ بھی ایسے بھونڈے اندازمیں کہ حقیقت بارش کے فوراً بعد آشکار ہوجاتی ہے تو غلط نہ ہوگا اگر کسی کو یقین نہ آئے تو کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود کسی بھی بارش میں جنرل بس سٹینڈ سے لے کررنگ روڈ پل تک پر سفر کرکے دیکھے بلکہ بہتر تویہ ہوگا کہ وزیر اعلیٰ کسی دن ایسے افسران کو اس حصے پر پید ل مارچ کاحکم دیں اوراگر بارش میں ممکن نہ ہو تو پھربارش کے بعد دھوپ میں جب گرد وغبار کا طوفان بپا ہو پھران نازک مزاج افسرا ن کو صرف جنرل بس سٹینڈ سے حاجی کیمپ تک ہی فٹ پاتھ پر گشت کی زحمت گوارہ کرانے پر آماد ہ کریں تاکہ ان کو شہریوں کے مسائل کی شدت کابخوبی اندازہ ہوسکے پشاوروہ بدقسمت شہرہے کہ اس کی قسمت نہ تو درویشوں کے دور حکومت میں جاگ سکی نہ ہی قوم پرستوں کی حکومت میں اس شہر کو اس کاحق مل سکا درویش پانچ سال میں ایک ملک سعدپل جبکہ قوم پرست اربا ب سکندرخان خلیل پل ہی تعمیر کرسکے تبدیلی کے دعویدار با ب پشاور کا تحفہ دے سکے ہیں۔

مفتی محمود فلائی اوور تینوں حکومتوں کا مشترکہ پراجیکٹ ہی قرار دیاجاسکتاہے پشاورکی حالت زار دیکھنی ہو تو جی ٹی روڈ اور یونیورسٹی روڈ سے ہٹ کر باڑہ روڈ ،کوہاٹ روڈ ،پھندو روڈ،چارسدہ روڈ اور دیگرنواحی سڑ کوں پر سفرکریں ساری حقیقت کھل کرسامنے آجائے گی چونکہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نوشہر ہ جانے کے لئے جی ٹی روڈ سے گذرتے ہیں اسلئے سرکاری عمال اس شاہر اہ پر زیاد ہ ہی مہربان نظر آتے ہیں اس سلسلے میں بہتر یہ ہوگا کہ سر کاری افسران کی سب اچھا پرمشتمل رپورٹوں کے بجائے وزیر اعلیٰ مقامی ایم پی ایز کو ٹاسک سونپیں جو انکو بیوٹیفیکیشن آف پشاورکی اصل صورتحال سے آگاہ کرتے رہیں کیونکہ یہ ممبرا ن صاحبان روز انہی سڑکو ں پرسے گذرتے رہتے ہیں جبکہ ہمارے سرکاری عمال کی بڑی تعداد جی ٹی روڈ یونیورسٹی روڈ وغیر ہ ہی استعمال کرتی ہے منتخب نمائندوں کے ساتھ مل کراس حوالے سے بہتر کوششیں کی جاسکتی ہیں اگرآج بھی پشاورمحرو م رہا تو پھرتعمیر پشاور کے نام سے جاری مہم خطر ناک بن سکتی ہے اسی طرح تعمیرپشاورکے نام سے مہم چلانے والے رکن صوبائی اسمبلی ضیاء اللہ آفریدی عدالت سے بھی رجوع کرچکے ہیں اورعدالت عالیہ انکی رٹ سماعت کے لئے منظوربھی کرچکی ہے۔

جسکے بعد صوبائی حکومت کو عدالت اس حوالے سے کوئی بھی حکم جاری کرسکتی ہے اگر اس سے پہلے ہی صوبائی حکومت متحرک ہوجاتی ہے تو زیادہ بہتر رہے گا وزیر بلدیات عنایت اللہ کو بھی اس سلسلے میں اب سرکاری افسران کی کارکردگی پر کڑی نظررکھنی چاہئے ان سے پوچھنا چاہئے کہ چار سال بعد بھی تمام ترتوجہ جی ٹی روڈ پر کیوں مرکوزہے اوراس کے باوجود جی ٹی روڈ پر آج بھی پھولوں اور کیچڑ کاملاپ کیوں ہے کیا یہ متعلقہ سرکاری اداروں کی نااہلی نہیں اوراگر ہے تو پھر اصلاح احوال کون کرے گا ،چار سال بعد بھی اگر ہم پشاورکارونا رو رہے ہیں تو پھر پالیسی سازوں کو ضرور اورسنجیدگی سے غورکرنا چاہئے کہ یہاں کے لوگ پھر حساب لینا خوب جانتے ہیں –