بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / نواز شریف نے آرٹیکل چھیاسٹھ کے تحت استثنی نہیں استحقاق مانگا ،سپریم کورٹ

نواز شریف نے آرٹیکل چھیاسٹھ کے تحت استثنی نہیں استحقاق مانگا ،سپریم کورٹ

اسلام آباد۔پانامامہ لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا وزیر عظم کی پارلیمنٹ میں تقریر ایجنڈے کا حصہ تھی؟ کیا ذاتی الزامات کا جواب دینے کے لیے اسمبلی کا فلور استعمال ہوسکتا ہے ،ایسا کوئی کوڈ آف کنڈکٹ ہے جس کے تحت وزیر اعظم عہدے کے ساتھ کاروبار نہیں کر سکتے؟ جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نواز شریف نے آرٹیکل چھیاسٹھ کے تحت استثنی نہیں استحقاق مانگا ، آرٹیکل 248 کے تحت استثنی اور66 کے تحت استحقاق الگ چیزیں ہیں،جبکہ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے ہیں کہ مفروضوں پر ہمیں کہاں گھسیٹ کرلے جا رہے ہیں، مفادات کے ٹکراؤ کا کوئی مواد اور شواہد ہمارے سامنے نہیں ہیں جبکہ جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ لندن فلیٹس متعلق ظفر علی شاہ کیس میں کوئی فائنڈنگ نہیں دی گی،لندن فلیٹس کے حوالے سے اس وقت کے اٹارنی جنرل نے دلائل دیئے تھے ۔

جمعہ کے روز پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل جسٹس شیخ عظمت سعید ، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل پانچ رکن بنچ نے کی ، کیس کی سماعت شروع ہوئی تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف سے استفسار کیا کہ آپ کا الزام یہ ہے کہ جان بوجھ کر لندن کے اثاثے چھپائے گئے ہیں جس پر جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف نے اپنے لندن کے اثاثے چھپائے ہیں جس کی وجہ سے نواز شریف نااہل ہو گئے ہیں، اور وہ اب صادق اور آمین نہیں رہے، نواز شریف نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ وہ دوبئی فیکٹری کے وقت سیاست میں نہیں تھے، اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نے اعتراف کیا ہے جس کو ہم ڈھونڈ رہے ہیں، تقریر کا وہ حصہ دکھائیں جس میں اعتراف کیا گیا ہے، آپ کہتے ہیں تقریر میں تضاد نہیں اعتراف ہے، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر وزیر اعظم ملکیت تسلیم کرتے تو اتنے دن اس کیس کی سماعت ہی نہ ہوتی، جسٹس عظمت سعید نے جماعت اسلامی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا کیس پی ٹی آئی سے بہت مختلف ہے،اس پر توفیق آصف نے کہا کہ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ یہ وہ وسائل ہیں جن سے لندن فلیٹس خریدے گئے ، انہوں نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ دوبئی اور جدہ فیکٹری کے حوالے سے تمام ریکارڈ موجود ہے،جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ نعیم بخاری کا موقف ہے کہ وزیر اعظم کی تقاریر میں تضاد ہے۔

جبکہ جسٹس آصف سعید نے کہا کہ یہاں پر دو سوالات ہیں، سوال نمبر ایک فلیٹس کب خریدے گئے؟ اور دوسرا ان کا وزیر اعظم سے کیا تعلق ہے، خریداری کے حد تک اعتراف ضرور ہے۔مگر یہ نہیں ہے کہ جائیداد نواز شریف نے خریدی ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ لندن فلیٹس کے خریدنے کا ذکر بھی والد کے حوالے سے ہے، اس پر جماعت اسلامی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ لندن فلیٹس کا تزکرہ ظفر علی شاہ کیس میں موجود ہے، اس پر جسٹس عظمت سعید نے جماعت اسلامی کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ظفر علی شاہ کیس میں نواز شریف فریق تھے؟ اس پر توفیق آصف نے کہا کہ نواز شریف ظفر علی شاہ کیس میں فریق اول تھے اور ایڈوکیٹ خالد انور نے اس وقت نواز شریف کی کیس میں نمائندگی کی تھی، اس پر وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے وضاحت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ظفر علی شاہ کیس میں نواز شریف فریق نہیں تھے،جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جماعت اسلامی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ میری آواز سن پا رہے ہیں۔۔جناب وکیل صاحب، اس پر توفیق آصف نے دلائل کے دوران ظفر علی شاہ کیس سے متعلق دلائل واپس لے لئے اور موقف اختیار کیا کہ نواز شریف نے نامزدگی اور گوشواروں میں لندن اثاثوں کا ذکر نہیں کیا، کیا نواز شریف کی قومی اسمبلی میں تقریر قانون شہادت کے ذمرے میں نہیں آتی، اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کو 183/3 کے مقدمے میں ڈیکلریشن دینے کا اختیار ہے؟ اس پر توفیق آصف نے کہا کہ سپریم کورٹ 184/3کے تحت ڈیکلریشن دے سکتی ہے، نواز شریف نے لندن فلیٹس کی ملکیت سے انکار نہیں کیا،وزیر اعظم نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے، عدالت کا دائرہ اختیار ہے کہ فائنڈنگز ریکارڈ کر کے ڈیکلیریشن جاری کرے، نواز شریف نے بطور ایم این اے اور بطور وزیراعظم جو حلف اٹھائے انکی پاسداری نہیں کی، اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ حلف کی پاسداری نہیں کی اسلیے نااہل قرار دیا جائے، اس پر توفیق آصف نے کہا کہ نعیم بخاری نے وزیر اعظم کی تقریر میں تضاد پر دلائل دیے تھے، وزیر اعظم کی تقریر اعتراف جرم ہے، جبکہ جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ لندن فلیٹس متعلق ظفر علی شاہ کیس میں کوئی فائنڈنگ نہیں دی گی،لندن فلیٹس کے حوالے سے اس وقت کے اٹارنی جنرل نے دلائل دیئے تھے، جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں ان دلائل کوکوئی اہمیت نہیں دی تھی، توفیق آصف کا کہنا تھا کہ اتفاق فاونڈری 1980 میں خسارے میں تھی، وزیر اعظم کے بیان کے مطابق اتفاق فاونڈری تین سال میں خسارہ ختم کرکے 60 کروڑ منافع میں چلی گئی، 1985 میں اتفاق فاوئنڈڑی کا دائرہ کئی کمپنیوں تک پہنچ گیا۔

دبئی میں گلف سٹیل مل قائم کی جو 9 ملین ڈالرز میں فروخت ہوئی، یہ نہیں بتایا گیا کہ کارروبار کی رقم کہاں سے آئی، وزیراعظم کی تقریر کو درست مان لیا جائے کیونکہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں، تقریر میں کہا گیا کہ فلیٹ 1993 سے 1996 میں خریدے گئے، اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ بات کہاں مانی گئی، اگر ایسا ہوتا تو ہم اتنے دنوں سے یہ کیس کیوں سن رہے ہیں، جبکہ جسٹس عظمت سعید نے جماعت اسلامی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خدا کا خوف کریں، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ جو حوالہ دے رہے ہیں وہ وکلاء کے دلائل ہیں عدالتی فیصلہ نہیں، پراپرٹی کی ملکیت اس کیس میں بھی ثابت نہیں ہے، جبکہ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ جو دلائل دے رہے ہیں وہ ایسے ہیں کہ نعیم بخاری پی ٹی سی ایل کیس میں دلائل دیں اور کہیں کہ جو دلائل پاناما کیس میں دیئے انہیں اس کیس میں بھی شامل کر دیا جائے، آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ دوسری پارٹی کا الزام ہے، لندن فلیٹس کی ملکیت نواز شریف کی ہے،آپ عدالت کو نواز شریف کے بیانات میں تصاد بتائیں؟اس پر توفیق آصف نے کہا کہ میں دائرہ اختیار پر دلائل دوں گا، منی ٹریل اور ثبوت دینا شریف فیملی کی زمہ داری ہے،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ نواز شریف نے آرٹیکل چھیاسٹھ کے تحت استثنی نہیں استحقاق مانگا ہے۔

توفیق آصف کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی اسمبلی تقریر میں حکومتی پالیسی بیان نہیں کی بلکہ بطور ایم این اے زاتی الزامات کا جواب دیا، میں نے اتنی بھی غیر سنجیدہ بات نہیں کے تھی۔میرا زیادہ انحصار وزیرا عظم کی تقریر پر ہے ، جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 248 کے تحت استثنی اور66 کے تحت استحقاق الگ چیزیں ہیں،جسٹس اعجاز الا حسن نے ریمارکس دیئے کہ وزیر اعظم نے استثنی نہیں مانگا، توفیق آصف نے کہا کہ وزیر اعظم کی تقریر اسمبلی کی معمول کی کارروائی نہیں تھی، وزیر اعظم نے اسمبلی میں کوئی پالیسی بیان نہیں دیا جو استحقاق بنتا ہو، جسٹس اعجاز ا لاحسن نے استفسار کیا کہ کیا وزیر عظم کی تقریر ایجنڈے کا حصہ تھی؟ کیا ذاتی الزامات کا جواب دینے کے لیے اسمبلی کا فلور استعمال ہوسکتا ہے ،ایسا کوئی کوڈ آف کنڈکٹ ہے جس کے تحت وزیر اعظم عہدے کے ساتھ کاروبار نہیں کر سکتے؟ جماعت اسلامی کے وکیل نے جواب دیا کہ ایسی کوئی پابندی نہیں، جس پرجسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ مفروضوں پر ہمیں کہاں گھسیٹ کرلے جا رہے ہیں، مفادات کے ٹکراؤ کا کوئی مواد اور شواہد ہمارے سامنے نہیں ہیں۔ عدالتی وقت ختم ہونے پر عدالت عظمیٰ نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی ، آئندہ سماعت پر توفیق آصف اپنے دلائل جاری رکھیں گے ۔