بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سپیکر قومی اسمبلی کا فوجی عدالتوں پر ان کیمرہ اجلاس کیلئے پارلیمانی لیڈر سے مشاورت کا اعلان

سپیکر قومی اسمبلی کا فوجی عدالتوں پر ان کیمرہ اجلاس کیلئے پارلیمانی لیڈر سے مشاورت کا اعلان


اسلام آباد۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے فوجی عدالتوں و قومی سلامتی کے معاملات پر پارلیمنٹ کے ان کیمرہ مشترکہ اجلاس کے لئے پارلیمانی لیڈر سے مشاورت کا اعلان کر دیا،انہیں یہ تجویز اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی جانب سے دی گئی ۔ اسپیکر نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک استحقاق کو اس لئے کمیٹی کو نہیں بھجوایا کہ یہ معاملہ عدالتی ہے جو کاروائی پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ فوجی عدالتوں کے معاملے پر کبھی یہ نہیں کہا کہ پارلیمانی اجلاس ہو رہا ے بکہ اپنے ایوان کے پارلیمانی لیڈرز سے مشاورت کر رہے ہیں اگر ہم اس میں سینٹ کے لیڈروں کو بلالیتے تو ہم پر اعتراض کردیا جاتا کہ بغیر اجازت انہیں شریک مشاورت کر لیا گیا ۔وہ جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں اپنے چیمبر میں صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے ۔ سپیکر نے کہا کہ قومی اسملبی میں سینٹ کے بل تو میں تو نہیں لاسکتا ۔ پیپلز پارٹی یہاں کیوں خاموش ہے ۔

ان بلز پر قانون سازی کے لے نوٹسسز دینا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا میں اس بات پر بھی حیران ہوں کہ نادراکے معاملے پر وزارت داخلہ کی بنائی گئی کمیٹی کا بھی مجھے ذمہ دار ٹھرایا جارہا ہے کہ جبکہ اس کمیٹی سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ جبکہ شکوے شکایات ہورہے ہیں کہ اس کمیٹی کے بارے اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا ۔ اس بارے تو وزارت داخلہ سے ہی پوچھا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعطم کے خلاف تحریک استحقاق اس لئے کمیٹی کو نہیں بھجوائی کیونکہ پانامہ سے متعلق یہ معاملہ عدالت عظمی میں زیر سماعت ہے۔ اگر کمیٹی میں تحریک استحقاق بھجوا دیتا تواس مقدمے پر اثر اندا ز ہونے کا ایشو بن سکتا تھا۔ انہوں نے کہاکہ دو فوجی عدالتوں کے معاملے پر پارلیمانی لیڈرز کے ساتھ دو مشاورت ہو چکی ہیں ۔ یہی ماحول ہے کہ اس معاملے پر سیاست نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے بارے میں 9 ریفرنسز الیکشن کمیشن کو بھیج چکے ہیں جہاں الیکشن کمیشن نے 90 دنوں میں ان پر فیصلہ کرنا ہے آئین اور قانون کے مطابق یہ کام کیا ہے ہاؤس کو قواعدو ضوابط کے مطابق چلاؤں گا ۔ اپوزیشن اگر تحریک استحقاق کے معاملے پر احتجاج کرتی ہے تو اس سے خود اس کا بزنس متاثر ہوگا۔ جعلی اکاؤنٹس میں ٹرانزکشن سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کا میں لندن میں تھا جب اس معاملے پر کورئیر موصول ہوا۔ گورنر سٹیٹ بنک کو تحقیقات کا کہ چکا ہوں اگر انہوں نے تحقیقات نہ کیں تو گورنر کو اس معاملے میں فریق بناؤں گا۔ ایف آئی اے کو نوٹس لینے کے بارے میں کہا ہے انہوں کہا کہ عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل پر توجہ دیں سیاسی جماعتیں 90 کی دہائی کی سیاست کی طرف نہ جائیں ۔ جمہوریت کی مضبوطی کے لئے کام کرتے رہیں گے مجالس قائمہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی ہیں۔ فوجی عدالتو ں کے معاملے پر سید خورشید شاہ نے پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلانے کی تجویز دی اس معاملے پر اتفا ق رائے کے لئے پارلیمانی لیڈرز سے مشاورت کی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں سپیکر نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے معاملے پر پارلیمانی لیڈرز کے ساتھ اجلاس کو کبھی یہ نہیں کہا کہ یہ پارلیمانی اجلاس ہے ۔ ہمیشہ اسے قومی اسمبلی کے پارلیمانی لیڈرز کا اجلاس کہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سینٹ سے قومی اسمبلی کو آنے والے بلز ایوان میں پیش کرنے کا میں پابند نہیں ہوں۔ پاکستان پیلز پارٹی یہاں کیوں خاموش ہے نوٹسز کے بٖغیر یہ بلز کیسے پیش ہو سکتے ہیں۔ ضابطہ کار کے تحت ہی یہ بل کمیٹیوں کو جاسکتے ہیں ابھی تک پی پی پی سمیت کسی نے بھی سینٹ کے زیرالتواء بل زیر غور لانے کے نوٹسز نہیں دئیے۔ بل اس کاروائی کو مکمل کر کے ہی قائمہ کمیٹی کو بھیج سکتے ہیں۔