بریکنگ نیوز
Home / کالم / 8افرادکے پاس دنیاکی آدھی دولت

8افرادکے پاس دنیاکی آدھی دولت


ایک نہایت ہی مستند سروے کے مطابق صرف 8افراد کے پاس دنیا کی آدھی دولت ہے غریب اور امیر کے درمیان اس قدر عدم مساوات تاریخ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی یہ اعداد وشمار شرمناک ہیں کہ ایک طرف تو صرف معدودے چند افراد کے پاس اتنی دولت ہو کہ جتنی باقی ماندہ دنیا کی آبادی کے پاس کہ جس کی تعداداربوں میں ہے یہی وجہ ہے کہ نہ صرف آئی ایم ایف کے سربراہ بلکہ پوپ نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر اس عدم مساوات کو ختم نہ کیاگیا تو امیروں کے گریبان ہوں گے اور غریبوں کے ہاتھ‘ ایک پرانی کہاوت ہے کہ تم جہاں بھی دولت کے انبار دیکھو تو جان جاؤ کہ ہر انبار کے پیچھے کوئی نہ کوئی جرم ضرور ہوگا دولت کے انبار لگانے کے کئی طریقے ہیں اور وہ اکثر شارٹ کٹ سے لگائے جاتے ہیں ذخیرہ اندوزی اشیائے خوردنی میں مصنوعی قلت کرکے پھر انہیں منہ مانگے داموں پر فروخت کرنا ‘اشیائے خوردنی میں ملاوٹ‘ سمگلنگ‘ٹھیکوں میں کمیشن اور اگر آپ ہنر مند ہیں تو جس پیشے میں آپکے ہاتھ میں ہنر ہے اسے بہت مہنگے داموں ضرورت مندوں کے ہاتھ فروخت کرنا یا ان سے بھاری بھر کم فیس وصول کرنا ظاہر ہے بے دریغ دولت جب آپ کے ہاتھ لگتی ہے تو اسے پھر آپ اپنے رہن سہن کے طریقوں اور نمود ونمائش اور اپنے محل نما گھروں کی تزئین وآرائش میں لگاتے ہیں۔

سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ ہمارے اکثر سرمایہ دار انکم ٹیکس کے ماہرین سے مل کر ان کو بھاری اور موٹی فیس ادا کرکے انکم ٹیکس اور ویلتھ ٹیکس کی ادائیگی میں تو ڈنڈی مارتے ہیں پر حکومت کو ٹیکس ادا نہیں کرتے انکم ٹیکس کے ماہرین موٹی فیس کے عوض کئی قانونی مو شگافیاں نکال لیتے ہیں اور اپنے موکلوں کو ٹیکس ادا کرنے سے بچا لیتے ہیں جب تک یہ سوچ انسانوں ‘خصوصاً مسلمانوں کے ذہن میں پیدا نہ ہوگی معاشرے سے عدم مساوات ختم نہ ہوسکے گی ۔عدم مساوات معاشرے میں انتشار پیدا کرتی ہے جب غریب بیدار ہوتا ہے اور سوچنے لگتا ہے کہ جب انسان اس دنیا میں ننگا آیا ہے اور ننگا واپس جاتا ہے تو دنیا میں رہائش کے دوران ایک چھوٹے سے عرصے میں کیوں ایک شخص کے جانوروں کیلئے بھی امپورٹڈ فوڈ فراہم کیا جائے اور دوسری شخص رات کو بھوکا سوئے۔

کیوں ایک شخص کئی کئی کنالوں پر محیط محل نما بنگلوں میں رہے اور دوسرے کے سرپر چھت بھی نہ ہو کیوں زردار کی قبر پر تو کمخواب کی چادر چڑھائی جائے اور مفلس کی میت کفن کوترسے اور اسے میونسپل کمیٹی یا میونسپل کارپوریشن والے اپنے فنڈز سے دفنا ئیں مغربی یورپ کے کئی ممالک نے معاشی مساوات اور انصاف کا کمال حل نکالا ہے انہوں نے اس بات کو یقینی بنا دیا ہے کہ جہاں تک بنیادی انسانی ضروریات کا تعلق ہے وہ کم ازکم ان کے ملکوں کے شہریوں کو یکساں طور پر میسر ہوں اور سب کو بلاتمیز وامتیاز فراہم کی جائیں باقی بے شک اگر کوئی شخص ایسا پیشہ اختیار کرتا ہے کہ جس میں بے پناہ منافع ہے تو وہ بے شک اسے اپنائے پر اپنی آمدنی کے مطابق اس سے بھاری انکم اور ویلتھ ٹیکس بھی ریکور کی جائے اور ان ٹیکسوں سے وصول کی جانے والی رقم کو پھر عوامی فلاحی کاموں پر صرف کیا جائے آپ ترقی یافتہ ممالک کہ جن میں ڈنمارک‘سویڈن اور ناروے شامل ہیں ان کے نظام حکومت اور معاشی سسٹم کی سٹڈی کریں تو آپ ان کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکیں گے ۔