بریکنگ نیوز
Home / کالم / سی پیک:ترقیاتی امکانات!

سی پیک:ترقیاتی امکانات!

سی پیک جہاں عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے وہیں بھارت کی جانب سے اسکے بارے میں منفی باتیں پھیلانے کا سلسلہ بھی جاری ہے تاہم اس سلسلے میں چین نے چند غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ سی پیک کی وجہ سے کشمیر پر اسکا مؤقف ہرگز تبدیل نہیں ہوگا چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے پریس بریفنگ میں کہا کہ سی پیک سے تجارت‘ معاشی تعاون‘ خطے کے امن و استحکام اور ترقی میں مدد ملے گی انہوں نے مخصوص عناصر کی جانب سے تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے باور کرایا کہ ایسے مواد سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہم متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ سی پیک طویل المدتی تعاون کا ایک نیا فریم ورک ہے جو چین اور پاکستان کے تعاون سے مختلف شعبوں میں ترقی کا ضامن ہے جبکہ اس سے علاقائی رابطہ سازی کے فروغ میں مدد ملے گی درحقیقت بھارت کے خطہ میں توسیع پسندانہ عزائم ہی پاکستان اور چین کی قربت کا باعث بنے تھے بھارت نے 1967ء میں قیام پاکستان کے وقت ہی اس کی سلامتی کمزور کرنے کا ایجنڈا طے کیا جسکے تحت اس نے آزاد ریاست کشمیر کا پاکستان کیساتھ الحاق نہ ہونے دیا اور پھر 1948ء میں اپنی افواج کے ذریعے کشمیر کے ایک بڑے حصے پر اپنا تسلط جمالیا جسکا مقصد کشمیر کے راستے پاکستان آنے والے دریاؤں پر اپنا تسلط قائم کرنا تھا تاکہ اس پر آبی دہشتگردی کا راستہ نکالا جاسکے اس کیساتھ اس نے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی بنیاد پر کشمیر سے ملحقہ چین کے علاقہ اروناچل پردیش پر بھی نظریں گاڑھ لیں۔

جس پر کشمیر ہی کی طرح تسلط جمانے کیلئے بھارت نے 1960ء کی دہائی کے آغاز میں اپنی افواج اروناچل پردیش میں داخل کیں تو چینی افواج نے انہیں ناکوں چنے چبوا دیئے اور بھارتی افواج کو منہ کی کھاتے ہوئے واپس لوٹنا پڑابھارت کو بعدازاں پاکستان کی طرح چین پر تو کسی جارحیت کے ارتکاب کی جرات نہیں ہوئی مگر چین کیساتھ اس کا خبث باطن آج بھی باسی کڑھی کی طرح ابال کھاتا رہتا ہے اسی تناظر میں بھارتی آرمی چیف ایس کے سنگھ نے بڑ ماری تھی کہ بھارت اپنی بے پناہ جنگی دفاعی صلاحیتوں کی بدولت اسلام آباد اور بیجنگ کو چھیانوے گھنٹے میں بیک وقت ٹوپل کرسکتا ہے پاکستان کی سا لمیت کیخلاف بھارت کی سازشوں کا تو کوئی شمار ہی نہیں چنانچہ اس خطے میں بھارتی توسیع پسندانہ جارحانہ عزائم کی بنیاد پر پاکستان اور چین کے مابین فطری اتحاد اور بے لوث دوستی کا رشتہ استوار ہوا جو آج دنیا میں ضرب المثل بن چکا ہے بلاشبہ چین کے بھارت کیساتھ بھی اقتصادی تجارتی مراسم استوار ہیں جو علاقائی تعاون کے حوالے سے ہر ملک کی ضرورت ہوتے ہیں تاہم چین کو اس امر کا بھی بخوبی احساس ہے کہ امریکہ اور بھارت نے اسکی اقتصادی ترقی کو روکنے کیلئے باہم گٹھ جوڑ کیا ہے۔

اس بنیاد پر چین نے پاکستان کیساتھ ہر شعبے میں تعاون بڑھایا اور پاکستان کی سلامتی کے خلاف کسی بیرونی جارحیت کی صورت میں اسکے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اس کے دفاع کا عہد کیاآج سی پیک نے دونوں ممالک کو یکجان دو قالب بنا دیا ہے جبکہ اس منصوبے کے فعال ہونے سے خطہ کیلئے ہی نہیں‘ پوری دنیا کے لئے تجارتی مراسم اور اقتصادی ترقی کے راستے کھل رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ خطے کے علاوہ وسط ایشیاء اور یورپی دنیا بھی خود کو سی پیک کیساتھ منسلک کرنے کی خواہش مند ہے جس سے یقیناًخطے اور پوری دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے امریکہ اور بھارت کے عزائم پر اوس پڑی ہے جبکہ سی پیک کے ذریعے اقتصادی ترقی کے راستے کھلنے سے امریکہ بھارت گٹھ جوڑ سے پیدا ہونے والے جنگی جنون پر بھی زد پڑیگی یہ منصوبہ محض اقتصادی ترقی ہی نہیں‘ ملک کی بقا و سلامتی کے تحفظ کا بھی ضامن بن چکا ہے کیونکہ اس سے منسلک ہونیوالی دنیا اب پاکستان کو کبھی کمزور یا خدانخواستہ ختم نہیں ہونے دیگی اس حقیقت کاادراک بھارت کو بھی ہو جانا چاہئے کہ وہ اب پاکستان کیساتھ کشیدگی برقرار رکھ نہیں پائیگا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: افتخار احمد۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)