بریکنگ نیوز
Home / کالم / پیاس کے صحرامیںآج کنواں کھودو

پیاس کے صحرامیںآج کنواں کھودو

میں تذکرہ کر رہا تھا اس نیک دل بوڑھی خاتون نسرین اشرف خواجہ کا جنہوں نے نہایت دل جمعی سے’’ صبح کی نشریات‘‘ کے اختتام پر میں جو’’ چھوٹی سی بات‘‘ پیش کرتا تھا ان سب کو اپنی ڈائری میں محفوظ کیا اور میری فرمائش پر انکی نقل کمال مہربانی کرتے ہوئے مجھے روانہ کردی… میں اپنی ہی کہی گئی باتیں بھول چکا تھا کہ ان نشریات کے اختتام کو بھی بیس برس بیت چکے… چنانچہ مزید چھوٹی سی باتیں…انسان کو پہچاننے کیلئے آنکھیں درکار ہیں‘ انسان کے اندر کے انسان کو پہچاننے کیلئے تجربہ درکار ہے…

درخت پر بیٹھے پرندے کو آپ حکم دے کر اپنے پاس نہیں بلا سکتے‘ جو شخص اپنے بیٹے سے غافل ہے وہ اپنے گھرمیں مستقبل کے ایک ممکنہ مجرم کو پال رہا ہے‘ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ضرور کیجئے لیکن اپنی سائیکل یا موٹر سائیکل کو تالہ لگانا نہ بھولئے… ظاہر ہے یہ چھوٹی سی بات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث سے مستعارلی تھی جس میں ایک بدو نے حضورؐ سے شکایت کی کہ میں نے اپنا اونٹ اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر چھوڑا اور وہ چوری ہوگیا تو آنحضرتؐ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ضرور کرو لیکن اسکے ساتھ اونٹ کو کھونٹے سے بھی باندھ لیا کرو… دو بیوقوف مل کر ایک عقل مند تو نہیں ہو سکتے البتہ میاں بیوی ضرور ہو سکتے ہیں…ایک بیزار شکل کے انسان کو دیکھنے سے بہتر ہے کہ آپ ایک خوش شکل مسکراتا ہوا اودبلاؤ دیکھ لیں… ایک نکما شخص دیوار پر آویزاں ایک وال کلاک ہے جسکی دونوں سوئیاں تھم چکی ہیں‘ اندھیرا نام کی کوئی شے نہیں ہوتی‘ صرف ظاہر کی آنکھ دیکھ نہیں سکتی‘ اگر محبت اندھی ہوتی ہے تو شادی نظر ٹیسٹ کروانے کا آسان طریقہ ہے‘ کسی کو جان لینا‘ کسی کی جان لینے سے بہتر ہے‘ ایک بڑی مسکراہٹ ایک بڑے غم کو چھپانے میں مددگار ثابت ہوتی ہ۔

‘ جیسے دولت سے عینک تو خریدی جاسکتی ہے‘ نظر نہیں‘ ایسے ہی دولت سے رفاقت تو حاصل کی جا سکتی ہے‘ دوستی نہیں‘ محبت کی کشتی میں پہلا سوراخ شک کا ہوتا ہے‘ ایک لباس ایسا ہے جودنیا کے ہر خطے کے انسان پر سج جاتا ہے اور وہ ہے مسکراہٹ! تیز زبان والا شخص اپنا گلا خود کاٹتا ہے‘ زندگی کی شاہراہ یکطرفہ ہے… آپ جاسکتے ہیں‘ واپس نہیں آسکتے‘ سب لوگ عظیم نہیں بن سکتے لیکن عظیم بننے کیلئے جدوجہد تو کرسکتے ہیں‘ دانش اور دولت کی ذخیرہ اندوزی کرنے والے لوگ خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں‘ غم کے سیاہ بادلوں کے کناروں پر امید کی ایک رو پہلی شعاع ہمیشہ دمکتی ہے‘ زندگی ایک آئینہ ہے‘ آپ اسے بیزار ہو کر دیکھیں گے تو بیزار ہوجائینگے‘ مسکراتے ہوئے دیکھیں گے تو مسکراتے چلے جائینگے‘ اگر تم پر دنیا ہنستی ہے تو تم دنیا پر ہنسو کہ اسکی شکل بھی تم جیسی ہی ہے‘ پیاس کے صحرا میں آج کنواں کھودو‘ کل یہ گل وگلزار ہوجائیگا‘ جس شخص کا خیال ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے‘ وہ کچھ نہیں جانتا‘(افلاطون کا قول ہے کہ میں نے یہ جانا کہ میں کچھ نہیں جانتا)جیسے سفر کا پہلا قدم نصف سفر طے کر جانا ہوتا ہے‘ ایسے عمارت کی پہلی اینٹ نصف عمارت کی تعمیر کو مکمل کردیتی ہے‘ دوست آپ کی برائیوں کے باوجود آپ سے محبت کرتا ہے اور دشمن آپکی خوبیوں کے باوجود آپ سے نفرت کرتا ہے‘ اپنے منہ سے اپنی تعریف کرنیوالے شاعر دراصل بھک منگے ہوتے ہیں‘ جو گیت ماں کے دل میں گونجتا ہے وہ اسکے بچے کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کی صورت نغمہ سرا ہوتا ہے‘ ستارے اور دوست ایک جیسے ہوتے ہیں‘ چاہے کتنے ہی طویل فاصلوں پر ہوں انکی روشنی آپ تک پہنچتی ہے‘ جو لوگ ہواؤں سے گھربناتے ہیں انکے دروازوں پر صرف ہوائیں دستک دیتی ہیں‘ نصیحت کرنے سے‘ نصیحت قبول کرنا زیادہ افضل ہے‘ آزادی کا حصول آسان ہوتا ہے آزادی کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا‘ دنیا کے تمام بڑے دریا پانی کی ایک بوند سے جنم لیتے ہیں‘رب کے سامنے جھکنے والا سر…

سب سے سربلند ہوتا ہے‘ ناقابل اعتماد دوستوں کی نسبت تنہائی سے دوستی کرنا بہتر ہے‘ ہرشخص اتنا عقل مند نہیں ہوتا جتنا کہ اسکی ماں سمجھتی ہے اور ہر شخص اتنا بیوقوف نہیں ہوتا جتنا کہ اسکی بیوی سمجھتی ہے‘ تعلیم دراصل آہستہ آہستہ اپنی جہالت کو جان لینے کا نام ہے‘ ندی کے پانی اور آنکھ کے پانی میں صرف جذبات کا فرق ہے( یہ چھوٹی سی بات بہت ہی پسندیدہ ٹھہری)جیسے وسیع آنگن میں دھوپ زیادہ اترتی ہے… ایسے فراخ دلوں میں مسرت زیادہ اترتی ہے‘ ایک سیانی بیوی اپنے خاوند کے سنائے ہوئے لطیفوں پر اس لئے نہیں ہنستی کہ وہ اچھے ہوتے ہیں بلکہ اسلئے ہنستی ہے کہ وہ ایک اچھی بیوی ہوتی ہے‘ حیات کی ندی کے پانی وقت ہیں‘ ان میں عکس ہوتے ہمارے چہرے بالآخر فنا کے تاریک سمندروں میں ڈوب جاتے ہیں‘ شیر کو اپنی کھال اورانسان کو اپنے نام کی حفاظت کرنی چاہئے‘شیر کی کھال میں سوراخ نہ ہو اورانسان کے نام پر دھبہ نہ لگے‘ ماں جس شخص کو بیس برس میں عقلمند بناتی ہے‘ بیوی اسی شخص کو بیس سکینڈ میں بیوقوف بنادیتی ہے‘ زندگی کی تصویر ہمیشہ بلیک اینڈ وائٹ ہوتی ہے‘ اس میں رنگ آپ بھرتے ہیں‘ یا نہیں بھرتے‘ خاموشی ایک ایسا بند دروازہ ہے جسکے پیچھے لیاقت بھی ہوسکتی ہے اور اکثر حماقت بھی ہوتی ہے‘ روٹھنا چاہئے‘ پر اتنا بھی نہیں کہ منانے والا مناتے مناتے روٹھ جائے..