بریکنگ نیوز
Home / کالم / کمپلینٹ

کمپلینٹ

پچھلے دنوں میری ایک قاری بہن نے اپنا مسئلہ بیان کیا جس میں انکے کسی رشتہ دار ہی نے ان سے رقم کاروبار میں لگانے کے بہانے ہتھیا کر پھر اس پر قابض ہوگیا تھا تمام خاندان بہن کیخلاف تھا لیکن جب انہوں نے مجھ سے مشورہ مانگا تو میں نے قطعیت کیساتھ انکو اپنے حق سے دست بردار ہونے سے روکا اور اب کچھ امید بندھی ہے کہ انکو کم از کم اپنی دی ہوئی رقم تو مل ہی جائیگی مجھے یہ خبر نہ تھی کہ چند دن بعد ہی میرے ساتھ ہاتھ ہوجائے گا۔

چند روز قبل میں گھر سے گاڑی میں نکلا جلد ہی میرے پیچھے ایک ڈبل کیبن وین کے ڈرائیور نے ہارن بجانے شروع کئے اور تیز لائٹس بھی مارنے لگا میں نے الجھنا مناسب نہ سمجھا اور ایک طرف ہوکر اسے نکلنے دیا تاہم وہ گاڑی آگے جاکر پوری سڑک بند کرتے ہوئے کھڑی ہوگئی میرے ساتھ دوسری ٹریفک بھی بلاک ہوگئی چند لمحے انتظار کے بعد میں بھی گاڑی بند کرکے نکل آیا کہ اس سے پوچھوں کہ مزاج نازک کو کہاں ٹھیس پہنچی ہے لیکن میرے قریب جانے سے پہلے ہی وہ ایکسلریٹر پر پاؤں رکھ کر گاڑی بھگا لے گیا تاہم اس دوران میں اسکا نمبر نوٹ کرچکا تھا یہ ایک سرکاری گاڑی تھی ایک دوست کے مشورے سے ایکسائز کی ویب سائٹ پر جاکر گاڑی تلاش کی تو محکمے کا علم ہوگیا۔ اسکے بعد میں نے نہ صرف چیف منسٹر کے کمپلینٹ سیل میں اپنی شکایت درج کی بلکہ اسی محکمے کے سربراہ کو بھی ایک خط لکھ دیا ایک دو فون کرکے محکمے کے سربراہ سے فون پر بات ہوئی تو معلوم ہو ا کی مذکورہ گاڑی کل ہی نئے ڈائریکٹر کو ملی اور اس سے قبل کا ڈائریکٹر اسے غیر قانونی طور پر استعمال کررہا تھا اس خیال سے کہ نیا ڈائریکٹر تو بے قصور ہے ، میں نے مزید شکایتوں پر بریک لگا دی لیکن جتلادیا کہ جس نے بھی یہ بدمعاشی کی تھی ، اس سے بازپرس ضرور ہونی چاہئے۔ آج صبح اسی محکمے کے ڈائریکٹر نے بذات خود معذرت کرلی لیکن میں نے جواب دیا کہ اس میں ا ن کا کوئی قصور نہیں اس لئے میں ان سے ناراض نہیں ہوں البتہ پرانے افسر کو معذرت کرنی ہوگی جو کہ اس وقت یہ نیک کام کرکے عمرے کیلئے گئے ہوئے ہیں۔

اس کالم سے میری مراد اپنی مردانگی کا اشتہار ہر گز نہیں میں صرف اتنا بتانا چاہتا ہوں کہ سرکاری افسران بھلے سے اپنے محکمے کے حکمران ہوں لیکن بنیادی طور پر عوام کے خدمت گار ہیں وہ ہمارے ہی ٹیکسوں سے تنخواہ لیتے ہیں اور عوام کی خدمت ہی ان کا فرض ہے اسلئے ان سے بے جاطور پر ڈرنے کی ضرورت نہیں ہاں البتہ ان سے سرعام الجھنے کی ضرورت نہیں بس اپنا قلم اور کاغذ اُٹھائیے اور ان سے اوپر کے افسر کو لکھنا شروع کردیں اس معاملے کو چھوڑیئے نہیں۔ خدا بھلا کرے موجودہ حکومت کا کہ ایک فعال شکایات سیل بھی بنایا ہوا ہے اور اس سیل میں آن لائن بھی شکایت نہ صرف درج کی جاسکتی ہے بلکہ ساتھ ساتھ اسکی پراگریس بھی دیکھی جاسکتی ہے تمام سرکاری ملازمین کی ایک پرسنل فائل بنی ہوتی ہے اور یہ شکایات اسی فائل کا حصہ بنتی جاتی ہیں جو آج نہیں تو کل انکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں میں نے اگر شکایت لگائی تو میری اس افسر کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی میں صرف اتنا چاہتا تھا کہ سڑک کا استعمال محفوظ ہو اور سرراہ کسی کو قانون کی خلاف ورزی کرنے سے قبل کئی دفعہ سوچنا پڑے اگر عوام اپنا یہ حق نہیں استعمال کریں گے تو سرکاری ملازمین زیادہ دلیر ہوجائیں گے اور عوام کو ستاتے رہیں گے۔

پچھلے وقتوں میں کم ہی لوگ ہزارہ میں سرکاری نوکری کی خواہش رکھے تھے اگر وہاں ملازمت مل بھی جاتی تو سفارشوں سے لیکر رشوت تک دیکر اپنی ٹرانسفر ہزارہ سے باہر کروالیتے تھے وجہ ایک ہی تھی کہ ہزارہ میں تعلیم عام تھی اور ہر شخص کو اپنے حقوق کا علم تھاکسی بھی دفتر سے شنوائی نہ ہوئی یا کسی بھی محکمے میں کام پھنس گیا بس کاغذ قلم اٹھایا اور شکایت لکھ لی اسی وجہ سے سرکاری ملازمین اس علاقے کو اپنی ترقی کیلئے مہلک سمجھتے تھے اور دو دن بھی نوکری کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔
رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت اب پختونخوا کے کسی بھی شہری کو کسی بھی سرکاری کام، معاملے یا نظام کے بارے میں پوچھنے کا پورا حق ہے اس لئے عوام میں اس شعور کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تعلیم یافتہ افراد کو تو اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے ہی، انہیں اپنے ان پڑھ اور لاعلم ساتھیوں کو بھی اس حق کے تحت پوچھنے پر اکسانا چاہئے کسی محلے میں سڑک کی مرمت میں تعطل پیدا ہوگیا ہے تو سی اینڈ ڈبلیو کو فوراً ایک فارم بھر کے سوالات بھیجنے چاہئیں اگر آپ کی گلی کا کوڑا کرکٹ وقت پر نہیں اٹھایا جارہا تو میونسپلٹی سے شکایت کی جاسکتی ہے۔

تاہم اس حق کا ناجائز فائدہ بھی اُٹھانا جائز نہیں ہر محکمے میں کچھ لوگ دیانتدار ضرور ہوتے ہیں جو دل سے عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اسلئے کسی سرکاری ملازم کے بارے میں پہلے سے دل میں شکوک و شبہات نہیں رکھنے چاہئیں مجھے کئی بار تجربہ ہوا ہے کہ جائز کام کیلئے تھوڑا انتظار ضرور کرنا پڑا لیکن کام ہوا ضرور۔ ہر سرکاری کام میں ایک لمبے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے مختلف قسم کے فارم بھرنے پڑتے ہیں اور درجنوں کاغذات کی تصدیق کرنی پڑتی ہے اس لئے دیر سویر ضرور ہوتی ہے اسی دیر سویر کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیشہ وقت سے کافی پہلے درخواست یا رجسٹریشن کرنی چاہئے تاکہ سرکاری عمال کو فائلوں کے انبار میں بار بار نہ گھسنا پڑے پاسپورٹ اگر چھ ماہ بعد ایکسپائر ہورہاہو تو ابھی سے درخواست دے دیں۔میرے ساتھ خود یہ ہوا کہ پاسپورٹ کیلئے ارجنٹ فیس جمع کروائی اور جب کاؤنٹر پر شناختی کارڈ دکھایا تو اسے ایکسپائر ہوئے ایک سال ہوچکا تھا چنانچہ دس پندرہ دن شناختی کارڈ کی تجدید میں گزرے۔

سرکاری معاملات میں ہر دستاویز کی کاپی کی الگ تصدیق ضروری ہوتی ہے وجہ صرف یہ ہے کہ بحیثیت قوم ہم جھوٹ بولنے میں ماہر ہیں ہم اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ کوئی ہماری قسم پر بھی یقین نہیں کرتا اس کا نتیجہ سب کو بھگتنا پڑتا ہے اگر ہم اپنے گھر سے مہم شروع کریں کہ اس گھر میں کوئی بھی جھوٹ نہیں بولے گا تو یہ عادت رفتہ رفتہ اگلی نسل تک تو پھیل ہی جائے گی پھر شاید فون پر بھی ہمارے کام ہونے لگیں اور انکم ٹیکس والے بھی ہمارے منکر نکیر نہ بنیں۔