بریکنگ نیوز
Home / کالم / نیاامریکی صدراورتنازعات

نیاامریکی صدراورتنازعات


امریکہ کی سیاسی تاریخ کے سب سے متنازع صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف لینے کے بعد آنیوالے دنوں میں جن پالیسیوں کا اعلان کیا ہے‘ اسے سن کر دنیا نے اپنی سانسیں روک لی ہیں! انکے قابلِ بھروسہ ہونے کے حوالے سے اٹھتے سوالات کی وجہ سے واشنگٹن بے حد غیر یقینی کا شکار ہے ٹرمپ کے انتخاب نے ملک کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تقسیم کا شکار بنا دیا ہے!ٹرمپ کے بطور پینتالیسویں امریکی صدر حلف اٹھانے کے موقع پر ہزاروں مظاہرین نے واشنگٹن کی سڑکوں پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا جو دنیا کا مضبوط ترین عہدہ سنبھالنے والے شخص کیلئے سازگار شروعات نہیں۔ نوبل انعام یافتہ ماہرِ اقتصادیات پال کرگمین لکھتے ہیں کہ ’’امریکہ میں واضح طور پر حکمرانی نااہل ترین شخص کے ہاتھ میں آئی ہے۔‘‘پال مزید لکھتے ہیں کہ چونکہ ٹرمپ صدر کا عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں‘ صرف اس بناء پر ان کا احترام نہیں کیا جانا چاہئے۔‘‘نئے آنیوالے صدر کی مشکوک کاروباری‘ اخلاقی اور سیاسی ساکھ کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ غیر یقینی حالات کی جانب گامزن نظر آ رہا ہے۔ عہدہ سنبھالنے سے قبل ہی انہیں قابو میں رکھنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ انکا اپنے ملک کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور خفیہ اداروں سے تنازع چل رہا ہے‘ جنکا موازنہ وہ نازیوں کیساتھ کرتے ہیں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی تعریف‘ اور یہ الزام کہ صدارتی انتخابات کے نتائج میں روس کا اثر شامل تھا‘ نے نئے صدر پر عدم اعتمادی کو مزید بڑھایا ہے۔

چند دن قبل ظاہر ہونے والی ایک غیر تصدیق شدہ انٹیلی جنس معلومات میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر ماسکو کے ایک ہوٹل میں ٹرمپ کو سیکس ورکرز کے ساتھ فلما کر روس ٹرمپ کو بلیک میل کر چکا ہے‘ اس طرح نئے صدر کئی امریکی افسران کی نظر میں ایک ’’سکیورٹی رسک‘‘ بن چکے ہیں اس شک پر اسرائیلی اخبارات میں شائع ایک خبر میں مزید روشنی ڈالی گئی ہے جس کے مطابق امریکی افسران نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ کرتے وقت ’خیال رکھا جائے‘ کیونکہ اس طرح معلومات روس تک بھی پہنچ سکتی ہیں اگر ایک رہنما کی ساکھ اس قدر مشکوک و مشتبہ ہو‘ تو اس کے بارے میں کوئی سوچنے پر مجبور کیوں نہ ہو؟ اس سے پہلے کسی بھی امریکی صدر کی اہم قومی سلامتی کے معاملات سنبھالنے کی اہلیت کی اس قدر سخت جانچ پڑتال نہیں کی گئی ہے۔ خارجہ پالیسی پر ٹرمپ کے عجیب و غریب خیالات عالمی رہنماؤں کیلئے ایک بڑی تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں وہ غیر قانونی ہجرت کو روکنے کیلئے میکسیکو کی سرحد پر دیوار کھڑی کرنے اور اس دیوار کی قیمت بھی میکسیکو سے وصول کرنے کیلئے پرعزم ہیں مگر سب سے زیادہ تشویشناک بات امریکی سفارت خانے کی یروشلم منتقلی کا فیصلہ ہے‘ایک اور متنازع قدم اٹھاتے ہوئے ٹرمپ نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے داماد جیرڈ کشنر کو مشرق وسطیٰ میں امن سمجھوتہ کروانے کا ٹاسک دیں گے اس نامعقولی نے نہ صرف فلسطین بلکہ امریکہ کے مغربی اتحادیوں کو بھی شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ چین بھی ٹرمپ کی سرکش خارجہ پالیسی کی حرارت محسوس کر رہا ہے۔

بطور منتخب صدر‘ عالمی رہنماؤں کو کی جانے والی ٹیلی فون کالز میں سے ایک تائیوان کے صدر کو بھی کی گئی تھی گزشتہ تمام سابقہ امریکی حکومتیں‘ چاہے وہ ری پبلکن ہوں یا ڈیموکریٹس، 1979ء سے ’ون چائنہ‘ کی پالیسی پر قائم رہی ہیں گزشتہ چار دہائیوں کے دوران کئی تلخیوں کے باوجود بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کافی مضبوط ہوئے ہیں ٹرمپ کے تائیوان کی جانب پرتپاک روئیوں اور اشاروں سے ایک بار پھر ’ٹو چائناز‘ کا مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے۔ یہ بات بیجنگ کیلئے بھی شدید غصے کا باعث بنی ہے ایک دوسرا حساس مسئلہ یہ ہے کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے پر نظرثانی کی کوشش میں ہیں یہ معاہدہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں نے سال دوہزارپندرہ میں کیا تھا جسکے تحت جوہری ہتھیار تیار کرنے کی ایران کی صلاحیت ختم کرتے ہوئے اس پر عائد معاشی پابندیاں ہٹائی گئی ہیں یقیناًواشنگٹن تنہا اس معاہدے کو واپس نہیں لے سکتا مگر اس طرح ایران کیلئے بین الاقوامی دھارے میں دوبارہ آنے کیلئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اب جبکہ وہ صدارت کا عہدہ سنبھال چکے ہیں۔

مگر اب بھی ان کے مسلم مخالف مؤقف میں نرمی دکھائی نہیں دے رہی افغانستان پر ٹرمپ کی پالیسی کافی مبہم نظر آتی ہے جہاں قریب دس ہزار امریکی فوجی اب بھی دہشت گردوں سے لڑنے میں مصروف ہیں۔ افغان مسئلے پر ان کا مؤقف نہ انتخابی مہم کے دوران اور نہ اس کے بعد دیئے جانے والے انٹرویوز میں واضح ہوا۔ مشیر قومی سلامتی کے عہدے کے لئے جنرل مائیکل فلن اور دفاعی سیکرٹری ریٹائرڈ جنرل جیمز میٹس افغان جنگ میں شریک رہے ہیں اور برسرزمین صورتحال سے واقف ہیں مگر اس وقت ایسا کوئی واضح اشارہ نہیں ملتا جس سے پتہ چلتا ہو کہ آیا نئی انتظامیہ فوجیوں کو وہاں اسی تعداد میں وہاں تعینات رکھے گی یا پھر مزید بڑھائے گی پندرہ سالہ طویل افغان جنگ کے خاتمے کے کسی سیاسی حل پر بھی کوئی وضاحت نظر نہیں آ رہی ہے ٹرمپ بطور امریکہ کے صدر اور ان کی پالیسیوں کو دیکھا جائے تو فی الوقت پاکستان کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں ہے کئی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر افغانستان میں صورتحال بگڑتی ہے تو وزیر اعظم نواز شریف کیساتھ مشہور زمانہ ٹیلیفونک گفتگو کے باوجود بھی پاکستان پر دباؤ بڑھے گا۔(بشکریہ: ڈان۔ تحریر: زاہد حسین۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)