بریکنگ نیوز
Home / کالم / کتنی بلندی ‘کتنی پستی

کتنی بلندی ‘کتنی پستی


حکمرانوں کو ہمیشہ دوستانے یارانے پالنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ حکمرانوں کی قربت حاصل کرنے کے بعد سرمایہ دار ان سے کئی مالی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ‘ مغرب کا میڈیا اور اپوزیشن پارٹیاں اس معاملے میں کافی بیدار ہیں اور وہ حکمرانوں کے ہر کرتوت پر کڑی نظر رکھتے ہیں اگلے روز ہم نے اخبار میں یہ خبر پڑھی کہ کینیڈا کے وزیر اعظم حبسٹن ٹروڈیو نے خود اپنے میڈیا کو بتلایا کہ کینیڈا کے تحقیقاتی ادارے اس بات پر ان سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں کہ انہوں نے آخر کیوں سال نو کے آغاز کی چھٹیوں میں آغا خان کی میزبانی قبول کی اور ایک نجی ہیلی کوپٹر میں وہ آغا خان کی ذاتی رہائش گاہ واقع بہاماس Bahamas Islands گئے۔ کینیڈا میں اخلاقیات کا ایک ادارہ موجود ہے کہ جس کے سربراہ کو Ethics Commissioner کہتے ہیں وہ ہر وقت بیدار رہتا ہے اور اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ گہرائی سے دیکھے کہ کوئی وزیر ایسا کام تو نہیں کر رہا کہ جو اس کے ذاتی مفاد میں ہو اور ریاست کے مفادات سے ٹکراتا ہوا ۔ آغا خان بے شک ایک مذہبی شخصیت ہیں پر اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ان کا کاروبار پھیلا ہوا ہے کہ جس کا کوئی حساب نہیں کھربوں روپے بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ رقم ان کے کاروبار میں لگی ہوئی ہے کینیڈا بلکہ کینیڈا کے علاوہ یورپی ممالک کے باشندے بھی یہ نہیں چاہتے کہ ان کے حکمرانوں کے کھرب پتیوں کے ساتھ یارانے دوستانے ہوں کینیڈا کے قانون میں درج ہے کہ اگر کوئی وزیر نجی ہوائی جہاز کا سفر کرے گا تو وہ اس کیلئے Ethics Commissioner سے پیشگی اجازت لے گا ۔

مندرجہ بالا کیس میں کینیڈا کے وزیر اعظم نے پیشگی اجازت بھی نہیں لی تھی چنانچہ وہ جرمانہ بھی ہو سکتے ہیں اور ان کو تحریری سرزنش بھی کی جاسکتی ہے اس واقعہ کے بعد کینیڈا کے وزیر اعظم کی عوامی مقبولیت میں 12 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے ہمارے ملک میں چوروں اور ڈاکوؤں کو پکڑنے کیلئے کئی قوانین موجود ہیں پر خدا لگتی کہتے ہیں کیا اس ملک کے کسی بھی تحقیقاتی ادارے بشمول نیب ‘ ایف آئی اے یا کسی اور تحقیقاتی ایجنسی کے تلوں میں اتنا تیل ہے کہ وہ از خود وزیر اعظم کے خلاف اس قسم کی تحقیقات شروع کر سکے کہ جو کینیڈا کے وزیر اعظم کے خلاف وہاں کے ایتھکس کمشنر نے شروع کی ہے دیگ میں جو چاول پک رہے ہوں اس کا ایک دانہ چکھنے سے ہی پکے ہوئے چاولوں کے معیار کا اندازہ ہو جاتا ہے یہ جو اوپر کی سطور میں ہم نے آپ کو کینیڈا کے وزیر اعظم کے خلاف تحقیقات کا ذکر کیا یہ تو ان سینکڑوں واقعات میں صرف ایک واقع ہے کہ جو یورپ اور کینیڈا کے رائج خود احتسابی کے نظام کا ایک لازمی حصہ ہے اور جن کے بارے میں ہم روزانہ اخبارات میں پڑھتے رہتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں کیا کچھ نہیں ہوتا پر مجال ہے کہ غلط کام کرنے والوں کو شرم آتی ہو کھرب پتیوں کو ہمارے سیاست دان ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنی سیاسی پارٹیوں کا رکن بناتے ہیں ان سے کروڑوں روپے بطور پارٹی فنڈ وصول کرتے ہیں اور بعد میں ان کو اسمبلیوں کے ٹکٹ دیتے ہیں یہ نہیں دیکھتے کہ وہ کس قماش کے لوگ ہیں انہوں نے کس طریقے سے دھن بنایا ہے کینیڈا کا وزیر اعظم صرف آغا خان سے ملنے گیا اور وہاں لوگوں نے کتنا شور مچایا اپنے ہاں لکڑ کھاؤ کہ پتھر ڈکار لئے بغیر سب کچھ یہ لوگ ہضم کر لیتے ہیں جو شور مچاتے ہیں ۔

وہ چوروں کا احتساب کرینگے قوم میں اگر ذرا سی بھی عقل ہو اور تھوڑا سا بھی سیاسی شعور ہو تو اب کی دفعہ تو 2018ء میں وہ ان لوگوں اور سیاسی پارٹیوں کو ایک ووٹ بھی نہ دیں کہ جو مختلف ادوار میں اس ملک پر حکومت کرتے رہے ہیں اور جنہوں نے ایوان اقتدار میں بیٹھ کر صرف اپنی تجوریاں ہی بھری ہیں اور اس ملک کے عام آدمی کو کچھ نہیں دیا ان کو دوبارہ اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھانا تو خودکشی کرنے کے مترادف ہوگا۔ آزمودہ را آزمودن جہل است ‘ آزمائے ہوئے کو دوبارہ آزمانا جہالت ہے۔