بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پارا چنار دھماکہ

پارا چنار دھماکہ

کرم ایجنسی کے صدر مقام پارا چنار کے کاروباری علاقے میں ہونے والے دھماکہ میں تادم تحریر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 20 بتائی جا رہی ہے جبکہ درجنوں زخمی بھی ہیں زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے ۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق دھماکہ ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے ہوا جس میں 8 سے 10 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا دھماکہ اس وقت ہوا جب منڈی میں لوگوں کا رش تھا وزیر اعظم نواز شریف نے زخمیوں کو فوری طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دھماکہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج دہشت گردی کو ہر محاذ پر شکست دے گی پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف نے دھماکہ میں زخمی ہونے والوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ۔ پارا چنار میں یہ پہلا دھماکہ نہیں اس سے پہلے بھی یہاں درجنوں افراد مختلف دھماکوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں علاقہ میں سکیورٹی کے لئے بھی خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں تاہم پارا چنار ہو یا کوئی بھی علاقہ پبلک مقامات پر سکیورٹی کے انتظامات میں کمیونٹی کی شرکت اچھے نتائج دے سکتی ہے ہمارے ہاں کسی بھی حادثے یا دھماکہ میں جاں بحق اور زخمی افراد کو اٹھانے میں شہری ہمیشہ تعاون کرتے ہیں۔

بعض واقعات میں عوامی جذبے کا یہ عالم بھی ہوتا ہے کہ خون کے عطیات ضرورت سے زیادہ اکٹھے ہو جاتے ہیں یہی شہری سکیورٹی کے کام میں بھی ذمہ دار اداروں کا ہاتھ بٹا سکتے ہیں قبائلی علاقوں میں جب تک بلدیاتی انتخابات نہیں ہو جاتے اس وقت تک تاجر تنظیموں اور خدمت خلق کے دیگر رضا کار اداروں کو ان انتظامات میں شریک کیا جاسکتا ہے۔ صوبوں کی سطح پر چونکہ بلدیاتی نظام آپریشنل ہے اس لئے وہاں منتخب نمائندوں کو یہ ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے اس مقصد کے لئے صوبوں میں پولیس اور فاٹا میں پولیٹیکل انتظامیہ کو ایک مربوط حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی کمیونٹی کی شرکت سے پولیس کیساتھ لوگوں کی تکرار کا سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا جو اکثر سکیورٹی کے باعث لوگوں کو روکنے پر دیکھنے میں آتا ہے۔ اس سب کے ساتھ کسی بھی آبادی میں کوئی سانحہ ہونے پر طبی امداد کی فراہمی کے انتظامات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے تاکہ اذیت میں مبتلا مریضوں کو فوری خدمات فراہم ہو سکیں جن سے متعلق اکثر عوامی شکایات ریکارڈ کا حصہ بنتی ہیں جو چند روز بعد فائلوں میں بند ہو جاتی ہیں۔

بجلی کے ساتھ گیس کی بندش

سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ گیس کی فراہمی میں تعطل اور پریشر میں کمی کی شکایت نے احتجاج کی صورت اختیار کر لی ہے گرمی کی شدت میں یہ احتجاج بجلی کی بندش پر ہونا معمول تھا جو اب سردیوں میں بھی ہوتا ہے ۔ گیس کے معاملے میں سوئی ناردرن پشاور کے سربراہ کا کہنا ہے کہ گیس کی قلت نہیں استعمال زیادہ ہے موسم سرما اچانک نہیں آتا ذمہ دار دفاتر کا کام ہی یہی ہے کہ وہ طلب و رسد پر نظر رکھیں اور بہتر مینجمنٹ کے ساتھ لوگوں کو مشکلات کا شکار ہونے سے بچائیں بجلی ہو یا گیس اس کی کمی ایک بڑا قومی مسئلہ ہے جس کا حل علاقائی سطح کے دفاتر کے پاس نہیں تاہم ڈیمانڈ اور سپلائی کے حوالے سے مؤثر حکمت عملی اپنا کر لوگوں کو سہولت دی جاسکتی ہے ۔اس میں سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے ساتھ تعاون بھی لیا جاسکتا ہے صرف کمی اور زیادتی کے اعداد و شمار دینا کسی مسئلے کا حل نہیں۔