بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سڑکوں پر جو ہونا تھا ہو چکا اب فیصلے کا انتظار کریں، سپریم کورٹ

سڑکوں پر جو ہونا تھا ہو چکا اب فیصلے کا انتظار کریں، سپریم کورٹ


اسلام آباد: پاناما کیس کی سماعت کے دوران جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالت کے باہر جو کچھ کہا جا چکا بہت ہے اور سڑکوں پر جو ہونا تھا ہو چکا لیکن اب فیصلے کا انتظار کریں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے، جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے اپنے دلائل کے آغاز پر کہا کہ گزشتہ سماعت کے سوالات سے تاثر ملا جیسے عدالت فیصلہ کر چکی ہے، جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ سوالات فیصلہ نہیں ہوتے، سوالات پوچھنے کا مقصد وضاحت طلب کرنا ہوتا ہے۔

جماعت اسلامی کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ وزیراعظم پہلے کہتے تھے کہ ہر چیز کلیئر کرنا چاہتا ہوں، معاملہ عدالت آنے کے بعد سب کچھ بدل گیا، وزیراعظم نے اپنا کیس وکیل سمیت بچوں سے الگ کر دیا اور دستاویزات پیش کرنے کے بجائے استحقاق کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔ وزیراعظم کے دفاع کے لیے وزراء عدالت آ رہے ہیں، حکومتی مشینری کیس کا دفاع کررہی ہے۔ وزیراعظم کی تقریر اسمبلی کے ایجنڈے کا حصہ نہیں تھی، منگل کا دن اسمبلی میں نجی کارروائی کے لئے مختص ہوتا ہے لیکن انہوں نے منگل کو نہیں پیر کو تقریر کی۔ اگر وزیراعظم کو ذاتی وضاحت دینا تھی تو ایجنڈے میں شامل ہونا ضروری تھا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ فلیٹ نواز شریف کے نہیں، اس لیے منی ٹریل نہیں دے سکتے، انہوں نے ثبوتوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ قانونی نکات کا انبار لگا دیا، پوری حکومت پر الزام نہیں پھر بھی ساری حکومت پانامہ کا دفاع کررہی ہے، میں سمجھتا ہوں عدالت کے باہر جو کچھ کہا جا چکا بہت ہے، جس نے جو برا بھلا کہنا تھا کہہ دیا، سڑکوں پر جو ہونا تھا ہو چکا، اب فیصلے کا انتظار کریں۔