بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان افغانستان سے مذاکرات میں سخت موقف اپنانے کے لیے تیار

پاکستان افغانستان سے مذاکرات میں سخت موقف اپنانے کے لیے تیار

اسلام آباد: پاکستان آئندہ ہفتوں میں افغانستان سے مذاکرات میں سخت موقف اپنانے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ مذاکرات آرمی چیف کے دورہ افغانستان کے موقع پر ہوں گے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف بننے کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے دورہ کابل کی دعوت دی تھی۔ اگرچہ جنرل باجوہ نے اصولی طور پر یہ دعوت قبول کر لی ہے لیکن وہ اس دورے کیلیے موزوں وقت کے منتظر ہیں۔

ایک سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا ہے کہ امریکا کی نئی انتطامیہ کی جانب سے افغانستان پر موقف واضح ہونے کے بعد آرمی چیف افغانستان کا دورہ کریں گے لیکن بہرکیف وہ جب بھی افغانستان جائیں گے وہ افغان قیادت کو ایک ’واضح پیغام‘ دیں گے کہ اپنی ناکامیوں پر پاکستان کو ذمہ دار قرار دینابند کرو۔ توقع کی جارہی ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ افغان قیادت کو دوٹوک انداز میں بتائیں گے کہ پاکستان اب کسی بھی گروہ کی نہ تو پشت پناہی کر رہا ہے اور نہ ہی کوئی پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے۔ اس کے بجائے وہ اس امر کے ناقابل تردید شواہد پیش کریں گے کہ کیسے افغان حکومت کے بعض عناصر پاکستان کے خلاف ہونے والے حملوں کی حمایت کر تے ہیں۔

عہدیدار کے مطابق اس سب کچھ کے باوجود پاکستان افغانستان میں طویل عرصے سے جاری عدم استحکام کے خاتمے کیلیے سیاسی حل کی حمایت کیلیے کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کریگا۔جنرل قمر نے جب سے فوج کی کمان سبنھالی ہے اس وقت سے انھوں نے افغانستان سے رابطے استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے دو ہفتے کے دوران صدر غنی سے دومرتبہ فون پر بات کی پہلی مرتبہ نئے سال کے آغاز مرپ دوسری مرتبہ کابل بم حملوں کی مذمت کیلیے اس موقع پر نہ صرف انھوں نے بم حملوں کی مذمت کی بلکہ افغانستان کو مشترکہ چیلنج سے نمٹنے کیلیے مدد کی پیشکش بھی کی۔

دریں اثنا آرمی چیف نے افغان صدر سے ایک دوسرے کو موردالزام ٹھہرانے کے عمل (بلیم گیم) روکنے کیلیے درخواست بھی کی، ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کا رویہ کسی بھی ملک کے مقاصد کیلیے موزوں نہیں ہے۔ تاہم ان کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہوئی اور افغان صدر نے پھر سے الزامات لگادیے اور اصرار کیا کہ ان کا ملک دونوں ممالک کے مستقبل کے حوالے سے پاکستان سے سنجیدہ بات چیت کا خواہاں ہے۔