بریکنگ نیوز
Home / کالم / پاک افغان قریبی روابط!

پاک افغان قریبی روابط!

جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے عہدے پر فائز ہونے کے بعد سے کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان غلط فہمیاں اور تحفظات بات چیت کے ذریعے ختم کئے جائیں جسکے لئے وہ ہر ممکنہ کوشش اور بات چیت کے وسائل بروئے کار لا رہے ہیں لیکن ہر دروازہ کھٹکھٹانے کے باوجود بھی اُنہیں افغان سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے مثبت جواب نہیں مل پا رہا افغانستان پاکستان کی ان کوششوں کا الٹ جواب دے رہا ہے اور افغان صدر اشرف غنی کوئی بھی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جب توجہ ان پر مرکوز ہو اور وہ پاکستان پر بے بنیاد الزام تراشیوں سے اپنے کلام کا آغاز و اختتام نہ کریں! بلاشک و شبہ پاکستان اور افغانستان کی سیاسی قیادت کے درمیان پائے جانیوالی اختلافات اور بداعتمادی کی اس وسیع ہوتی خلیج کو دیکھتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ نے محسوس کیا کہ یہ صورتحال قیام امن کیلئے نقصان دہ ہے جس سے سرحد کے دونوں طرف عسکری گروہ فائدہ اٹھا رہے ہیں گذشتہ 16دن میں جنرل باجوہ نے افغان صدر غنی کو دو مرتبہ ٹیلی فون کیا تاکہ افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان قیام امن کیلئے مذاکراتی عمل کا سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا وہیں سے شروع کیا جا سکے اور ساتھ ہی ساتھ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں در آنے والی سردمہری کا بھی خاتمہ ممکن ہو جنرل باجوہ نے پہلی ٹیلی فون کال یکم جنوری کو کی جس میں انہوں نے صدر غنی کو نئے عیسوی سال کے آغاز پر مبارک باد دیتے ہوئے افغانستان میں قیام امن کے عمل میں ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی یکم جنوری ہی کے روز جنرل باجوہ نے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو بھی فون کیا اِن کے علاوہ جنرل باجوہ نے افغان فوج کے سربراہ جنرل قدم شاہ شاہین سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا۔

اس موقع پر افغان صدر نے جنرل باجوہ کو افغانستان کا دورہ کرنیکی دعوت دی لیکن یہ دعوت صرف زبانی کلامی ہی ثابت ہوئی اور افغانستان کی جانب سے پاک فوج کے سربراہ کے افغانستان دورے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اقدامات نہیں کئے گئے لیکن پھر بھی ٹیلی فون کے ذریعے رابطوں سے امید کی کھڑکی کے در وا ضرور ہوئے ہیں۔ جنرل باجوہ نے دوسری مرتبہ صدر غنی کو ٹیلی فون کال 16جنوری کو کی تاکہ ان سے کابل‘ قندھار اور ہلمند صوبے کے صدر مقام لشکرگاہ میں ہوئے دہشتگرد حملوں کی مذمت اور ان میں ہوئے جانی نقصانات کے حوالے سے تعزیت اور غم زدہ افغان خاندانوں سے اظہار یکجہتی و ہمدردی کی جاسکے۔ صدر غنی نے افغان سرزمین پر دہشتگرد حملوں میں ملوث کرداروں کے پاکستان میں ہونے کا تذکرہ کیا تو جنرل باجوہ نے انکی توجہ اِن بہتان و الزام تراشی کے نتیجے میں فائدہ اٹھانے والے عناصر کی جانب مبذول کرائی اور تجویز کیا کہ پاکستان اور افغانستان کو (اپنی اپنی سرزمین پر) قیام امن کے لئے سرحدوں پر آمدورفت اور سرحدی علاقوں پر نظر رکھنے کیلئے ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے کڑی نگرانی کرنی چاہئے۔ صدر غنی ایسی کسی تجویز سے متفق ہوں گے ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ گذشتہ برس جب موسم گرما میں پاکستان کی جانب سے ’بارڈر مینجمنٹ‘ کی کوشش کی گئی تو افغان حکومت کی جانب سے اسکی مخالفت اس حد تک دیکھنے میں آئی کہ تورخم سرحد پر تصادم ہوا اسی طرح سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دور میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے کا معاہدہ کرنیکی کوشش بھی کی گئی‘ جسے پھر سے قابل عمل بنانے کی کوشش جنرل باجوہ کی طرف سے بھی دیکھنے میں آئی ہے۔

افغان عوام کی جانب سے اِس تجویز کا خیرمقدم لیکن افغان خفیہ ادارے نے اِسے ناقابل عمل قرار دیا تھا ۔جنرل باجوہ اور صدر غنی کے درمیان ہوئی ٹیلی فونک بات چیت سے متعلق پاکستان اور افغانستان نے بیانات جاری کئے جس میں جنرل باجوہ کی طرف سے افغان حکومت کو یقین دہانی کرائی گئی کہ پاکستان عسکریت پسندوں کا خاتمہ کرنے کیلئے ہرممکن تعاون کیلئے تیار ہے اور سمجھتا ہے کہ اسکے بنا خطے میں امن و استحکام کا دور دورہ نہیں ہو سکتا۔ صدر غنی کو باور نہیں کرایا جا سکا کہ پاکستان عسکریت پسندوں کا قلع قمع چاہتا ہے۔ وہ مسلسل گلہ مند رہتے ہیں کہ پاکستان عسکریت پسندوں کے خلاف خاطرخواہ کاروائیاں نہیں کررہا جو نہ صرف پاکستان کی اپنی داخلی سلامتی بلکہ خطے کے ممالک کے لئے بھی خطرہ ہیں۔ جنرل باجوہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سنجیدہ اور جامع مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ دوہزار سولہ کی طرح دوہزار سترہ میں بھی افغان اپنے ملک کو رضاکارانہ طور پر واپسی کے لئے آمادہ نہیں ہوں گے کیونکہ وہاں پر سیکورٹی سے متعلق برسرزمین حالات سازگار نہیں۔جنرل باجوہ کی ٹیلی فون کالز کی وجہ سے کم سے کم انجماد ختم ہوا ہے اور تناؤ کا ماحول جو کہ جنوری گیارہ کو دارالحکومت کابل‘ قندھار اور لشکرگاہ میں ہوئے دہشتگردحملوں سے تناؤ بھرا تھا اس میں تبدیلی آئی۔ طالبان نے کابل اور ہلمند کے حملوں کی ذمہ داری قبول کی لیکن انہوں نے قندھار کے حملے کو داخلی دشمنی کا شاخسانہ قرار دیا جس میں گورنر ہاؤس کے مہمان خانے کو نشانہ بنایا گیا تھا طالبان نے اس حملے کیلئے قندھار پولیس کے سربراہ جنرل عبدالرزاق کی طرف انگلی اٹھائی جو قندھار میں طالبان کے ایک دیرینہ مخالف ہیں رزاق جو کہ پاکستان مخالفت میں شہرت رکھتے ہیں انہوں نے اس حملے کے لئے حقانی نیٹ ورک اور پاکستان کے خفیہ ادارے ’آئی ایس آئی‘ کو ذمہ دار قرار دیا۔ قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر کی قیادت میں حقائق جاننے کے لئے وفد بھیجا گیا اور اس نے بھی پاکستان ہی کو اِس حملے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اِس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان کے باہر بیٹھنے والوں نے کی تھی اور حملے میں استعمال ہونے والا بارود افغانستان میں پہلی مرتبہ استعمال ہوا ہے۔

ظاہری سی بات تھی کہ اِن حالات میں پاک افغان تعلقات پر منفی اثر مرتب ہونا ہی تھا۔ جنرل باجوہ کا افغان حکومت سے رابطہ کاری کو پاکستان کی سیاسی حکومت نے زیادہ پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جنہیں محسوس ہونے لگا کہ جنرل باجوہ پاکستان کی افغانستان و بھارت کے بارے میں خارجہ پالیسی پر اثرانداز ہو رہے ہیں اور سیاسی قیادت کو اہم فیصلوں سے الگ رکھے ہوئے ہیں جنرل باجوہ کی فون کال یا انکے افغانستان کے دورے سے صرف اچھے الفاظ و خیالات کا تبادلہ ہی ہوگا اور دونوں ممالک کے ایک دوسرے کے بارے میں تحفظات الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے دور ہوں گے پاکستان کی جانب سے حالیہ دنوں میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں موجود افغان طالبان قیادت کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی نہیں کی جائیگی کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں افغان جنگ کے کردار پاکستان کو داخلی طور متاثر کر سکتے ہیں لیکن پاکستان یہ کر سکتا ہے کہ افغان طالبان کی قیادت کو مذاکرات کی میز پر لے آئے تاکہ افغان حکومت اور طالبان آپس میں مل بیٹھ کر قیام امن کے کسی لائحہ عمل پر متفق ہو سکیں۔ دوسری جانب افغان حکومت پاکستان سے واضح عمل چاہتی ہے کہ وہ یا تو افغان طالبان قیادت کو مذاکرات کی میز پر لائے یا پھر ان کے خلاف کاروائی کرے ابھی تک ایسی کوئی ملاقات طے نہیں ہوئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی محاذ آرائی اور افغانستان میں اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہے گا جس سے افغان عوام‘ چاہے وہ سکیورٹی اہلکار ہوں‘ طالبان جنگجو ہوں یا عام شہری اُن کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)