بریکنگ نیوز
Home / کالم / عقلمنددشمن اورنادان دوست

عقلمنددشمن اورنادان دوست


کہتے ہیں عقلمند دشمن، نادان دوست سے بہتر ہوتا ہے، پانامہ لیکس کے بارے میں عدالت عظمیٰ میں جو کیس چل رہا ہے اس کی ہر شنوائی کے بعد بعض حکومتی زعماء ٹیلی ویژن کے کیمرے کے سامنے آکر ایسے کلمات کہہ دیتے ہیں کہ جن سے حکومتی پارٹی کا پبلک امیج خراب ہو رہا ہے، اگلے روز طلال چوہدری کے منہ سے ایسے الفاظ نکلے کہ جن سے اس ملک کی اکثریت کی دل آزاری ہوئی، موصوف نے کہا کہ بعض لیڈروں کی تعلیم اور ڈگری تو لندن کی ہے پر ان کی سوچ لنڈ ے جیسی ہے اب لنڈے کو کون نہیں جانتا موصوف کا اشارہ لنڈا بازار کی طرف تھا کہ جو ملک کے ہر حصے میں پایا جاتا ہے اور جہاں سردیوں میں غریب لوگ اپنا جسم گرم رکھنے اور اپنے بچوں کونمونیا سے بچانے کیلئے گرم کپڑے خریدتے ہیں جو استعمال شدہ ہوتے ہیں سستے داموں میں مل جاتے ہیں کیونکہ وہ اترن کے زمرے میں آتے ہیں، طلال چوہدری کے مندرجہ بالا جملے کا لب لباب یہ ہے کہ انہوں نے لنڈا بازار کے کپڑے استعمال کرنے والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا ہے، گویا باالفاظ دیگر ان کی نظر میں ان لوگوں کی، ان سرمایہ داروں کی سوچ اور فکر لنڈا بازار کے کپڑے پہننے والوں کی سوچ سے بہتر ہے جو بڑے بڑے ڈیپارٹمنل سٹورز سے مہنگے ترین برانڈز ملبوسات خریدنے کی مالی استطاعت رکھتے ہیں اس بیان سے موصوف کی سیاسی سوچ کی غمازی ہوتی ہے، کہاں گئے ان کی پارٹی کے سیاسی نعرے کہ وہ غریبوں کی جماعت ہے، کہاں گئے ان کے لیڈروں کے ٹسوے جو وہ الیکشن کے دنوں میں غریبوں کے غم میں پبلک جلسوں میں بہاتے ہیں۔

ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور، ہم تو انتظار کررہے تھے کہ وزیراعظم صاحب نے طلال چوہدری کو فوراً اس قسم کے متنازعہ بیان جاری کرنے پرآئندہ سے کیمرے کے آگے آکر سیاسی تبصرے کرنے سے منع کردیا ہوگا پر نظر آرہا ہے کہ اوپر سے نیچے سب ہی ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں، یہ جو کچھ بھی نچلی سطح پر بیان بازی ہو رہی ہے اس کو ن لیگ کی ٹاپ کی قیادت کی پوری اشیرباد حاصل ہے، ویسے ہماری سمجھ سے کم ازکم یہ بات بالاتر ہے کہ آخر کیوں اس ملک میں عدالتوں میں مقدمات کی کاروائی کے دوران جج صاحبان بھی زیر بحث امور پر ریمارکس پاس کرتے ہیں کہ جن کو پھر اخبار اور ٹی وی والے دوسرے دن اچھالتے ہیں اور کیوں مقدمے میں فریقین کے ترجمانوں کو کھلی چھٹی ہے کہ وہ ہر روز عدالتی کاروائی کے بعد اس پر عدالت سے باہر آکر کیمرے کے آگے تبصرے کریں۔

کم ازکم ہم نے باہر کے ممالک میں تو اس قسم کا ماجرا کبھی بھی نہیں دیکھا، اس ملک میں بسنے والے لوگوں کے اور بھی کئی مالی معاشی، تعلیمی اور سماجی مسائل ہیں کہ جن پر بحث ومباحث ضروری ہیں، صرف سیاست ہی موضو ع بحث نہیں ہونی چاہئے اور وہ بھی چوبیس گھنٹے، افسوس تو اس بات کا ہے کہ اس ملک میں کھانے پینے کی تقریباً ہر شے جو بازار سے ملتی ہے اس کے بارے میں سوفیصد یقین سے نہیں کہاجاسکتا کہ اس میں ملاوٹ نہیں ہوگی جو دوائی مریض کھا رہے ہیں اس کے بارے میں کوئی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ جعلی نہیں ہے اکثر جگہ مناسب قوانین کا فقدان ہے‘ اس قسم کے معاملات کا حل نکالنے کیلئے ہمارے پارلیمانی اراکین کو احساس تک نہیں وہ کسی اور چکر میں ہی پڑے رہتے ہیں۔