بریکنگ نیوز
Home / کالم / صوبائی حکومت کاقابل تعریف اقدام

صوبائی حکومت کاقابل تعریف اقدام


اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے ایک اسلامی مملکت میں تعلیم کا جو معیار ہونا چاہئے وہ ابھی تک ہم حاصل نہیں کر سکے جو کچھ چند حکومتوں نے کیا وہ چونکہ محض دکھلاوا تھا اس لئے اس کا انجام بھی وہی ہوا۔ ہو سکتا ہے کہ ضیاء دور میں قرآنی تعلیمات کو نصاب کا حصہ بنانے کا جو کام کیا گیا وہ کچھ اس طرح کا تھا کہ جس سے اسلام کے ایک رکن یعنی جہاد کو توکورس میں شامل کیا گیا جو اس وقت کی ایک اہم ضرورت تھی اور شایدیہ امریکہ کی افغان پالیسی کی وجہ سے کیا گیا تھااور جب امریکہ کی خواہشات تبدیل ہوئیں تو ہمارے سارے دانشوروں نے اس سلیبس پر اعتراضات جڑ دیئے اور امریکہ کو بھی اب وہ کورس یعنی جہاد کی تبلیغ کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی اس لئے کہ اب تو سوویت یونین سکڑ کر روس بن گیاتھا اس لئے اگر جہاد کی تعلیم کو پاکستان میں اسی طرح رکھا جاتا تو یہ امریکہ کے خلاف ہوتا اس لئے کہ جس طرح روس افغانستان میں ایک در انداز تھا بالکل اسی طرح امریکہ بھی افغانستان میں در انداز تھا اگر جہاد کو نصاب کا حصہ رکھا جاتا تو امریکہ کیلئے مشکلات پیدا ہو سکتی تھیں چنانچہ نصاب سے نہ صرف جہاد کو حذف کیا گیا بلکہ دوسری قرآنی تعلیمات کو بھی حذف کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی جب کہ بحیثیت مسلمان ہمیں قرآن کی تعلیمات سے اپنے بچوں اور بزرگوں کو آگاہ کرنا لازمی ہونا چاہئے۔ لیکن ہمارا تجربہ کچھ ذرا مختلف ہے گو ہم کے پی والوں کے ہاں ہر گاؤں میں قرآنی تعلیم نہ صرف مدرسوں اور مسجدوں میں دی جاتی ہے۔

بلکہ گاؤں میں بہت سے گھر ایسے ہوتے ہیں کہ جہاں ہماری مائیں بہنیں بچوں کو ناظرہ قرآن کی تعلیم دیتی ہیں مگر ایسا بھی دیکھا گیاہے کہ ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی ناظرہ قرآن پاک کا علم نہیں ہے ہم نے ایم ایس سی کے بعد بعض وجوہات کی بنا پر بی ایڈ میں داخلہ لیا گو ہم اس کو مکمل نہ کر سکے مگر داخلے کے دوران ایک تجربہ ہوا کہ انٹر ویو میں امیدواروں سے ناظرہ قرآن کا بھی ٹیسٹ لیا گیاہمارے ساتھ کا ایک امیدوار جو ایم ایس سی باٹنی تھا جب انٹر ویو دے کر باہر نکلا تو وہ رو رہا تھا ہم نے وجہ پوچھی تو کہا کہ مجھے ناظرہ قرآن پڑھنے کو کہا گیا تو مجھ سے پڑھا نہیں گیا ہم نے وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ ہمیں تو کسی نے قرآن پاک پڑھایا ہی نہیں ہے ہمیں حیرانی تو ہوئی اسلئے کہ ہم کو تو گھر میں اور مسجد میں باقاعدہ ناظرہ اور ترجمہ کے ساتھ قرآن پاک پڑھایا گیا تھااب بھی ہمارے گاؤں میں بچوں اور بچیوں کو باقاعدہ قرآنی تعلیم دی جاتی ہے مگر شاید یہ سہولت ہر گاؤں میں موجود نہ ہو جیسا کہ ہمارے ایک دوست کے ساتھ ہوا مگر عموماًکے پی کے ہر گاؤں میں یہ سہولت موجود ہے ہمارے سکولوں میں ہماری دفعہ تک تو پہلا پیریڈ ہمیشہ اسلامی علوم کیلئے وقف ہوتا تھا گو اسلامیات ہمارے وقتوں میں کوئی مضمون نہ تھا مگر ہمارے سکول قرآنی تعلیمات کا بندوبست رکھتے تھے اور اسلامیات کے استاد کو فنڈ سے تنخواہ دی جاتی تھی بعد میں اردو، اسلامیات اور پاکستان سٹڈی لازمی مضامین ہو گئے پھر بھی جو بڑی ضرورت ہے وہ قرآن کریم کی باقاعدہ تعلیم ہے۔

جس کیلئے ہماری کے پی حکومت نے آئندہ سال سے چھٹی تک قرآن پاک کی ناظرہ اور چھٹی سے دسویں تک با ترجمہ تعلیم کو لازمی قرار دیا ہے۔ اللہ کرے کہ اس پر عمل درآمد بھی ہو اور اساتذہ اور طلبا ء اس میں دلچسپی بھی لیںیہ ایک بہت ہی ضروری بات ہے کہ ہمارے بچوں کو سکول کی حد تک قرآن فہمی کی ضرورت کو پورا ہونا چاہئے ہمارا یہ ماننا ہے کہ ا س کام کااجر اللہ تعالیٰ ہماری حکومت کے کار پردازوں کو ضرور دے گاتا ہم اگلا سال تو حکومتوں کی تبدیلی کا ہے اللہ کرے کہ یہ کام جس کا بیڑا اس حکومت نے اٹھایا ہے اس کو جاری رہنا چاہئے اور حکومت جو بھی ہو اسکو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہمار ملک اسلامی جمہوریہ ہے اور اسے حقیقی معنوں میں اسلامی جمہوریہ بنایا جائے یہ حکومتوں کا کام ہے گو ہمارے ہاں ایک طبقہ دانشوروں کا ایسا پید اہو گیا ہے کہ جو مذہب بے زاری کو اپنا طرہ امتیاز بنانا چاہتا ہے تا ہم انشا اللہ ہماری کے پی کی حکومت جیسے لوگ اس ملک کو ملتے رہیں گے جو ملک کو حقیقی اسلامی جمہوریہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے اور یہ تب ہی ہو گا کہ ہمارے بچے قرآن کریم کو پڑھیں گے اور اس پر عمل کریں گے۔