بریکنگ نیوز
Home / کالم / پاکستان کی قسمت!

پاکستان کی قسمت!

اپریل 2016ء: قوم کو بتایا گیا کہ تھر میں کوئلے کے ذخائر پاکستان کی قسمت بدل دیں گے کیونکہ تھر میں دنیا کے سب سے بڑے کوئلے کے ذخائر موجود ہیں جن سے ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ تھر کوئلے کے ذخائر سے 1 لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکے گی 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر سے پاکستان 200 برس تک بجلی حاصل کرسکتا ہے یاد رہے کہ پاکستان میں بجلی پیدا کرنیکی موجودہ صلاحیت 23ہزار میگاواٹ ہے اور جب قوم کو یہ بتایا گیا کہ ایک لاکھ میگاواٹ بجلی صرف تھر کے کوئلے سے حاصل کی جاسکتی ہے تو امید کی کرن دکھائی دینے لگی ساتھ ہی قوم کو یہ بھی بتایا گیا کہ تھر کوئلے کے ذخائر کی مالیت ایران اور سعودی عرب میں پائے جانیوالے تیل کے مجموعی ذخائر سے زیادہ بنتی ہے! اگر تھر کے کوئلے سے بجلی پیدا کی جاتی تو یقیناًفی یونٹ بجلی کی قیمت نہایت ہی کم ہو سکتی تھی کیونکہ فرنس آئل کے مقابلے یہ ایندھن کا ذریعہ کم داموں میں حاصل ہوتا۔ فروری 2016ء: پاکستان نے قطر سے مائع گیس کی درآمد کا معاہدہ کیا اس معاہدے کے تحت پاکستان قطر سے 16 ارب ڈالر کی مائع گیس درآمد کرنے کا پابند ہوگا۔ قوم کو بتایا گیا کہ اس سے پاکستان کی قسمت بدل جائیگی اور اس سے نہ صرف سالانہ ایک ارب ڈالر کی بچت ہوگی بلکہ مائع گیس بجلی کے پیداواری منصوبوں میں استعمال کرنے سے پچیس فیصد بجلی کی کمی بھی ختم ہو جائیگی اس سے صنعتوں کیلئے درکار توانائی ملے گی روزگار بڑھے گا برآمدات بڑھیں گی اور سی این جی کی صنعت کو بھی ترقی ملے گی۔ یاد رہے کہ ’’آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ صوبہ پنجاب میں 70فیصد صنعتیں صرف اس لئے فعال نہیں کیونکہ ایل این جی کی قیمت زیادہ ہے۔ پنجاب کی صنعتوں کو گلہ ہے کہ سندھ میں کم داموں جبکہ پنجاب میں مہنگے داموں ایل این جی صنعتی صارفین کو فروخت کی جاتی ہے۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ایندھن کے دیگر ذرائع کے مقابلے ’ایل این جی‘ 75فیصد مہنگی ہوتی ہے۔جون 2015ء: قوم کو بتایا گیا کہ صوبہ بلوچستان میں ’سینڈک کاپر گولڈ پراجیکٹ‘ سے پاکستان کی قسمت بدل جائے گی۔ سینڈک میں 412ملین ٹن مائع دھاتیں پائی جاتی ہیں جس میں 0.5گرام فی ٹن کے تناسب سے سونا اور 1.5گرام فی ٹن کے تناسب سے چاندی ہے اس کے علاوہ 15ہزار 800 ٹن سالانہ کاپر جبکہ 1.5ٹن سونا اور سالانہ 2.8ٹن چاندی حاصل کی جاسکے گی اس منصوبے کو ایک چینی ادارے ’میٹل لورجیکل کارپوریشن‘ کو دیا گیا جس کے بارے میں تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ بلوچستان حکومت نے یہ منصوبہ اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔فروری 2015ء: قوم کو بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب کے علاقے راجیویہ‘ چنیوٹ میں دریافت ہونے والے خام لوہے کے ذخائر سے پاکستان کی قسمت بدل جائے گی یہ ذخائر 2ہزار ملین ٹن حجم جبکہ 2 لاکھ 40ہزار 975 ایکڑ (رقبے) میں پھیلے ہوئے ہیں یہ منصوبہ بھی چین ہی کے ’میٹل لورجیکل کارپوریشن‘ کو دیا گیا جس سے توقعات وابستہ کی گئیں کہ اِس سے اندازاً ایک لاکھ لوگوں کو روزگار ملے گا پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور یہاں ایسے کئی خزانے زمین یا پہاڑوں کے دامن میں چھپے ہوئے ہیں جنہیں کھوج نکالا جائے۔

تو پاکستان کی قسمت بدل سکتی ہے لیکن اپنے وسائل کو ترقی دینے کی بجائے حکومت کیلئے یہ بات زیادہ آسان ہوتی ہے کہ وہ قرض لے اور ملک چلائے قابل توجہ ہے کہ پاکستان کا کل قرض اُس دن 19 کھرب روپے ہوا جب چنیوٹ میں لوہے کے یہ ذخائر دریافت ہوئے جن کی مالیت 22 کھرب روپے بتائی گئی!جنوری 2015ء: قوم کو بتایا گیا کہ ریکوڈک (Reko Diq) میں 400 ارب ڈالر مالیت کے کاپر و سونے کے ذخائر ہیں جن سے پاکستان کی قسمت بدل جائے گی۔ تصور کیجئے کہ 5.9ارب ٹن کاپر کے ذخائر ہوں جن سے سالانہ 2لاکھ ٹن کاپر اور 2لاکھ پچاس ہزار ٹن سونا حاصل ہو تو کیا پاکستان کی قسمت نہیں بدل سکتی؟ لیکن بدقسمتی سے ریکوڈک کا معاملہ عالمی عدالت انصاف میں زیرسماعت ہے! پاکستان میں اگر کوئی چیز اس ملک کی قسمت بدل سکتی ہے تو وہ یہاں کے عوام ہیں۔ انسانی وسائل ہی پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ و سرمایہ ہیں اگر پاکستان کی قسمت میں تبدیلی لانی ہے تو تعلیم یافتہ صحت مند افرادی قوت پیدا کرنا ہوگی۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)