بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / ٹرمپ انتظامیہ اور پاکستان کا مؤقف

ٹرمپ انتظامیہ اور پاکستان کا مؤقف

خارجہ امور کیلئے وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ کے 45 ویں صدر کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نئی امریکی انتظامیہ کیساتھ آزادی ‘ جمہوریت‘ امن اور خوشحالی کے حوالے سے مشترکہ مقاصد کے حصول کیلئے مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے ۔ سرتاج عزیز خطے میں امن ‘ سلامتی اور استحکام کیلئے پاک امریکہ قریبی تعاون کو ناگزیر قرار دیتے ہیں عین اسی روز پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کے ساتھ بات چیت میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ مضبوط تعلقات کا خواہاں ہے وزیر خزانہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پاک امریکہ سٹرٹیجک تعلقات باہمی تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے وسیع مواقع موجود ہیں ادھر امریکہ میں نو منتخب صدر کے خلاف مظاہروں میں شدت ریکارڈ ہو رہی ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن میں ٹرمپ مخالف مارچ میں شریک خواتین کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ تھی ۔

احتجاج کا سلسلہ 300 شہروں سے بڑھتا ہوا آسٹریلیا اور دوسرے ممالک تک پھیل رہا ہے اس سے ہٹ کر امریکی صدر اپنے ملک میں کیا اصلاحات لا رہے ہیں کیونکہ یہ امریکہ کا اندرونی معاملہ ہے تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ارضی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے افغانستان اور بھارت کے حوالے سے پاکستان کے اصولی مؤقف کو سپورٹ کرے سرتاج عزیز خطے میں امن کیلئے پاک امریکہ تعاون کو ناگزیر قرار دیتے ہیں امریکہ صرف پاکستان سے ڈو مور کے مطالبے کرنے کی بجائے افغانستان میں امن استحکام اور لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو دیکھے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کا احساس کیا جائے بھارت کے ساتھ تصفیہ طلب امور بات چیت کے ذریعے طے کرنے کی پاکستانی خواہش اور کوششوں کو سمجھا جائے پاکستان کے خلاف کابل اور نئی دہلی سے جاری ہونے والے بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کا سلسلہ روکنے کے لئے رسوخ استعمال کیا جائے اس سب کے ساتھ پاک امریکہ باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جائے۔

ناکافی طبی سہولیات کا گلہ

عام حالات اور خصوصاً کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں قبائلی علاقوں اور خیبرپختونخوا کے دور دراز اضلاع سے طبی سہولیات کے ناکافی ہونے کا گلہ معمول کا حصہ چلا آ رہا ہے دوسری جانب صوبائی دارالحکومت اور دوسرے بڑے شہروں کے بڑے طبی مراکز میں رش کے باعث خدمات کا معیار ہر وقت تنقید کا نشانہ بنتا ہے مسئلے کا مستقل حل اسی صورت ممکن ہے جب علاج کی سہولیات کا نیٹ ورک تحصیل اور اضلاع کی سطح پر مضبوط ہو۔ اگر مقامی طور پر کسی بھی شہری کو اچھی اور معیاری خدمات میسر آ جائیں تو وہ کسی بھی صورت سفر کے اخراجات اور دیگر مشکلات برداشت کر کے بڑے شہروں کو نہیں آئے گا اس طرح بڑی علاج گاہوں سے متعلق شکایات بھی ختم ہوں گی اس مقصد کیلئے ایک ایسی پالیسی کی ضرورت ہے جس میں خدمات نہ صرف کتابوں میں فراہم ہوں بلکہ عملی طور پر نظر بھی آئیں اور ان پر کڑی نگرانی بھی یقینی بنائی جائے تاکہ اربوں روپے کے فنڈز سے بنایا گیا صحت سہولیات کا انفراسٹرکچر ضائع ہی نہ ہوتا چلا جائے۔