بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پانامہ کیس‘جس نے جو برا بھلا کہنا تھاکہہ دیا، اب فیصلے کا انتظار کریں،سپریم کورٹ

پانامہ کیس‘جس نے جو برا بھلا کہنا تھاکہہ دیا، اب فیصلے کا انتظار کریں،سپریم کورٹ

اسلام آباد۔سپریم کورٹ نے پانامالیکس کیس کی سماعت کے دوران آبزرویشن دی ہے کہ پوری حکومت پر الزام نہیں ، کیس کو چلنے دیں سارے لوگ اپنی کمنٹری خود تک رکھیں اور فیصلہ کا انتظار کریں۔ وزیر اعظم کے وکیل نے ثبوتوں کا ذکر ہی نہیں کیابس قانونی نکات کا انبار لگایا ۔جو ریکارڈ وزیر اعظم نے دینا تھا دے دیا جو نہیں دیا اس کا قانونی اثر کیاہے اس کوبھی دیکھا جائے گا، کسی کا بیان جھوٹا ثابت کرنے کیلئے اس کے مقابلے میں سچ سامنے لانا ہوتا ہے ، جب سچ سامنے آجاتا ہے تو جھوٹ خود بخود ثابت ہوجاتاہے۔جھوٹ کو جانچنے کیلئے عدالت کہاں تک جاسکتی ہے عدالت کو کچھ تو کرنا پڑے گااور کچھ اصول وضح کرنا پڑیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک سچ واضح نہیں ہوا جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ جس نے جو برا بھلا کہنا تھاکہہ دیا، سڑکوں پر جو ہونا تھا ہو چکا، اب فیصلے کا انتظار کریں ۔توفیق آصف نے ایک فیصلہ کی نظیر سامنے رکھی تو جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ بے ایمانی حلف کی خلاف ورزی ہے لیکن یہ ثابت کرنا ہوتاہے کہ بے ایمانی ہوئی بھی ہے یا نہیں۔جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس حکومت کی کارکردگی کے خلاف نہیں بلکہ ایک خاندان کے خلاف ہے۔توفیق آصف نے کہاکہ پوری حکومت پر الزام نہیں پھر بھی ساری حکومت پانامہ کادفاع کررہی ہے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت آج(منگل)تک ملتوی کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے وکیل کو ہدایت کی ہے کہ وہ آج ایک گھنٹے میں دلائل مکمل کرلیں۔پیر کو جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد ،جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل عدالت عظمی کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے پانامالیکس دستاویزات کی تحقیقات کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت کا آغاز کیا تو جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت کے سواالات سے میڈیا پر تاثر ملا جیسے عدالت فیصلہ کر چکی ہے اور میڈیا پر تضحیک کی گئی میڈیا کو عدالت ہدایت کرے کہ ذمہ داری کا ثبوت دے جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ ہم سوالات صرف سمجھنے کیلئے پوچھتے ہیں ، سوالات فیصلہ نہیں ہوتے ۔بتایا جائے کیا وزیرا عظم کی تقریر پارلیمانی کارروائی کا حصہ تھی ؟جماعت اسلامی کے وکیل نے جواب دیا کہ وزیر اعظم کی تقریر اسمبلی کے ایجنڈے کا حصہ نہیں تھی ۔ استحقاق آئین اور قانون کے مطابق ہی دیا جا سکتا ہے ۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ یہ کی دلیل ہے کہ نوز شریف کی تقریر پارلیمانی ایجنڈا کاحصہ نہیں تھی۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ منگل کو اسمبلی میں پرائیویٹ ممبر ڈے کی کارروائی ہوتی ہے جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیا کہ کیا سپیکر کے پاس اختیار نہیں کہ رولز معطل کر کے کوئی اور کارروائی کرے ؟ کیا سپیکر نے وزیر اعظم کی تقریر کی اجازت نہیں دی تھی ،جس پر توفیق آصف نے جوا ب دیا اگر وزیراعظم نے ذاتی وضاحت دینی تھی تو ایجنڈے میں شامل ہو نا ضروری تھا ۔ بینچ کے رکن جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا وزیر اعظم کی تقریر پر کسی رکن پارلیمان نے اعتراض کیا ؟ جماعت اسلامی کے وکیل نے موقف اپنا یا کہ اپوزیشن نے تقریر کے بعد واک آؤٹ کیا ۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دئیے توفیق آصف صاحب یہ بہت مزیدار آرٹیکل ہے آپ آرٹیکل 69پڑھیں ، اس پر دلائل دیں ۔

اس معاملے کو آرٹیکل 69مکمل کر رہا ہے ۔ وکیل نے کہا کہ وزیر اعظم کی تقریر آرٹیکل 69کے زمرے میں نہیں آتی ، وزیر اعظم کی تقریر ذاتی الزامات کے جواب میں تھی ۔جسٹس گلزار احمد نے سوال اٹھایا کہ کیا سپیکر نے اس تقریر کو حذف کیا،توفیق آصف نے جواب دیا کہ تقریر کو حذف نہیں کیا گیا یہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اگر قواعد کی خلاف ورزی ہوئی تو کیا آپ کے اراکین نے آواز اٹھائی تھی ؟ آپ کہنا چا ہ رہے ہیں کہ سپیکر کو وزیر اعظم کو تقریر کی اجازت دینا چاہئیے تھی۔جماعت اسلامی کے وکیل نے جواب دیا وزیر اعظم کی تقریر اسمبلی ریکارڈ کا حصہ ہے جو انہوں نے پیر کے روز کی ۔توفیق آصف نے پارلیمانی استحقاق سے متعلق آسٹریلوی دانشور کا آرٹیکل پیش کر دیا جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیا کہ کیا یہ کوئی بریگزیٹ کی دستاویز ہے جو ہمیں پیش کی گئی؟ انہوں نے سوال اٹھا یا کہ کیا جس دن گوشت کا ناغہ ہوتا ہے اس دن اسمبلی میں تقریر نہیں ہو سکتی؟ جماعت اسلامی کے وکیل نے جواب دیا کہ سپیکر منگل کے روز قواعد معطل کر سکتا ہے ۔تقریر اسمبلی کی کارروائی کا حصہ ضرور ہے مگر اسکو استحقاق حاصل نہیں ، وزیر اعظم کی تقریر ریکارڈ کا حصہ ہے ۔

جسٹس گلزارا حمد نے استفسار کیا کہ کیا وزیر اعظم کی تقریر ریکارڈ سے حذف کی گئی یا اس پر کسی نے اعتراض کیا ۔جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ ایگزیکٹو اتھارٹی کا معاملہ عدالت کے سامنے نہیں ہے ،اختیارات کی تثلیث(Trichotomy of power)کے نظام میں وزیراعظم قائد ایوان اور انتظامیہ کا سربراہ بھی ہوتا ہے،اس موقع پرجماعت اسلامی کے وکیل نے کہا کہ استحقاق کے معاملہ پر دنیا بھر کی عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں انہوں نے وزیر اعظم کی تقریر کا ریکارڈ سپیکر سے طلب کرنے اور وزیر اعظم کوبلانے کی استدعا کی جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیا عمران خان نے تقریر کا جو ٹرانسکرپٹ لگایا ہے وہ غلط ہے ؟بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ تقریر کے متن سے کسی فریق کا اختلاف نہیں تو وزیراعظم کو کیوں بلایاجائے ؟ ایڈوکیٹ توفیق آصف نے کہا سپیکر قومی اسمبلی سے وزیراعظم کی تقریر کا متن منگویا جائے کیونکہ ممکن ہے ترجمہ کرتے وقت کوئی غلطی ہو گئی ہوجس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم کی تقریر اردوزبان میں تھی ۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ کیا ہم یہاں شواہد ریکارڈ کررہے ہیں ؟ توفیق آصف نے استدعا دہراتے ہوئے کہا کہ عدالت چاہے تو شواہد ریکارڈ کر سکتی ہے ۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جماعت اسلامی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کی جمع کرائی ہوئی تقریر کو درست مان لیتے ہیں ۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم نے سپیکر کو جو دستاویزات دیں وہ منگوائی جائیں ، وزیر اعظم نے خود کہا تھا کہ دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی کیا جائے ۔ بینچ کے رکن جسٹس عظمت سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ اپنی پٹیشن کا خود دفاع کررہے ہیںآپ ایک نقطہ پیش کر رہے ہیں ، دوسرا واپس لے رہے ہیں جس پر جماعت اسلامی کے وکیل نے جواب دیا کہ وزیر اعظم نے منی ٹریل اب تک نہیں دی ۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ لگ رہا ہے کہ یہ کہہ کر کہ ریکارڈ منگوا لیا جائے آپ جان بوجھ کر سماعت ملتوی کروانا چاہتے ہیں ۔توفیق آصف نے کہاکہ وزیر اعظم نے تقریر میں کہاکہ” تلنا ہے تو سب کو ایک ہی ترازو میں تلو” جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ دل کی بات زبان پر آگئی،جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ درست لفظ ”تلنا” ہے جس پر عدالت میں قہقہ گونجا ۔توفیق آصف نے کہا کہوزیر اعظم نے اسمبلی میں تقریر کے دوران اپنا حق استثنی سرنڈر کردیا تھا لیکن عدالت میں استثنی اوراستحقاق مانگا جارہاہے،انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کہا یہ ان کی فیملی کے معاملات ہیں ۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ایک طرف آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ وزیراعظم کا ذاتی معاملہ ہے اگر ایسا ہے تو پھریہ کیس آرٹیکل 184(3)کے تحت کیسے سنا جاسکتاہے ۔ توفیق آصف نے اونچی آواز میں دلائل دینا شروع کئے تو جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اونچی آواز سے دلائل دینے سے دلیل میں جان نہیں پڑتی۔توفیق آصف ایڈووکیٹ نے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر کیس کا اہم ثبوت ہے،جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کیا ہم یہاں شواہد ریکارڈ کر رہے ہیں،توفیق آصف نے کہا کہ عدالت چاہے تو شواہد ریکارڈ کر سکتی ہے،جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ ہم آپ کی جمع کروائی ہوئی وزیراعظم کی تقریر کو درست مان لیتے ہیں،لیکن وزیراعظم کے وکیل نے ثبوتوں کا ذکر ہی نہیں کیا، قانونی نکات کا انبار لگا دیا،جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ لگتا ہے باتیں دہرا کر آپ سماعت میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں،آپ عدالت سے کم اور میڈیا سے زیادہ مخاطب لگتے ہیں، جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ آپ چاہے جتنے دلائل دیں، ہم خاموشی سے سنیں گے، جماعت اسلامی کے وکیل نے وزیراعظم کی تقریر کے چند نکات پڑھے تو جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ آپ بتائیں کہ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں کیا چھپایا ہے؟ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ وزیراعظم نے دبئی فیکٹری کے افتتاح کی تصویر اپنی تقریر میں پیش کی،توفیق آصف نے کہاکہ وزیراعظم کے دفاع کے لیے وزرا عدالت آ رہے ہیں، حکومتی مشینری کیس کا دفاع کر رہی ہے، جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ میں سمجھتا ہوں عدالت کے باہر جو کچھ کہا جا چکا بہت ہے، اب سب لوگ انتظار کریں، جس نے جو برا بھلا کہنا تھاکہہ دیا، سڑکوں پر جو ہونا تھا ہو چکا، اب فیصلے کا انتظار کریں، توفیق آصف نے کہا کہ یہ کیس حکومت کی کارکردگی کے خلاف نہیں بلکہ ایک خاندان کے خلاف ہے۔توفیق آصف نے کہاکہ پوری حکومت پر الزام نہیں پھر بھی ساری حکومت پانامہ کادفاع کررہی ہے۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ کیس کو چلنے دیں، سب انتظار کریں۔ سارے لوگ اپنی کمنٹری خود تک رکھیں اور فیصلہ کا انتظار کریں۔اس موقع پرجسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ جو ریکارڈ وزیر اعظم نے دینا تھا دے دیا جو نہیں دیا اس کا قانونی اثر کیاہے اسکو ہم دیکھیں گے۔جماعت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم پہلے کہتے تھے کہ ہر چیز کلیئر کرنا چاہتا ہوں ۔عدالت آنے کے بعد سب کچھ بدل گیا ۔ وزیرا عظم نے اپنا کیس وکیل سمیت بچوں سے الگ کر دیا ۔ دستاویزات پیش کرنے کی بجائے استحقاق کے پیچھے چھپ رہے ہیں ۔ بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا آپ عدالت کو بتا دیں کہ وزیراعظم نے کیا کیا چھپایا تو انہوں نے جواب دیا کہ وزیراعظم نے تقریر میں منی ٹریل پیش نہیں کی ۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وزیر اعظم کے وکیل نے کہا کہ فلیٹ نوازشریف کے نہیں ، اس لیے منی ٹریل نہیں دے سکتے تو جماعت اسلامی کے وکیل نے کہا وزیراعظم نے کروڑوں کے تحائف لیے اور دیئے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ وزیر اعظم کے وکیل نے ثبوتوں کا ذکر ہی نہیں کیا، قانونی نکات کا انبار لگایا ۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے اپنے ریمارکس میں کہا لگتا ہے کہ باتیں دہرا کر آپ سماعت میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں ، ۔ اس موقع پر عدالتی سماعت میں وقفہ کردیا گیا وقفہ کے بعد سماعت کا آغاز ہوا توجماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ پارلے منٹ میں نواز شریف نے جھوٹ بولا،جس سے پارلیمانی تقدس سے متعلق سپریم کورٹ کے کئی فیصلے موجود ہیں، جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ کسی کا بیان جھوٹا ثابت کرنے کیلئے اس کے مقابلے میں سچ سامنے لانا ہوتا ہے ، جب سچ سامنے آجاتا ہے تو جھوٹ خود بخود ثابت ہوجاتاہے۔

جھوٹ کو جانچنے کیلئے عدالت کہاں تک جاسکتی ہے عدالت کو کچھ تو کرنا پڑے گااور کچھ اصول وضح کرنا پڑیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک سچ واضح نہیں ہوا،توفیق آصف نے ایک فیصلہ کی نظیر سامنے رکھی تو جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ بے ایمانی حلف کی خلاف ورزی ہے لیکن یہ ثابت کرنا ہوتاہے کہ بے ایمانی ہوئی بھی ہے یا نہیں اس کام کیلئے انکوائری کرنا پڑتی ہے ۔ اگر کسی نے غلط بیانی کی ہے تو ہم نے قانون کے مطابق طے کرنا ہے، جسٹس شیخ عظمت نے کہاکہ جب حقیقت کا ہی پتہ نہیں چلا تو پھر جھوٹ کا تعین کیسے ہو گا، وکیل جماعت اسلامی کی جانب سے رضوان گل جعلی ڈگری کیس کا حوالہ بھی دیا گیاوہ مقدمہ الیکشن ٹریبونل سے شروع ہوا تھا سپریم کورٹ سے نہیں، تحقیقات کے بعد عدالت نے کیس کا فیصلہ کیا، توفیق آصف نے کہاکہ وزیراعظم نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے، اورمیں عدالت کے دائرہ اختیار پر دلائل دوں گا، جسٹس گلزار نے کہاکہ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار پر کسی نے اعتراض نہیں کیا، جسٹس عظمت سعید نے کہا اس مقدمہ میں ہم یہ قرار دے چکے ہیں کہ آرٹیکل 184/3 کے تحت سن سکتے ہیں، جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ شریف خاندان کہتا ہے کہ کاروبار میاں شریف کا تھا اس سے وزیراعظم کا تعلق ثابت کریں، جسٹس گلزارکا کہنا تھاکہ دو ہزار چار میں میاں محمد شریف کی وفات سے قبل تک وہی بزنس دیکھتے رہے، وزیراعظم کا تعلق کیسے بنتا ہے؟

توفیق آصف نے کہاکہ دبئی مل کا کوئی ریکارڈ نہیں دیا گیا،جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ دبئی مل کا کچھ نہ کچھ ریکارڈ موجود ہے،ریکارڈ سچا ہے یا جھوٹا؟ کچھ تو ہے،جسٹس گلزر نے استفسار کیا کہ کون سا ایسا ریکارڈ ہے جو نواز شریف نے جمع نہیں کرایا، توفیق آصف نے جواب دیا کہ دبئی مل طارق شفیع کے نام ہے،، دبئی فیکٹری کی کوئی بنک ٹرانسیکشن نہیں ہے،رقم دبئی سے جدہ جانے کا بھی ریکارڈ نہیں ہے،اس موقع پر جسٹس آصف کھوسہ نے وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان سے استفسار کیا کہ کیا جماعت اسلامی کی درخواست پر وزیراعظم نے آپ کو کوئی ہدائت دی ہے، مخدوم علی خان کا کہنا تھاکہ وزیراعظم بیرون ملک ہیں، آج واپس آئیں گے، جس پر عدالت نے ہدایت کی کہ وزیراعظم کی طرف سے جتنا جلدی ہو جماعت اسلامی کی درخواست پر جواب جمع کرائیں،جسٹس اعجازلاحسن نے سوال اٹھایا کہ نواز شریف کا موقف ہے کہ ان کا نام پانامہ کیس میں کسی جگہ نہیں، پھر آپ نواز شریف پر کیسے پانامہ پیپرز کی ذمہ داری ڈال سکتے ہیں؟ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ میاں محمد شریف کے انتقال کے بعد ان کے بچوں کو وراثت میں کیا ملا اس کی تفصیل بتائیں، جسٹس عظمت سعید نے سوال کیا کہ اگر آپ کے خیال میں طارق شفیع کا بیان حلفی جعلی ہے تو پھر اصل کہاں ہے؟ توفیق آصف نے کہاکہ بیان حلفی جمع کرانا میری ڈیوٹی نہیں ہے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ تو بتائیں کہ سپریم کورٹ انکوائری کا کون سا طریقہ اپنائے؟ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ ہمارے سوالات کا جواب دیں توفیق صاحب، وکیل جماعت اسلامی نے کہاکہ میں ایک وقت میں ایک ہی سوال کا جواب دے سکتا ہوں، جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ پانچ رکنی بنچ کے سامنے پیش ہوئے ہیں، سوالات اسی طرح ہوں گے، آپ ہمارے سوالوں کا جواب نہیں دیتے، جماعت اسلامی کا کہنا تھاکہ ایک وقت میں ایک سوال ہو تو جواب دوں،ٹثبوت اسی نے دینا ہے جس پر الزام ہے وزیراعظم نے خود کہا کہ ثبوت ہیں لیکن نہیں دیے، وزیراعظم خود عدالت میں پیش ہو کر وضاحت کر دیں اور قوم کو اس امتحان سے نکالیں،ان کا کہنا تھاکہ حضرت عمر نے کرتے کے سوال پر استثنی نہیں مانگا، ہاں روز وزیر اعظم استثنی مانگ رھے ہیں۔یوسف رضاگیلانی کو بھی سپریم کورٹ نے نااہل کیا،جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ این آر او کیس میں فیصلہ آیا تو عملدرآمد نہ ہونے پر توہین عدالت کا نوٹس ہوا۔

اورعدالتی فیصلے پر عمل نہ کرنے پر گیلانی کو توہین عدالت کا مجرم قراردیا گیا۔عظمت سعید نے کہاکہ نااہل کرنے سے پہلے یوسف رضا گیلانی کے خلاف عدالتی فیصلہ موجود تھا۔توفیق آصف نے کہاکہ آرٹیکل 19 اے کے تحت سچ جاننا عوام کا حق ھے۔جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ کیا کسی خاندان کی زندگی کے بارے میں آرٹیکل 19اے لگایا جا سکتا ھے۔کیا آپ پر آرٹیکل 19اے کا اطلاق ھو سکتا ھے۔ان سوالات کے جواب میں توفیق آصف نے کہا کہ وزیر اعظم عوامی عہدہ رکھتے ہیں جبکہ یہ ان کا ذاتی معاملہ تھا۔ایان علی دربدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہے، عتیقہ اوڈو اور ایان علی کو قومی اسمبلی تک رسائی ممکن نہیں،جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ طے کر لیں آپ ایان علی کے وکیل ہیں یا عتیقہ اوڈھو کے۔آپ دل کی بات زبان پر لے آئے ہیں۔جسٹس عظمت سعیدکے ان ریمارکس پرعدالت میں قہقہ گونج اٹھا،اس موقع پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ آپ ہمیں مطمئن کریں کہ وزیراعظم نے کاغذات نامزدگی میں کیا چھپایا، آپ نے اپنے مقدمے میں غلط روٹ اپنایا ہوا ہے، وکیل جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ میں عدالت کی معاونت کی کوشش کر رہا ہوں، جسٹس گلزار احمد نے استفسارکیا کہ کیاحدیبیہ پیپر ملز پاکستان میں تھی؟ مل پاکستان میں تھی تو التوفیق کیس لندن میں دائر کیوں ہوا؟ جس پرجماعت اسلامی کے وکیل نے کہا کہ التوفیق کیس بارے شریف فیملی خود بتاسکتی ہے۔

جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ آپ کا نام توفیق ہے کیا التوفیق آپ کا بینک تو نہیں؟ جسٹس عظمت سعید کے ان ریمارکس پر ایک بار پھرعدالت میں قہقہے ونج اٹھے، وکی جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ میں تو غریب آدمی ہوں میرا بینک کہاں،جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیاکہ کیا آپ اپنی گزارشات پر ہم سے(فیصلہ)ڈیکلریشن چاہتے ہیں،جس پر جماعت کے وکیل کا کہنا تھا کہ بالکل چاہتا ہوں کیونکہ وزیراعظم نواز شریف کے دونوں بیانات میں تضاد ہے، قطری خط نواز شریف کے بچوں نے پیش کیا،ا ور پارلیمنٹ میں نواز شریف نے اپنا اور اپنے خاندان کا دفاع کیا،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ یہ س باتیں ہوچکی ہیں کہ آف شور کمپنیوں سے متعلق بار ثبوت شریف خاندان پر ہے،عدالتی وقت ختم ہوا تو استفسار پر جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ مزید ایک گھنٹے میں اپنے دلائل مکمل کرلیں گے، جس پر عدالت نے انہیں آج ایک گھنٹے میں دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت آج تک ملتوی کردی۔ دوران سماعت کمرہ عدالت میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان ، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد ، نعیم بخاری ، فواد چودھری ، نعیم الحق اور لیگی رہنما بھی موجودتھے ۔