بریکنگ نیوز
Home / کالم / نازیباکلمات

نازیباکلمات


سندھ اسمبلی کے فلور پر گزشتہ جمعہ کے دن ایک خاتون رکن اور ایک وزیر صاحب کے درمیان نازیبا الفاظ کا جو تبادلہ ہوا اس سے سندھ اسمبلی کے تمام اراکین کا سر شرم سے جھک جانا چاہئے انگریزی زبان میں اگر وزیر صاحب ان کے سوال کا جواب دینے میں مشکل محسوس کر رہے تھے تو خاتون رکن اسمبلی کو انکی نقل اتار کر وزیر صاحب کی تضحیک نہیں کرنی چاہئے تھی پر ان سے بھی زیادہ سنگین لغزش وزیر موصوف امداد پتافی سے سرزد ہوئی کہ جب انہوں نے خاتون رکن اسمبلی کو مخاطب ہو کر اخلاق سے گرے ہوئے الفاظ استعمال کئے ہمارا گلہ سندھ اسمبلی کی سپیکر سے بھی ہے کہ اس معاملے میں انکا رویہ نہایت نرم رہا ہماری اسمبلیوں کے اراکین ماضی میں آپس میں مشت و گریبان ہوتے آئے ہیں ایک دوسرے کے کپڑے پھاڑنے اور ایک دوسرے کیخلاف کرسیاں استعمال کرنے میں وہ کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے اگلے روز سندھ کے وزیر با تدبیرنے تو حد ہی کر دی ان کا فعل ناقابل معافی ہے سندھ کے وزیر موصوف نے اخلاق سے گرے ہوئے جو الفاظ استعمال کئے وہ دنیا بھر نے ٹیلی ویژن سکرین پر دیکھے اور سنے کیا تاثر لیا ہوگا نئی نسل نے ان الفاظ سے ؟ یہ ہمارے وزیر قوم کو کس قسم کا پیغام دے رہے ہیں؟ اس قسم کی حرکات سے تو پی پی پی کی عزت کی جو رہی سہی کسر سندھ میں رہ گئی ہے وہ بھی پی پی پی کے بعض لوگ پوری کر دیں گے؟

یہ کام ہر سیاسی پارٹی کی ٹاپ لیڈر شپ کا ہوتا ہے کہ وہ گاہے گاہے اپنی پارٹی کے تمام کیڈرز کی سیاسی تربیت کرنے کیلئے سیمینار اور ورکشاپس منعقد کیا کرے کہ جن میں انکو اخلاقیات کی بنیادی تربیت دی جائے ہم دیکھ رہے ہیں کہ پبلک ڈیبیٹ کا معیار دن بہ دن پست ہو رہا ہے گر رہا ہے ہماری اسمبلیوں میں اب میاں ممتاز خان دولتانہ ‘ عبدالولی خان ‘مفتی محمود ‘معراج خالد ‘خان عبدالقیوم خان ‘ سردار شوکت حیات ‘ پروفیسر غفور وغیرہ جیسے شائستہ مزاج اور اچھی گفتار کے لوگ ناپید ہیں ان میں اکثریت کی تقاریر عامیانہ ہوتی ہیں دشنام طرازی ان کا طرہ امتیاز ہے وہ عوام کو اب جوڑتے نہیں توڑتے ہیں خلیج کو کم کرنے کے بجائے اب وہ اس میں مزید دراڑ پیدا کرتے ہیں تلوار کا گھاؤ تو مندمل ہو جاتا ہے پر زبان سے لگا ہوا زخم ہمیشہ ہرا رہتا ہے یہ بھی ازحد ضروری ہے کہ اسمبلیوں کے ٹکٹ تقسیم کرتے وقت ہر سیاسی پارٹی کی لیڈر شپ ہر امیدوار کے کوائف کا عقابی نظر سے تجزیہ کر ے کہ اسکا اخلاق کیسا ہے اس کی گفتار کیسی ہے اسکی تعلیم کیا ہے۔

اس کا لوگوں کے ساتھ لین دین کس قسم کا ہے اس کا کیا کوئی کریمنل ریکارڈ تو نہیں اسمبلیوں میں اگر کسی پارٹی کے اراکین کی کارکردگی اچھی ہوگی تو عوام میں اس پارٹی کا امیج اچھا ہوگا برطانیہ کے بہترین لوگ نہایت پڑھے لکھے اور اچھے اوصاف کے مالک کہ جنہیں عرف عام میں کریم کہتے ہیں ہاؤس آف کامنز کے رکن بنتے ہیں اب تو اس ملک میں یہ ہو رہا ہے کہ پارٹی لیڈر شپ اسمبلیوں کے ٹکٹ تقسیم کرتے وقت اس بات کو زیادہ مد نظر رکھتی ہے کہ کس نے پارٹی فنڈ میں سب سے زیادہ رقم جمع کرائی ہے ہم نے تو اپنے اراکین اسمبلی کو پی ڈبلیو ڈی کا ٹھیکیدار بنا دیا ہے ہر سال ہر رکن کو کروڑوں روپے کا فنڈ دیا جاتا ہے پانچ برس میں وہ اچھی خاصی رقم بنا لیتے ہیں یہ پیسہ رکن اسمبلی بننے کیلئے بڑی کشش ہے اراکین اسمبلی کے رولز آف بزنس میں انقلابی تبدیلیاں لانی ہونگی اراکین کو صرف اور صرف قانون سازی کرنے تک محدود کرنا ہوگا سرکاری اہلکاروں کی پوسٹنگ ٹرانسفر میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ہونا چاہئے اور نہ تھانہ کچہری کے معاملات میں ان کو دخل اندازی کی اجازت ہو۔