بریکنگ نیوز
Home / کالم / سردی کی ڈپریشن

سردی کی ڈپریشن


اس دفعہ سردی دیر سے آئی دیر سویر اپنی جگہ لیکن میرے لئے اس دفعہ بھی مایوسی کی ایک لہر لیکر آئی پچھلے ہفتے میں کلینک ختم کرکے نکل ہی رہا تھا کہ ایمرجنسی سے کال آگئی وہاں گیا تو ایک نوجوان لڑکی درد سے کراہ رہی تھی سلمیٰ کی عمر بمشکل بیس بائیس برس تھی اور کافی ہمت والی تھی تاہم درد اسکے چہرے سے عیاں تھا ہوا یہ کہ رات کو کمرے میں گیس کا ہیٹر لگا کر سوئی رات کو کسی وقت گیس بند ہوگئی صبح اُٹھی تو ہیٹر بند تھا ادھ کھلی آنکھوں سے ماچس جلاکر ہیٹر کے قریب کیا ہی تھا کہ کمرے میں جمع ہونیوالی گیس بھڑک اٹھی اور اسکے چہرے اور ہاتھوں کو جھلساگئی۔

سلمیٰ کے قریب اسکا شوہر کھڑا تھا اور روتے ہوئے بولا کہ آج ہماری شادی کا پانچواں دن ہے اور واقعی میں نے غور کیا تو سلمیٰ کے ہاتھوں کی مہندی جلی ہوئی جلد کیساتھ اکھڑ رہی تھی میں نے ابتدائی طبی امداد کیلئے داخل کیا اگلے دن کے آپریشن لسٹ پر ڈالا اور واضح کیا کہ شاید میں سلمیٰ کو اسکا جلنے سے قبل والا چہرہ نہ دے سکوں اور چند نشان رہ جائیں لیکن اتنا ہوگا کہ ہمارے علاج کے بغیر اسکے داغ بہت ہی بد نما ہونگے اگلے دن جنرل انستھیزیا میں سرجری ہوئی اسکے دونوں ہاتھوں کو پٹی میں باندھا اور چہرے کو صاف کرکے اس پر مخصوص مرہم لگائے شام کو رخصت ہوتے ہوتے سلمیٰ کا بل ایک لاکھ سے بڑھ چکا تھا اور ابھی اسکے آپریشن تھیٹر کی یاترا ختم نہیں ہوئی شاید چند ماہ بعد چہرے پر رہنے والے داغوں کیلئے بھی سرجری کرنی پڑے داغ رہیں یا نہ رہیں، یہ شعلے سلمیٰ کو کئی سال نیند سے جگاتے رہیں گے وہ لوگ جو آگ کے شعلوں میں جل جاتے ہیں وہ کم از کم تین سال تک ٹی وی کی سکرین پر بھی شعلے نہیں دیکھ سکتے رات کو ڈراؤنے خواب تو پانچ سات سال تک باقاعدہ دیکھے جاتے ہیں میں نے بہت سے خودکشی کے کیس دیکھے ہیں جو لوگ سنجیدگی سے خود کشی کی کوشش کرتے ہیں اگر وہ ناکام ہوجائیں تو دوبارہ ضرور کوشش کرتے ہیں تاہم اپنے آپ کو آگ لگاکر خودکشی کی کوشش کرنے والے کبھی دوبارہ خودکشی کی کوشش نہیں کرتے۔

ہر سال سردی آتی ہے تو میں اپنے دوستوں اور احباب کو نصیحتیں شروع کردیتا ہوں میری پہلی گزارش ہوتی ہے کہ خدارا اپنے کمروں میں گیس کے ہیٹر نہ لگائیں بلکہ گیس کا کنکشن ہی کاٹ لیں سردی سے بچنے کیلئے گرم کپڑے پہنیں ، دو دو لحاف اوڑھیں کپڑوں کے نیچے دراز پہنیں موٹی جرابیں اور دستانے پہن لیں لیکن گیس کو اپنے کمرے میں گھسنے نہ دیں بجلی کے ہیٹر بھی خطرناک ثابت ہوتے ہیں دوسرے ذرائع میں سے سنٹرل ہیٹنگ سب سے زیادہ محفوظ اور چلانے میں سستی ہے اس میں گرم پانی ان ہیٹروں میں سے گزرتا ہے اور ہوا گرم ہوکر اوپر اٹھتی ہے جس سے کمرہ اور پورا گھر گرم ہوسکتا ہے اس طریقے میں ننگا شعلہ کہیں بھی سامنے نہیں ہوتایہی طریقہ مہذب ملکوں میں جہاں بہت سخت سردی پڑتی ہے استعمال ہوتا ہے اور اس سے کوئی حادثہ نہیں ہوتا۔

سردی میں گھروں میں کچن کا کام بھی بڑھ جاتا ہے کہ گھر والے گرم گرم پکوڑے اور پکوان، گرم چائے وغیرہ چاہتے ہیں اسلئے کچن کا دروازہ کھلتا اور بند ہوتا رہتا ہے اسی کچن میں لڑکیوں اور خواتین کا دوپٹہ ان کیلئے موت کا پھندہ بن جاتا ہے ہوتا یوں ہے کہ چولہے پر سے برتن اتارا اور پلٹ کر دوسری طرف مڑیں پیچھے سے دوپٹہ لہرایا اور جلتے چولہے سے آگ پکڑ لی بے چاری کو پتہ تب چلتا ہے کہ جب آدھی کمر جل چکی ہوتی ہے اس دوپٹے کی ماری ہوئی ایک دو لڑکیا ں ہر ہفتے میری قسمت میں ہوتی ہیں اسی دوپٹے کو کچن میں سر کے گرد بھی لپیٹا جاسکتا ہے اور یا کچن کیلئے ایک خاص ٹوپی بھی پہنی جاسکتی ہے لمبے آستینوں والے اور لہراتے دامنوں والے کپڑے بھی اسی طرح خطرناک ہیں۔
جوان لڑکیوں کے علاوہ بچوں کو بھی کچن سے سخت خطرہ رہتا ہے کہ امی کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کس وقت بچہ پیچھا کرتا ہوا امی کے پیچھے کھڑا ہوا اور ہاتھ بڑھا کر اسکی ٹانگوں کو گلے لگایا امی اچھلی اور ہاتھ میں پکڑی فرائی پان سے ابلتے ہوئے تیل کو بچے پر گرادیا اسلئے بچوں کو ہر صورت باورچی خانے سے باہر ہی رکھنا چاہئے خواہ اس کیلئے دروازے میں آٹو میٹک ڈور کلوزر لگانا پڑے یا اس میں آٹومیٹک تالہ جو اتنی اونچائی پر ہو کہ صرف بڑے لوگ ہی کھول سکیں سردیوں میں گیزر بھی زیادہ ٹمپریچر پر رکھے جاتے ہیں اور بچوں کو ہمیشہ خطرہ ہوتا ہے کہ غسل خانے میں جاکر صرف گرم پانی والا نلکا کھول لیں انجام صاف ظاہر ہے میرے پاس کافی بچے گرم پانی سے جل کر موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا آتے ہیں جب گھر میں کپڑے دھونے والی آتی ہے یا گھر والے کپڑے دھونے کا دن مناتے ہیں عموماً منظر یہ ہوتا ہے کہ صحن میں ایک بڑے برتن میں پانی ابل رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف خاتون کپڑے دھونے کیلئے تیاری کررہی ہوتی ہے بچے صحن میں کھیل رہے ہوتے ہیں ایک بچہ پیچھے چلتے ہوئے انجانے میں اسی ابلے ہوئے پانی کی کڑاہی میں گر جاتا ہے اس کالم میں میں آپکو تصاویر نہیں دکھا سکتا ورنہ آپ خود ہی دیکھ لیتے کہ بچے کی ساری عمر کیسے ایک روگ بن جاتی ہے۔

اس صورت حال سے بچنے کی بہت آسان صورت ہے پہلے تو آج کل کے واشنگ پاؤڈر سے کپڑے دھونے کیلئے ابلے ہوئے پانی کی ضرورت ہی نہیں ہوتی نیم گرم یا ٹھنڈا پانی بھی ویسے ہی کارآمد ثابت ہوتا ہے جیسے کہ ابلا ہوا پانی۔ اسلئے پہلے تو پانی ابالنے کی ضرورت نہیں پھر گرم کرنا ہی ہو تو صحن میں ایک محفوظ مقام پرکڑاہی رکھیں اور اسکے گرد دو تین چارپائیاں کھڑی کردیں تاکہ بچوں کی دسترس سے باہر رہے۔یاد رہے کہ جھلسنے والے مریضوں کیلئے پورے صوبے میں کوئی ڈھنگ کا برن وارڈ نہیں عموماً سرکاری ہسپتالوں سے اسلام آباد یا کھاریاں بھیجا جاتا ہے جہاں بستر ملنا محال ہوتا ہے بفرض محال داخل ہوبھی جائے تو پشاور کے مہنگے ترین ہسپتال سے بھی زیادہ خرچ آتا ہے بدقسمتی سے زیادہ تر ان برن وارڈوں میں کوئی ماہر ڈاکٹر بھی نہیں نہ صرف جھلسنے کے علاج کا خرچہ بھی بہت ہے مریض کو بار بار آپریشن تھیٹر کی یاترا بھی کرنا پڑتی ہے، درد ناقابل برداشت ہوتا ہے اور عمر بھر کے داغ الگ سے رہ جاتے ہیں کئی لڑکیاں جنکا میں نے انکے بچپن میں علاج کیا ہوتا ہے ، بڑی ہوکر میرے پاس روتے ہوئے آتی ہیں اور کہتی ہیں ’ڈاکٹر صاحب ، آپ نے اس چہرے کے ساتھ مجھے کیوں بچایا ان داغوں کے ساتھ تو میں نہ جی سکتی ہوں اور نہ خودکشی کا حوصلہ ہے معاشرہ مجھے قبول کرنے سے انکاری ہے‘۔خدا را۔ تھوڑے سے حفاظتی اقدامات سے اپنی جان بھی بچائیے اور ناقابل برداشت اخراجات سے بھی بچیں پوری زندگی جھلسنے کے داغوں سے بھی محفوظ رہیں اور مجھے بھی یاسیت میں مبتلا نہ ہونے دیں میرے پاس ایک جھلسا ہوا مریض داخل ہوتا ہے تو میں کم از کم دو ہفتے ڈپریشن کا شکار رہتا ہوں۔