بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / اے پی سی کا ایجنڈا

اے پی سی کا ایجنڈا

عوامی نیشنل پارٹی نے فوجی عدالتوں کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ وفاقی حکومت کی جانب سے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے متعلق سیاسی قیادت کے تحفظات اور خدشات دور کرنے کیلئے اے پی سی کا عندیہ دیاجا چکا ہے وزیراعظم نوازشریف قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے حوالے سے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کر چکے ہیں یہ سب باتیں مشاورت کی اچھی روایت کی عکاس ہیں اس سے قبل بھی سیاسی قیادت مختلف اہم امور پر باہمی مشورے سے فیصلے کر چکی ہے جن کے نتائج بھی مثبت اور بہتری کی صورت سامنے آئے ہیں۔ جمہوری معاشرے میں سیاسی قیادت کا سر جوڑنا اور تصفیہ طلب امور پر کھلے دل کے ساتھ ایک دوسرے کے موقف کو سننے کے بعد انہیں یکسو کرنااس بات کا متقاضی ہے کہ اس میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے اس تاخیر ہی میں ہر طرف سے آنے والے بیانات صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے چلے جاتے ہیں اور بات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ جاتی ہے ۔

اب جبکہ سیاسی قیادت کے مل بیٹھنے کے امکانات موجود ہیں تو بہتر یہی ہے کہ اس ملاقات کے ایجنڈے کو وسعت دے دی جائے ۔ اس میں سی پیک اور فوجی عدالتوں کیساتھ توانائی بحران ‘ آبی ذخائر‘ معیشت کی بحالی کیلئے مرکز اور صوبوں کی سطح پر مربوط حکمت عملی پر بھی بات ہو سکتی ہے اس قومی سطح کی کانفرنس میں اقتصادی صورتحال کے تناظر میں مہنگائی کے خاتمے کے لئے اقدامات بھی تجویز ہو سکتے ہیں صوبوں اور مرکز کے درمیان این ایف سی ایوارڈ سے متعلق امور طے پا سکتے ہیں اس ضمن میں خیبر پختونخوا حکومت صوبوں کے حصے میں ممکنہ کٹوتی کے خلاف پہلے ہی سندھ اور بلوچستان کے ساتھ رابطوں میں ہے سیاسی قیادت بیورو کریسی میں اصلاحات اور مشرف دور میں سمیٹے گئے مجسٹریٹی نظام کی بحالی پر بھی مشاورت سے فیصلہ کر لے تو کم از کم گرانی کی چکی میں پسنے والے شہریوں کو ریلیف مل سکے گی ایسی حکمت عملی پر بھی غور ہو جو غریب اور متوسط طبقے کو تعلیم اور علاج کے ساتھ بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنا سکے۔ تمام تر سیاسی و اصولی اختلافات کے باوجود عوامی ریلیف پر سیاسی قیادت میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی ضرورت صرف عملی اقدامات کی ہے ۔

نہروں کی صفائی

آبپاشی کے ذمہ دار محکمے کیلئے نہروں کی صفائی ایک اہم پراجیکٹ ہی ہوتا ہے صوبائی دارالحکومت میں اس کی اہمیت اس لئے زیادہ ہے کہ انتہائی آلودگی کے شکار اس شہر میں سیوریج کی لائنیں نہر میں آکر گرتی ہیں اس پر کبھی کبھار ایک سرکاری چٹھی نہروں کے قریب رہائشی لوگوں کو ارسال بھی ہوتی ہے جس میں ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ سیوریج کا بندوبست کریں نہروں کی صفائی میں ملبے کا دیر تک پڑا رہنا اور اس سے ماحول کا متاثر ہوناعام شکایت رہی ہے یہی ملبہ کناروں سے دوبارہ نہر میں گرتا بھی ہے ملبہ اٹھانے والی گاڑیوں سے شہر کی سڑکوں سے گذرتے ہوئے جو مٹی گرتی ہے وہ خشک ہو کر پورے شہر کو متاثر کرتی ہے کیا ہی بہتر ہو کہ اس سال جدید مشینری کے استعمال کے ساتھ نہروں کی صفائی سے متعلق شکایات کا ازالہ کیا جائے اور سیوریج لائنوں سے متعلق بھی ذمہ دار اداروں کے ساتھ مل کر حکمت عملی طے کر لی جائے تاکہ آلودہ ماحول مزید آلودہ نہ ہو۔