بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / شریف خاندان آئی سی آئی جے اور بی بی سی کے خلاف کیس کریں، عمران خان

شریف خاندان آئی سی آئی جے اور بی بی سی کے خلاف کیس کریں، عمران خان

اسلام آباد۔ تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارا کیس مریم نواز نہیں بلکہ اس بنیادی نکتے پر ہے کہ لندن فلیٹس میں پیسہ نواز شریف کا ہے جس کی منی ٹریل بتانی اور ذرائع آمدنی دکھانی ہو گی۔ نواز شریف ٹھیک کہتے ہیں کہ جو کرپشن کرتا ہے وہ اپنے نام پر کچھ نہیں رکھتا اس لیے انہوں نے ساری دولت بچوں کے نام کی ہوئی ہے ۔ مسلم لیگ ن عوام کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کے لیے الیکشن کمیشن کی بات کرتے ہیں،الیکشن کمیشن میرے خلاف بھیجے گئے ریفرنس پر فوری فیصلہ سنائے
کیوں کہ میرا دامن صاف ہے اسی لیے مجھے کسی کا خوف نہیں ، ، عدالت پر پورا اعتماد ہے قوم جلد خوشخبری سنے گی اگر نواز شریف بی بی سی پر مقدمہ کر کے جیتتی ہے تو ان کو کرپشن کی ضرورت نہیں ہو گی ۔

ان خیالات کا اظہار تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ عمران خان نے کہا کہ عدالت میں مریم نواز کے وکیل نے واضح کہا ہے کہ مے فےئر فلیٹ کی مالک مریم نواز نہیں ہیں جبکہ جرمن اخبار اور پانامہ دستاویزات پر کام کرنے والا صحافی کہہ رہا ہے کہ مریم نواز ان فلیٹس کی مالکن ہیں ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یا تو مریم نواز کا وکیل سچ بول رہا ہے یا بی بی سی اور جرمن اخبار سچ بول رہا ہے اگر بی بی سی جرمن اخبار اور آئی سی آئی جے کو صحیح مان لیا جائے تو نواز شریف کا کیس ختم ہو جاتا ہے ۔ عمران خان نے نواز شریف سے سوال کیا کہ جن دستاویزات کی وجہ سے آپ کو سپریم کورٹ آنا پڑا اگر وہ جھوٹ پر مبنی ہے تو ساری زندگی آپ کو کرپشن کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی ۔

نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ گلف سٹیل مل نے جو انڈے دئیے ان سے جائیدادیں بنائیں ہیں جو ہم نے ثابت کیا ہے کہ وہ اس قابل نہ تھی کہ منافع دے سکے ۔ آئی سی آئی جے کی دستاویزات کے بارے میں ایک ملک نے بھی یہی کہا کہ یہ غلط ہیں ۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے لندن فلیٹ کبھی تسلیم نہیں کئے تھے مگر جب آئی سی آئی جے میں ان کے خاندان کا نام آیا تو انہوں نے کہانی بنائی اور عدالت میں کہا گیا کہ قطری شہزادے نے میاں شریف کے کہنے پر فلیٹس گفٹ کئے تھے اگر آئی سی آئی جے کے دستاویزات کو مان لیا جائے تو نواز شریف کا کیس زیرو ہو جاتا ہے عمران خان نے کہا کہ تفتیشی اداروں کو تفتیش کرنے کے لیے ملزم کے رشتہ داروں سے تفتیش کرنے کی اجازت ہوتی ہے ۔ نواز شریف ٹھیک کہتے ہیں کہ جو کرپشن کرتا ہے اپنے نام دولت نہیں رکھتا اس لیے انہوں نے بچوں کے نام دولت رکھی ہوتی ہے ۔ کیپٹن صفدر نے دو سال پہلے تک ٹیکس نمبر تک نہیں لیا تھا کہ اس کے پاس کوئی دولت نہیں تھی ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے لوگ عوام کی آنکھوں میں ڈالنے کے لیے الیکشن کمیشن کی بات کرتے ہیں ۔ میرا وکیل تین مرتبہ کیس کی سماعت کے دوران گیا ہے مگر ان کا وکیل نہیں آ رہا ہے میری درخواست ہے کہ کیس کو جلد سنا جائے اور فیصلہ کیا جائے ہماری جماعت اور شوکت خانم کا باقاعدگی سے آڈٹ ہوتا ہے اور ہم وہ آڈٹ حکومت کو جمع کرتے ہیں ۔ شوکت خانم ہسپتال کے چالیس فیصد فنڈ باہر سے آتے ہیں یہ حرام کی فنڈنگ نہیں بلکہ حلال کی فنڈنگ ہے اور باقاعدہ اس کا آڈٹ ہوتا ہے ۔ خواجہ آصف نے چارسو ارب روپے ان آئی پی پیز کو دئیے جنہوں نے الیکشن میں ان کو جتوایا مجھ پر الزامات لگانے والے بی بی سی کو عدالت میں کیوں نہیں لے کر جاتے جب نواز شریف نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ آئی سی آئی جے کی دستاویزات جعلی ہیں تو جرمن اخبار نے سچ ثابت کرنے کے لیے ان کو دوبارہ شائع کیا ہے ۔

انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں آکر وی آئی پی پیز کو 400 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی ہے جنہوں نے 2013 کے الیکشن کے لیے ن لیگ کو فنڈنگ کی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہمارا کیس یہ ہے کہ لندن فلیٹس میں نوازشریف کا پیسہ ہے اور 1993 سے لندن فلیٹس کی ملکیت تبدیل نہیں ہوئی جب کہ اس حوالے سے قطری شہزادے کے خط نے بھی ثابت کردیا ہے کہ معاملے کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے حکومت خود اپنے جال میں پھنس گئی ہے۔چیئرمین تحریک انصاف کا مزید کہنا تھا کہ اسپیکرنے میرے خلاف ریفرنس بھیجا، الیکشن کمیشن میں ن لیگ کا وکیل تین ہفتے سے غیر حاضر ہے، میں درخواست کرتا ہوں کہ الیکشن کمیشن میرے خلاف بھیجے گئے ریفرنس پر فوری فیصلہ سنائے کیوں کہ میرا دامن صاف ہے اسی لیے مجھے کسی کا خوف نہیں۔عمران خان نے پاناما کیس کے حوالے سے منگل کی سماعت کے بارے میں بتایا کہ تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل مکمل کرلیے ہیں اور منی ٹریل کی دستاویزات بھی دکھا دیے ہیں ، عدالت پر پورا اعتماد ہے قوم جلد خوشخبری سنے گی