بریکنگ نیوز
Home / کالم / ٹرمپ:تہذیبوں کاتصادم!

ٹرمپ:تہذیبوں کاتصادم!

اسرائیلی انتظامیہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بطور صدر امریکہ حلف اٹھاتے ہی مشرقی مقبوضہ بیت المقدس میں یہودیوں کے لئے مزید پانچ سو سے زائد مکانات تعمیر کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس سلسلہ میں شہر کے ڈپٹی میئر مائرترجمین نے ایک غیرملکی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ منصوبے پر عملدرآمد کے لئے ہمیں ٹرمپ کے آنے کا انتظار تھا اور اسرائیلی وزیرعظم نیتن یاہو نے گزشتہ سال دسمبر میں سلامتی کونسل میں اسرائیل مخالف قرارداد منظور ہونے پر متذکرہ منصوبے پر عملدرآمد روک دیا تھا۔ اب اسرائیلی وزیراعظم اور امریکی صدر ٹرمپ کے مابین ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے اور دونوں قائدین کے مابین خوشگوار بات چیت کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو امریکی سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا اور اسی کی روشنی میں اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں یہودیوں کے مزید مکان تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اُن کے بقول اس علاقے میں مزید گیارہ ہزار رہائشی یونٹس بنانے کا پلان زیرغور ہے! ڈپٹی میئر مائر نے جو ایک تعمیراتی کمپنی کے سربراہ بھی ہیں‘ کہا کہ اوبامہ دور میں ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے تھے تاہم اب ہم رہائشی یونٹس بالآخر تعمیر کرلیں گے۔ اُن کی اس انتہاء پسندانہ سوچ کی بنیاد پر ہی امریکی مؤثر حلقوں‘ میڈیا گروپس اور عوام ہی میں سخت تحفظات پیدا نہیں ہوئے بلکہ بیرونی دنیا میں بھی ان کے انتخابی منشور پر سخت مخالفت کا اظہار سامنے آیا۔ انہوں نے اپنی پوری انتخابی مہم کے دوران مسلم کمیونٹی کو فوکس کرکے اس پر دہشت گردی کا ملبہ ڈالنا شروع کیا اور اس تناظر میں وہ پاکستان کو بھی ہدف تنقید بناتے رہے جبکہ امریکہ میں مقیم دیگر ممالک کے باشندوں میں ان کے منشور میں دی گئی تارکین وطن کی پالیسی سے عدم تحفظ کا احساس اجاگر ہونے لگا۔ پھر انہوں نے انتخابی مہم کے دوران اسرائیل اور بھارت کے ساتھ فطری اتحادی ہونے کا عندیہ دیا تو ان کے حوالے سے کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ رہی کہ وہ امریکہ کو بنیاد پرست صہیونی معاشرے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

اگرچہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اوبامہ دور میں بھی دہشت گردی کے حوالے سے مسلم کمیونٹی کو رگیدنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی تھی اور دہشت گردی کی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان کے کردار پر جس طرح شکوک و شبہات کا اظہار اور اس سے ’’ڈومور‘‘ کا تقاضا کیا جاتا رہا‘ وہ اسلامی دنیا کی اس پہلی ایٹمی قوت کو دباکر رکھنے کا درحقیقت پوری مسلم امہ کے لئے پیغام تھا جبکہ اب ٹرمپ کی قیادت میں مسلم کمیونٹی کو کچلنے کے امریکی عزائم کھل کر سامنے آنے لگے ہیں چنانچہ صدر منتخب ہونے کے بعد کے ٹرمپ کے اعلانات سے مسلم کمیونٹی اور پاکستان میں ان کے ساتھ خیرسگالی کے نرم رویئے کی جو توقعات پیدا ہوئی تھیں‘ انہوں نے حلف اٹھانے کے بعد اپنے پالیسی بیان کی صورت میں اس پر اوس ڈال دی ہے اور اب ان کا انتہاء پسند صیہونی روپ کھلتا جارہا ہے۔ اسی تناظر میں وہ اپنے منشور ہی کے تابع اقدامات اٹھاتے ہوئے امریکی پالیسیاں وضع کررہے ہیں اور پہلے اقدام کے طور پر انہوں نے دنیا بھر سے امریکی سفیروں کو فارغ کر دیا ہے تاکہ وہ اوبامہ کی واشنگٹن انتظامیہ کا بیرونی دنیا میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کے معاملہ میں کسی قسم کا عمل دخل نہ رہنے دیں اور امریکہ کو اپنی انتہاء پسندانہ سوچ پر مبنی منشور اور پالیسیوں کے تحت چلا سکیں۔ٹرمپ کی یہ پالیسیاں صرف مسلم کمیونٹی کے لئے ہی خطرے کی گھنٹی نہیں بجارہیں بلکہ پوپ فرانسس نے بھی ان کے انتہاء پسندانہ عزائم کا نوٹس لیتے ہوئے دنیا کو باور کرانا ضروری سمجھا ہے کہ ہٹلر کو جرمنوں نے منتخب کیا اور اس نے ملک برباد کردیا۔ اب دیکھیں ٹرمپ امریکہ کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔

اس سلسلہ میں انہوں نے گزشتہ روز ہسپانوی زبان کے ایک اخبار ’’ال پائیس‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکہ میں غیرملکیوں کو دور رکھنے کے لئے خاردار تاروں اور دیواروں کی تعمیر کی پالیسی کی مذمت کی اور کہا کہ ٹرمپ کے بارے میں دیکھیں اور انتظار کریں کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ بحران سے ہی خوف اور خطرے پیدا ہوتے ہیں۔ ٹرمپ اپنے اقتدار کی ابتداء ہی میں مذہبی منافرت کی پیدا کرکے امریکہ کو جس بحران کی جانب دھکیل رہے ہیں‘ دوسری اقوام اور مذاہب کو بجا طور پر اس پر تشویش ہے کہ یہ صورتحال علاقائی اور عالمی تباہی پر منتج ہو سکتی ہے۔ وفاقی وزارت مذہبی امور اور رابطہ عالم اسلامی کے تعاون سے منعقدہ ’’پیغام امن کانفرنس‘‘ میں بھی ٹرمپ کی مسلم دشمن اور مذہبی منافرت پھیلانے والی پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ امریکہ اور بڑی طاقتیں دنیا میں اسلام کا اثرورسوخ روکنا چاہتی ہیں۔ کانفرنس میں ٹرمپ کی حالیہ مسلم دشمن سوچ کے باعث اتحاد امت کی ضرورت پر زور دیا گیا اور کہا گیا کہ یہی وہ مؤثر ہتھیار ہے جس کے ذریعہ مسلم امہ کے سماجی‘ معاشی اور اقتصادی حالات کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ناہید اسرار۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)